انصار عباسی
اسلام آباد … پنجاب حکومت نے نچلی سطح پر ریونیو انتظامیہ میں اب تک کی سب سے بڑی انتظامی اکھاڑ پچھاڑ کرتے ہوئے حالیہ دنوں میں تین ہزار سے زائد پٹواریوں کے تبادلے کیے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ اقدام بدعنوانی پر قابو پانے اور طرزِ حکمرانی بہتر بنانے کی وسیع تر مہم کا حصہ ہے۔ بڑے پیمانے پر پٹواریوں کے تبادلے اس لیے اہم ہیں کہ اگرچہ سرکاری درجہ بندی میں پٹواری نسبتاً نچلے گریڈ کے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں، تاہم انہیں ریونیو نظام کے روزمرہ امور، بالخصوص اراضی ریکارڈ، انتقالات، ملکیتی دستاویزات اور دیگر ریونیو خدمات کے معاملات میں نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہوتا ہے۔ پٹواریوں کے تبادلے روایتی طور پر ایک حساس انتظامی معاملہ رہے ہیں کیونکہ ان کا زمین مالکان، پراپرٹی ڈیلرز اور دیگر متعلقہ فریقوں سے براہِ راست رابطہ ہوتا ہے اور ضلعی ریونیو مشینری کے کام میں ان کا اہم کردار ہے۔ اس لیے حالیہ اقدام کا پیمانہ مریم نواز حکومت کی جانب سے صوبائی ریونیو انتظامیہ کے معاملے میں ایک بڑی کارروائی قرار دیا جا سکتا ہے۔ سرکاری ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق انسدادِ بدعنوانی مہم کے نتیجے میں کئی دیگر محکموں کے اہلکاروں کیخلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔ مہم کے تحت 764؍ پولیس اہلکاروں، محکمہ خوراک کے 179؍ اہلکاروں، بورڈ آف ریونیو کے 41؍ اہلکاروں، محکمہ ایکسائز کے 50؍ اہلکاروں، محکمہ مواصلات و تعمیرات کے 10؍ اہلکاروں اور محکمہ ہاؤسنگ کے 5؍ اہلکاروں کے تبادلے کیے گئے یا ان کیخلاف کارروائی کی گئی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے بھی چھاپے مارے، جن میں 176؍ اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی گئی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ محکمہ معدنیات و معدنی وسائل میں حکومت کی کارروائی کے نتیجے میں مبینہ طور پر نظام میں ردوبدل کیخلاف اقدامات کیے جانے کے بعد ایک سال کے دوران 42؍ ارب روپے کی وصولی (بازیابی) ہوئی ہے۔ تاہم، 42؍ ارب روپے کے اس اعداد و شمار کے حوالے سے یہ وضاحت درکار ہے کہ اصل میں کتنی رقم وصول کی گئی، کتنی رقم ضائع ہونے سے بچائی گئی اور مبینہ ردوبدل کی نوعیت کیا تھی۔ یہ کریک ڈاؤن وزیراعلیٰ مریم نواز کی اعلان کردہ اس پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد بدعنوانی سے نمٹنا اور سرکاری محکموں کی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔ ایک حالیہ بیان میں انہوں نے سرکاری محکموں سے بدعنوان عناصر کے خاتمے کیلئے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ ہزاروں پٹواریوں کیخلاف پنجاب حکومت کی کارروائی کے معمول کے تبادلوں سے بڑھ کر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ محکمہ مال صوبائی انتظامیہ کا شہریوں سے براہِ راست رابطے رکھنے والا ایک اہم شعبہ ہے، جبکہ اراضی سے متعلق معاملات میں تاخیر یا مبینہ بے ضابطگیاں ماضی میں عوامی شکایات کا ایک اہم سبب رہی ہیں۔ لہٰذا اس اکھاڑ پچھاڑ کی کامیابی کا اندازہ محض اس بنیاد پر نہیں لگایا جائے گا کہ کتنے اہلکاروں کے تبادلے کیے گئے، بلکہ اس امر سے لگایا جائے گا کہ آیا اس کے نتیجے میں اراضی سے متعلق مقدمات کو تیزی سے نمٹانے، زمین کے ریکارڈ کی بہتر دیکھ بھال اور بدعنوانی کی شکایات میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے یا نہیں۔ پنجاب حکومت کے اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی انسدادِ بدعنوانی مہم کو ریونیو انتظامیہ سے آگے بڑھا کر پولیس اور محکمہ خوراک سے لے کر ایکسائز، مواصلات و تعمیرات، ہاؤسنگ اور معدنیات و معدنی وسائل تک مختلف محکموں تک پھیلایا جا رہا ہے۔ تاہم، بڑے پیمانے پر پٹواریوں کے تبادلے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ ایک ہی انتظامی اقدام میں شامل اہلکاروں کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ یہ ریونیو نظام کی نچلی ترین عملی سطح پر بدعنوانی اور انتظامی اثر و رسوخ سے نمٹنے کی کوشش کو بھی ظاہر کرتا ہے جہاں سرکاری اہلکار زمین اور جائیداد سے متعلق معاملات کیلئے آنے والے شہریوں سے براہِ راست رابطے میں ہوتے ہیں۔