کراچی ( اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی ایئرپورٹ کی توسیع اور سکھر میں گرین فیلڈ ایئرپورٹ بنانے کے منصوبے پر پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ساتھ رابطہ کاری اور زمین و رابطوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کردی، مجوزہ منصوبوں کے تحت سکھر ایئرپورٹ پر سالانہ 16 لاکھ مسافروں کی گنجائش، جناح انٹرنیشنل پر 285 فٹ بلند اے ٹی سی ٹاور اور بورڈنگ برجز کی تعداد 12 سے بڑھا کر 25 کرنے کی تجویز ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سے پی اے اے کے ڈی جی ایئر وائس مارشل ذیشان سعید کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی، جس میں سکھر گرین فیلڈ، جناح انٹرنیشنل کی بہتری و توسیع، حیدرآباد ایئرپورٹ کی اپ گریڈیشن اور کیٹی کو پاکستان کی پہلی ایوی ایشن یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، کمشنر کراچی حسن نقوی جبکہ پی اے اے وفد میں ڈپٹی ڈی جی سمیر سعید، ڈائریکٹر کاشف شاہ سمیت دیگر افسران شریک تھے۔پی اے اے نے بریفنگ میں بتایا کہ سکھر کا نیا ایئرپورٹ بالائی سندھ اور ملحقہ علاقوں کے لئے علاقائی گیٹ وے کے طور پر کام کرے گا، جو کراچی سے رخ موڑنے والی پروازوں کے لئے متبادل کے طور پر بھی استعمال ہوسکے گا۔ فزیبلٹی کے مطابق موجودہ سکھر ایئرپورٹ کو فضائی حدود اور زمین کی رکاوٹوں کا سامنا ہے، جبکہ تین گھنٹے کے سفری دائرے میں 2 کروڑ 96 لاکھ آبادی آتی ہے۔ نئے ایئرپورٹ کے لئے تقریباً 3 ہزار ایکڑ زمین درکار ہوگی اور حکومت سندھ کو پی پی پی کے تحت زمین کو ایکویٹی کے طور پر شامل کرنے کی دعوت دی گئی۔جناح انٹرنیشنل کی بہتری پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ مسافر سہولیات، فرش، چھتوں، روشنی، سائن بورڈز اور وادی سندھ کی تہذیب کے ثقافتی ورثے کے عناصر شامل کیے جارہے ہیں، پی سی ون اور ڈیزائن کی تیاری جاری ہے اور مدت دو سال ہے۔