کراچی(رفیق مانگٹ)ایشیا میں دولت کے توازن میں بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے جہاں ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس کے بانی ژانگ یمنگ 292 کھرب 4 ارب روپے( 105.5 ارب ڈالر )کی مجموعی دولت کے ساتھ خطے کے امیر ترین شخص بن گئے ہیں، انہوں نے بھارتی ارب پتی گوتم اڈانی کو پیچھے چھوڑ دیا، جن کی دولت کا تخمینہ 290 کھرب 11 ارب روپے(104.8 ارب ڈالر) ہے،ایلون مسک امیر ترین ، دولت تقریباً 2769 کھرب روپے،گوگل کے شریک بانی لیری پیج 811 کھرب کے مالک اور دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص ہیں،- ژانگ کی دولت میں صرف ایک ماہ میں 33 کھرب 22 ارب روپے( 12 ارب ڈالر) اور 2019 کے بعد مجموعی طور پر تقریباً 254 کھرب 67 ارب روپے( 92 ارب ڈالر) کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اس غیر معمولی ترقی میں مصنوعی ذہانت کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ ایشیا میں تیسرے امیر ترین شخص مکیش امبانی 225 کھرب 5 ارب روپے ( 81.3 ارب ڈالر) ہےفصیلات کے مطابق بائٹ ڈانس کے بانی ژانگ یمنگ کی مجموعی دولت بلومبرگ کے اندازوں کے مطابق 104.8 سے بڑھ کر 105.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس کے بعد وہ ایشیا کے امیر ترین فرد بن گئے ہیں۔ ژانگ یمنگ کمپنی کے تقریباً 21 فیصد حصص کے مالک ہیں، جس کے باعث کمپنی کی ویلیو میں اضافہ براہ راست ان کی دولت میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق صرف ستمبر 2026 کے دوران ہی ژانگ یمنگ کی دولت میں 12 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ بلیک راک اور فیڈیلیٹی کی جانب سے کمپنی کی نئی ویلیوایشن قرار دی گئی ہے۔ 2019 میں جب بلومبرگ نے ان کی دولت کا حساب شروع کیا تو وہ محض 36 کھرب روپے(13 ارب ڈالر )کے مالک تھے، اس طرح اب ان کی دولت تقریباً آٹھ گنا بڑھ چکی ہے۔اگرچہ امریکہ میں ٹک ٹاک کو ریگولیٹری دباؤ اور ممکنہ پابندیوں کا سامنا رہا، تاہم اس کے باوجود کمپنی کی ترقی کا سفر جاری رہا۔ ٹک ٹاک کے دنیا بھر میں یومیہ فعال صارفین کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ چینی ایپ دوئین کے صارفین بھی کروڑوں میں ہیں، جو کمپنی کی آمدن اور ڈیٹا بیس کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق بائٹ ڈانس نے امریکی دباؤ کے دوران ہی مصنوعی ذہانت پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی اور اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ڈیٹا کو اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا، جو مستقبل میں کمپنی کے لیے سب سے بڑا ترقیاتی ذریعہ بن سکتا ہے۔