ریاض، اسلام آباد(اے ایف پی، نیوز رپورٹر) ایران کے سیکورٹی چیف محسن رضائی نے کہا ہے کہ جنگ بندی سے متعلق ایرانی شرائط پاکستان کے حوالے کردی ہیں، امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کےلئے مذاکرات کی دوبارہ شروعات کے پیشِ نظر ثالثوں کو اپنی شرائط سے آگاہ کر دیا ہے،ان شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، ایرانی اثاثوں کو واگزار کرنا اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے،قطر اور پاکستانی ثالثوں سے مشاورت جاری ہے جبکہ تہران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب کا منتظر ہے،انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع کا خاتمہ چاہتا ہے،میرے خیال میں حوثی بھی سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کے خواہا ں ہیں،ایرانی وزارت داخلہ کے ترجمان علی زینیوند نے تصدیق کی ہے کہ مسائل کے حل اور اسلام آبادایم اویوپرواپسی کی سفارتی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، ایران کامطالبہ ہے کہ دوسرا فریق اس معاہدے میں کیے گئے اپنے وعدوں پر قائم رہے ، دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بات کی ،دونوں رہنمائوں نے تازہ ترین علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا،دونوں رہنمائوں نے نیویارک میں ملاقات پر اتفاق کیا ،ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے توانائی کی بلا تعطل فراہمی اور بحری جہازوں کی محفوظ اور تیز رفتار آمدورفت کی اہمیت پر زور دیا۔ تفصیلات کے مطابق ایرانی وزارت داخلہ کے ترجمان علی زینی وند نے نیوز بریفنگ میں کہا کہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل سے منظور شدہ معاہدےکو ایران کاباضابطہ فیصلہ تصور کیا جاتا ہے۔اسلام آباد معاہدے کی طرف واپسی کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ وزارت داخلہ کے ترجمان علی زینیوند نے کہا کہ تہران توقع کرتا ہے کہ دوسرا فریق اس معاہدے کے اپنے پہلو کا احترام کرے گااوراپنے وعدوں پر قائم رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے کی ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سمیت ایرانی ریاست کی اعلیٰ سطحوں پر منظوری دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور کرغزستان میں شنگھائی اور برکس اجلاسوں میں صدر کی شرکت کے ساتھ اور گہری مشاورت کے ذریعے فعال سفارت کاری جاری ہے۔دریں اثناء ہفتہ کو ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباسی عراقچی سے رابطہ کیا ۔