پشاور(سٹاف رپورٹر )خیبرپختونخوا حکومت نے صوبہ میں اساتذہ کی کمی دور کرنے کیلئے 7 ہزار 946 مزید اساتذہ بھرتی کرنیکا فیصلہ کیا ہے جبکہ جہاں اساتذہ کی رسائی ممکن نہیں وہاں جلد ورچوئل کلاسز کا آغاز کیا جائے گا۔وقفہ سوالات کے دوران ایم پی اے شہلا بانو کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری تعلیم رجب علی عباسی نے بتایا کہ گزشتہ حکومت کے دور میں ایبٹ آباد میں 32 سکولوں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا، بعض سکول مکمل ہوچکے ہیں جہاں کلاسز جاری ہیں جبکہ باقی سکول تعمیر کے آخری مراحل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں کی فنڈنگ کے عمل میں محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) اور محکمہ خزانہ بھی شامل ہوتے ہیں جبکہ ایس این ایز کی منظوری کے باعث بعض سکولوں میں تاخیر ہوئی ہے۔ وزیر تعلیم اس معاملے پر کام کر رہے ہیں اور جلد ان سکولوں میں بھی کلاسز شروع کردی جائیں گی۔اپوزیشن رکن احسان اللہ نے کہا کہ ان کا سوال دو سال پرانا ہے جبکہ فراہم کردہ ڈیٹا ایک سال پرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ نیابت کلاچی میں سکولوں اور طلبہ کی تعداد کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں تاہم بوائز سکولوں سے متعلق مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔رکن اسمبلی پختون یار نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہا کہ بنوں میں ہائی سکول گرا کر دوبارہ تعمیر کرنے کا منصوبہ تاحال زیرالتوا ہے جس سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہورہی ہے، بتایا جائے کہ تعمیراتی کام کب مکمل ہوگا۔ انہوں نے سینیٹین ماڈل سکول میں گرمی کے باعث طالبات کو درپیش مشکلات اور سرمست میراخیل پرائمری سکول میں صرف دو کمروں میں ساڑھے چار سو بچوں کے زیرتعلیم ہونے کی نشاندہی بھی کی۔رکن اسمبلی مخدوم آفتاب نے کہا کہ محکمہ تعلیم کلاس فور کی خالی آسامیوں کی ایس این ایز منظوری کے لیے نہیں بھیج رہا، جن سکولوں میں نائب قاصد اور چوکیدار کی ضرورت ہے وہاں فوری بھرتیاں کی جائیں۔حکومتی رکن انور خان نے کہا کہ اپر دیر میں کئی سال سے سکولوں کی عمارتیں مکمل ہونے کے باوجود کلاسز شروع نہیں ہوسکیں۔ براول ویلی میں بھی متعدد تعمیر شدہ سکول تاحال فعال نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں پر قومی خزانے سے عوام کا پیسہ خرچ ہوا ہے، اس لیے سکولوں کو فعال نہ کرنا بچوں کے ساتھ زیادتی اور حکومتی وژن کے منافی ہے۔پارلیمانی سیکرٹری تعلیم رجب عباسی نے بتایا کہ کلاچی میں 340 بوائز اور 198 گرلز سکول ہیں جبکہ 28 بند سکول پی ٹی سی ہائرنگ کے ذریعے دوبارہ کھولے جاچکے ہیں اور اس وقت صرف دو سکول بند ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اپر دیر اور بنوں کے سکولوں کے حوالے سے پیش رفت سے محرک ارکان کو آگاہ کیا جائے گا۔