• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ، تین میڈیا ہاؤسز پر وائٹ ہاؤس میں پابندی، خفیہ معلومات لیکس پر اپنی انتظامیہ کو گندے کتے قرار دیدیا

تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک) صدر ٹرمپ نے ایران جنگ سے متعلق خفیہ معلومات افشاہونے پراپنی ہی انتظامیہ میں تفصیلات لیک کرنے والوں پر شدیدبرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ معلومات لیک کرتے رہو‘اوگندے کتو!جب ہم تمہیں پکڑ لیں گے تو تمہیں اس کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی!!!۔۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے تین میڈیا ہاؤسز سی این این ‘ َایم ایس ناؤاورپولیٹیکوپر وائٹ ہاؤس میں پابندی کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے یہ میڈیا ادارے امریکی انتظامیہ کے بارے میں من گھڑت خبریں اور جھوٹ رپورٹ کرتے ہیں‘دیگر جعلی خبریں دینے والے میڈیا اداروں کو بھی اسی طرح کی پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا‘ امریکی صدرکے مطابق ان کے بیٹے ٹرمپ جونیئرنے انہیں بتایا ہے کہ وہ ایک روسی ارب پتی کو رقم واپس کر دیں گے، جس نے رواں سال کے آغاز میں ان کی شادی کی تقریب کے اخراجات ادا کیے تھے۔ادھریمنی حکومتی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ تعز کے ضلع الوازیعہ میں جھڑپوں کے دوران 30 حوثی جنگجو ہلاک اور60زخمی ہوگئے جبکہ 9جنگی گاڑیاں تباہ کردی گئیں ‘دارالحکومت صنعاکی سڑکوں پر ہزاروں افراد نے حوثیوں کی حمایت اور سعودی عرب کی مخالفت میں مارچ کیا۔ پاسداران انقلاب نے ہرمز میں تیل بردار بحری جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیاہے جبکہ جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نےواضح کیا ہے کہ ان کا ملک ہرمز میں اپنے فوجی تعینات کرے گا نہ کسی جنگ کا حصہ بنے گا‘ وائٹ ہاؤس نے میناب میں پرائمری اسکول اور لامرد کے اسپورٹس کمپلیکس پر حملوں سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ مبینہ جنگی جرائم پر امریکا اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتاجبکہ سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محمد باقرذوالقادرکاکہنا ہے کہ جب تک ٹرمپ اورنتن یاہو اقتدار میں ہیں آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی‘ دشمن کی کمر توڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے‘فرانسیسی صدرایمانویل میکخواں نےہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیتے ہوئے کہاہے کہ ایندھن کی قیمتیں ناقابل برداشت ہوچکی ہیں ‘ادھرتہران کی سڑکوں پر لاکھوں ایرانیوں نے حکومت کی حمایت میں ریلی نکالی۔اس موقع پرڈرونز اور مختلف ہتھیاروں کی نمائش بھی کی گئی۔ادھر حوثی جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ سعودیہ نے گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران ان کے زیر کنٹرول علاقوں پر 26 فضائی حملے کیے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے بتایا کہ تازہ لڑائی کے نتیجے میں ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیںاور تقریباً 3 ہزار دیگر افراد سمندر عبور کرکے جبوتی فرار ہوئے ہیں۔بلوم برگ کے مطابق سعودی آرامکونے دویورپی آئل ریفائنریوں کو مطلع کیا ہے کہ انہیں اگلے ماہ خام تیل فراہم نہیں کیا جائے گا۔مزیدبرآں کثیر ملکی مشترکہ بحری افواج کے اتحاد کا اجلاس گزشتہ روز جدہ میںہوا۔اجلاس میں41ممالک سے تعلق رکھنے والے 154 بحری افواج کے سربراہان، منصوبہ ساز، سفیر اور یورپی یونین کے نمائندے شریک ہوئے۔اطالوی وزیردفاع گوئڈو کروسیٹو کاکہنا ہے کہ طائف ایئر بیس پر حملے میں اٹلی کا ایک جنگی طیارہ بھی متاثر ہوا تاہم تمام اطالوی فوجی اہلکار محفوظ رہے۔ یورپی یونین نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں کو حفاظت فراہم کرنے والے اس کے بحری مشن نے الرٹ لیول بڑھا دیا ہے جبکہ خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے کہا ہے کہ ہرمز کو سودے بازی کے لیے مہرہ نہیں بنانا چاہیے۔دریں اثناء اماراتی صدرکے مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے ایران کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کو خطے میں جاری کشیدگی ختم کرنے کے لیے اہم قرار دیا ہے۔دبئی میں عرب میڈیا سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انور قرقاش نے کہا کہ جنگ اور کشیدگی جاری رہنے کی صورت میں خطے کا مستقبل تعمیر نہیں کیا جاسکتا‘وقت آگیا ہے کہ بحران ختم کرنے کے لیے مذاکرات اور رابطے جاری رکھے جائیں۔مستقبل کے لیے پہلا قدم حملے روکنا ہونا چاہیے کیونکہ حملوں کے دوران نئے مستقبل کے لیے مذاکرات ممکن نہیں۔انور قرقاش نے سعودی عرب پر حملوں کو اماراتی سلامتی اور خوشحالی کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا۔

اہم خبریں سے مزید