• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ریاست فیصلہ کرے پاکستان بچایا جائے یا پیپلزپارٹی کی فرمائشوں کا خیال رکھا جائے، مصطفیٰ کمال

کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئرمرکزی رہنما و وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ انتظامی یونٹس کی مہم لیڈ کرنے والا شخص، ادارہ یا حکمراں ہمارا ہیرو ہوگا، کیوں کہ وہ پاکستان بچائے گا، وقت آگیا ہے کہ ریاست فیصلہ کرے کہ پاکستان بچایا جائے یا پیپلز پارٹی کی فرمائشوں کا خیال رکھا جائے!متحدہ، سندھ کی بیرونی سرحدیں چھیڑے بغیر انتظامی ری اسٹرکچرنگ چاہتی ہے جس کی اپنی اسمبلی، اپنا چیف ایگزیکٹو ہو اور این ایف سی کا پیسہ بھی براہ راست ان انتظامی یونٹس میں آئے، اندرون سندھ تباہی کی داستان،سندھی مظلوم ہیں، انتظامی یونٹس بننے سے جان مال محفوظ ہوگا۔وہ متحدہ کے مرکز بہادرآباد میں پریس کانفرنس کررہے تھے، جس میں انیس قائم خانی، فرقان اطیب، دیگر مرکزی رہنما اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہاکہ سندھی ہماری قوت، عزت اور جسم کا حصہ ہیں، ہم ان کی قوت، عزت اور جسم کا حصہ ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھی کارڈ کے پیچھے اب اپنی بد انتظامی اور کرپشن چھپا سکتی ہے نہ سندھی مہاجر فسادات کروا سکتی ہے، کیوں کہ آج کراچی میں تمام زبانیں بولنے والے باہمی محبت سے رہ رہے ہیں، قتل و غارت ہونا ہوتی تو ولیکااسپتال کراچی اور لاڑکانہ میں غلط سرنجز کے ذریعے بچوں میں ایڈز پھیلانے، پینے کا پانی نہ ملنے، ڈمپرز کے نیچے کچلنے، گٹروں میں گر کر مرنے، 10 ہزار روپے کا فون چھین کر مار دینے، سرکاری نوکریاں نہ دینے، جعلی ڈومیسائل پر شہری سندھ کا کوٹہ بیچ دینے اور ہر سرکاری ادارے میں رشوت کا بازار گرم ہونے پر ہوچکی ہوتی! انہوں نے کہا کہ جس ایم کیو ایم سے پیپلز پارٹی سندھی قوم کو ڈرا رہی ہے، اس نے اپنے لیڈر ہی کو فارغ کرکے قتل و غارت ختم کروائی! حالاں کہ جب قتل و غارت کا سلسلہ چل رہا تھا تب پیپلز پارٹی کو اس ایم کیو ایم سے کوئی مسئلہ نہ تھا! پیپلز پارٹی والے لندن میں گھنٹوں اُس ایم کیو ایم کے لیڈر سے مشاورت کرتے، اجرک اور ٹوپیاں پہناتے! اب پیپلزپارٹی سندھی قوم کو ان 400 حرام کمانے والوں سے جوڑنے کی سازش کررہی ہے جو اس موجودہ نظام کے سب سے بڑے بینیفشری ہیں۔ایم کیو ایم کے سینئر رہنما نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم نے پاکستان کو آزاد ریاستوں میں توڑ دیا، ہم پاکستان کو جوڑ رہے ہیں، سندھ کے بدانتظام، بد عنوان اور کرپٹ حکمراں آزادی کا اعلان اس لیے نہیں کرتے کیوں کہ انہیں ہر سال پاکستان کے خزانے سے ڈھائی ہزار ارب روپے ملتے ہیں، سندھی اس خطے کی سب سے مظلوم قوم ہیں، حیدرآباد سے آگے بڑھتے ہی اندرون سندھ تباہی، بربادی اور کرپشن کی الم ناک داستان بیان کررہا ہے لیکن فریاد نہیں کر سکتا! ظلم کے خلاف آواز بلند نہیں کر سکتا! کیوں کہ یا تو وہ قتل کر دیا جائے گا، یا لاپتہ کردیا جائے گا، اس کی فصلوں کا پانی بند کر دیا جائے گا، بے جرم قید کر لیا جائے گا، متحدہ، اندرون سندھ کے مظلوم سندھیوں کا مقدمہ لڑ رہی ہے، ہم یقین دلاتے ہیں کہ انتظامی یونٹس بننے کے بعد سندھیوں کی جان، مال، عزت اور آبرو پہلے سے زیادہ محفوظ ہوجائے گی، پیپلز پارٹی کے سینئر ترین راہنماء فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا نام لے کر جو کلمات ادا کر رہے ہیں اُس نے حکمراں پیپلز پارٹی کی پاکستان، اس کے اداروں کے خلاف بغض، نفرت اور عوام دشمنی بےنقاب کردی ہے۔

اہم خبریں سے مزید