• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ریاض ایئرپورٹ کے قریب شعلے، دھوئیں کے بادل، پہلی بار فضائی حملے کا الرٹ جاری

ریاض (اے ایف پی، جنگ نیوز) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض ائیر پورٹ کے قریب آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بادل دیکھے گئے ہیں، فیول ٹینک میں آگ لگ گئی جبکہ دو دھماکے سنے گئے،سعودی دارالحکومت میں پہلی بار فضائی حملے کا الرٹ جاری کیا گیا ، یمن میں سرگرم سعودی اتحاد نے حوثیوں پر الزام عائد کیاہے کہ انہوں نے ریاض کی طرف بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا جسے فضا ء ہی میں تباہ کرکے ناکام بنادیا گیا ،حوثیوں کے عسکری ترجمان امین حیان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے ریاض میں "حساس" سائٹس کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے، جبکہ ینبع میں واقع آرامکو (ARAMCO) کی تنصیب کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے،سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کےدعوے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے اور بحری آمد ورفت کو درپیش خطرات کی مذمت کی ہے ، یمنی فورسز نے کہا ہے کہ انہوں نےمارب شہر پر حوثیوں کا حملہ ناکام بناتے ہوئے 12جنگجوئوں کو ہلاک کردیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق یمن میں برسرِ پیکار سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا ہے کہ ایران کے حامی گروپ نے ہفتے کو علی الصبح ریاض کی طرف ایک بیلسٹک میزائل داغا جسے فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا گیا، اس سے قبل دارالحکومت کے رہائشیوں نے شدید دھماکوں آوازیں سننے کی اطلاع دی تھی۔اتحادی ترجمان نے ایکس (ٹوئٹر) پر لکھا کہ "حوثیوں نے بیشہ، طائف، فرسان اور ینبع میں بھی شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی"، انہوں نے مزید کہا کہ "ان حملوں کو ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا"۔سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے رہائشیوں نے ائیر پورٹ کے قریب دھوئیں اور شعلے اٹھنے کا بتایا ہے ۔اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق، فائر فائٹرز نے ایئرپورٹ کے قریب ایک فیول ڈپو پر موجود سعودی تیل کی بڑی کمپنی آرامکو کے لوگو والے فیول ٹینک پر لگی آگ پر قابو پالیا۔فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 نے سعودی دارالحکومت کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر "بڑے مسائل" کی اطلاع دی اور معمول کی ٹریفک بحال ہونے سے پہلے کچھ دیر کے لئے اسے اپنے زیادہ سے زیادہ خلل کے انڈیکس میں درج رکھا۔یہ خلل سعودی حکام کی جانب سے رات گئے جاری کردہ فضائی حملے کے الرٹ کے بعد سامنے آیا، جو اس ماہ ہمسایہ ملک یمن میں لڑائی تیز ہونے کے بعد سے اس نوعیت کی پہلی وارننگ تھی۔علاقائی عسکری ذرائع نے ہفتے کے روز فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ جنوبی یمن میں سعودی حمایت یافتہ سرکاری افواج اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان حالیہ گھنٹوں میں ہونے والی جھڑپوں میں 48افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔سرکاری عسکری ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک روز کے دوران ان کے 17اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ حوثیوں نے اپنے 31جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

اہم خبریں سے مزید