کراچی(مطلوب حسین )کمسن بچیوں کو اغوا کے بعد ملک کے دیگر صوبوں میں منتقل کیے جانے کے واقعات کی تفتیش اور بازیابی کے لیے پولیس کو درپیش قانونی و انتظامی رکاوٹیں تحقیقات کی رفتار متاثر کرنے لگی ہیں۔ دوسرے صوبوں میں چھاپہ مار کارروائی یا مغوی بچیوں کی بازیابی کے لیے محکمہ داخلہ سے اجازت لینے کا موجودہ طریقہ کار اس قدر طویل ہے کہ پولیس کو فوری کارروائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تفتیشی افسر کی جانب سے تیار کی جانے والی اجازت کی درخواست مختلف مراحل سے گزر کر سیکریٹری داخلہ کے دفتر تک پہنچنے میں کم و بیش ایک ماہ یا اس سے بھی زائد وقت لے لیتی ہے، جس دوران اغوا کاروں کو اپنی جگہ، ٹھکانہ یا مغوی بچیوں کو مزید منتقل کرنے کے مواقع مل جاتے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق کمسن بچیوں کے اغوا کے مقدمات میں وقت انتہائی اہمیت رکھتا ہے، تاہم بین الصوبائی کارروائی کے لیے طویل انتظامی طریقہ کار تفتیشی ٹیموں کی فوری پیش رفت میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض معاملات میں پولیس کو مشتبہ ملزمان اور ممکنہ ٹھکانے سے متعلق معلومات بروقت ملنے کے باوجود کارروائی کے لیے درکار اجازت کے مرحلے کی تکمیل تک صورتحال تبدیل ہوچکی ہوتی ہے۔کمسن بچیوں کے اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام اور ایسے مقدمات کی مؤثر تفتیش کے لیے پولیس میں اسپیشل سیکسول آفنس انویسٹی گیشن یونٹ (SSOIU) کے قیام کے باوجود روایتی انتظامی طریقہ کار تفتیشی عمل کی رفتار پر اثرانداز ہورہا ہے۔ ذرائع کے مطابق خصوصی یونٹ کے قیام کا بنیادی مقصد ایسے حساس مقدمات کی پیشہ ورانہ اور مؤثر تفتیش تھا، تاہم افرادی قوت، وسائل اور بین الصوبائی کارروائیوں سے متعلق انتظامی پیچیدگیاں تاحال موجود ہیں۔