• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دارالحکومت کا محاصرہ خلاف آئین ہوگا، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد (عاصم جاوید) اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین رکنی بنچ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر ممکنہ لانگ مارچ کیخلاف کیس میں قرار دیاہے کہ دارالحکومت کا محاصرہ خلاف آئین ہوگا، پرامن احتجاج آئینی حق ہے، مسلح یا سرکاری وسائل سے چلنے والا مارچ آئینی تحفظ نہیں رکھتا، ایسی سرگرمی جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوں آئین کی خلاف ورزی تصور ہو گی، ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا،پی پی آئی کی عدالتی احکامات کو نظرانداز کرنے کی تاریخ موجود ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 37 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل تین رکنی بنچ کی جانب سے جاری فیصلہ میں کہاگیاہے کہ سیاسی جماعتوں کو پرامن اجتماع اور سیاسی اختلاف کا آئینی حق حاصل ہے۔ شہریوں کی جان، آزادی، عزت، آزادانہ نقل و حرکت اور کاروبار کے حقوق بھی آئینی ہیں۔ سیاسی احتجاج کے حق اور شہریوں کے بنیادی حقوق میں آئینی توازن ضروری ہے۔ سیاسی جماعت کا احتجاج کا حق آئین اور قانون کے تابع ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ ہائیکورٹ قبل از وقت سیاسی احتجاج کے معاملے میں کس حد تک مداخلت کر سکتی ہے؟ عدالت نے کہاکہ اسلام آباد میں آئینی اداروں کے معمول کے کام کا تسلسل بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ شہریوں کو ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور عدالتوں تک رسائی کا حق حاصل ہے۔ آئین کا آرٹیکل 15 شہریوں کو پاکستان میں آزادانہ نقل و حرکت کا حق دیتا ہے۔ آرٹیکل 16 کے تحت شہریوں کو پرامن اور بغیر اسلحہ اجتماع کا حق بھی حاصل ہے۔ اجتماع پر پابندی صرف قانون کے تحت اور مفاد عامہ میں معقول حد تک عائد کی جا سکتی ہے۔ آرٹیکل 17شہریوں کو انجمنیں اور یونینز بنانے کا حق دیتا ہے۔ آزادی اجتماع پر پابندیاں عوامی نظم و ضبط کے مفاد میں قانون کے تحت عائد کی جا سکتی ہیں۔ تفصیلی فیصلہ میں مزید کہاگیاہے کہ 2022 اور 2024 کے احتجاجی مناظر تشدد اور جارحیت کے عکاس تھے۔


اہم خبریں سے مزید