پشاور (جنگ نیوز) ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال دیر اپر کے ایم ایس نے خون کے عطیہ اور 300 روپے فیس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کوئی صداقت نہیں، اصل صورتحال بالکل مختلف ہے۔ اپنے ایک بیان میں ایم ایس نے کہا حقائق کے برعکس اور غلط فہمی پر مبنی خبریں چلانا درست عمل نہیں، حقیقت یہ ہے کہ ہسپتال میں ایمرجنسی صورتحال کے دوران ایک مریض کی حالت تشویشناک تھی اور خون کی اشد ضرورت تھی، ضرورت کے پیش نظر بلڈ بینک میں خون جمع کروانے کے لئے رضاکارانہ طور پر لوگوں سے درخواست کی گئی، لیکن اس بات کو چند عناصر کی جانب سے سوشل میڈیا پر انتہائی غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ ہسپتال ایم ایس نے مزید کہا کہ 300 روپے فیس کسی ملازم کے ذاتی اکاؤنٹ میں نہیں جاتی، بلکہ سرکار کے خزانے میں جاتی ہے، اس لئے عوام من گھڑت باتوں پر توجہ نہ دیں۔