پشاور (نیوز رپورٹر) پشاور ہائی کورٹ نے سرکاری ادویات سکینڈل میں گرفتار کارڈیک ٹیکنیشن محمد اسلام کی ضمانت پر رہائی کی درخواست خارج کرتے ہوئے اسے جیل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ درخواست کی سماعت جسٹس وقار احمد اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ محمد اسلام ادویات سکینڈل میں گرفتار ہے اور گرفتاری کو چھ ماہ گزر چکے ہیں تاہم نیب کی جانب سے تاحال تحقیقات مکمل نہیں کی گئیں اور نہ ہی ریفرنس تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات اور ریفرنس کی تیاری میں غیر معمولی تاخیر کے باعث ملزم ضمانت پر رہائی کا حقدار ہے۔نیب کے خصوصی پراسیکیوٹر ارباب کلیم اللہ نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے ایک نجی فارماسیوٹیکل کمپنی کے نام پر کمپنی قائم کی تھی اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر سرکاری ادویات کی طلب اور سپلائی کے معاملات میں رقوم وصول کیں۔ ان کے مطابق ملزم نے مبینہ جعل سازی کے ذریعے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا۔نیب پراسیکیوٹر نے مزید بتایا کہ ملزم تیمرگرہ ہسپتال میں کارڈیک ٹیکنیشن تھا اور مبینہ طور پر سکینڈل کے مرکزی ملزم کے ساتھ ملی بھگت کرکے رقوم نکلواتا رہا۔