• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

داؤد یونیورسٹی کو شعبہ صحت میں مصنوعی ذہانت پر تحقیق کیلئے یورپی یونین کی 2 گرانٹس

کراچی (اسٹاف رپورٹر) داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی تحقیق کیلئے یورپی یونین کی 2026ء کی دو گرانٹس حاصل کرلی ہیں۔ منصوبوں کا مقصد کمیونٹی اور گھروں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے ذہین اور پیشگی طبی نگہداشت کا نظام تیار کرنا ہے۔ داؤد یونیورسٹی کی وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر ثمرین حسین (ستارہ امتیاز، تمغہ امتیاز) اور فیکلٹی آف انفارمیشن اینڈ کمپیوٹنگ سائنسز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ لاکھن منصوبوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ یورپی تعاون کے تحت یونیورسٹی آف برسٹل، برطانیہ کےلیپ ڈیجیٹل ہیلتھ حب اور یونیورسٹی آف دی ویسٹ آف انگلینڈ، برطانیہ کےانٹگریٹڈ کیئر اکیڈمی کے ساتھ دو منصوبوں کیلئے فی منصوبہ 5ہزار یورو کی گرانٹ حاصل ہوئی ہے، جبکہ ناروے کے شراکت دار اداروں کے ساتھ بھی تحقیقی تعاون جاری ہے۔ منصوبے کے تحت داؤد یونیورسٹی کی انجینئرنگ ٹیمیں پاکستان میں کم توانائی استعمال کرنے والی TinyML ٹیکنالوجی کو پہننے کے قابل طبی آلات اور مائیکرو کنٹرولرز پر نصب کر رہی ہیں، جس کے ذریعے مقامی آبادی کو حقیقی وقت میں صحت سے متعلق ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنے میں مدد مل سکے گی۔ داؤد یونیورسٹی کے محققین نے اسپین میں منعقدہ MobiWis 2026 اور ACAI 2026میں بھی صحت سے متعلق انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) نظاموں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے خطرات کی نشاندہی اور جدید سائبر سیکیورٹی، بالخصوص Zero-Day خطرات، سے متعلق تحقیقی مقالے پیش کیے۔

شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید