کوئٹہ(نمائندہ جنگ)بلوچستان میں کالعدم تنظیموں سے منسلک رہنے والی تربت کے علاقے تمپ کی رہائشی خدیجہ پیر جان اور بیسیمہ سے تعلق رکھنے والی صفیہ عبدالخالق نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیمیں بچیوں کو ورغلاتی ہیں ، لڑکیوں سے اپیل ہے وہ ان کے بہکاوے میں نہ آئیں ۔ یہ بات انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔ خدیجہ پیر جان نے کہا کہ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گاوں تمپ سے جبکہ تربت ڈگری کالج سے بی ایس سی کی تعلیم مکمل کرکے بولان میڈیکل یونیورسٹی کوئٹہ سے نرسنگ میں بی ایس کررہی ہوں میرا شوہر حاصل عرف دودا کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا اس نے میرے بھائی کو بھی اس تنظیم سے منسلک کیا 2022ء میں میرا شوہر ایک مقابلے میں مارا گیا اس کے بعد میرے بھائی اور اس کے ایک دوست نے مجھ سے رابطہ کیا اور میرے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور کالعدم تنظیم کے حوالے سے میرے سات بات چیت کی اور مجھے ملک کے خلاف ورغلایا میں نے مذکورہ کالعدم تنظیم کیلئے کام بھی کیا ، کوئٹہ سے ان کیلئے کپڑے ، جوتے ، خشک فروٹ ، کھانے پینے کا سامان اور ادویات لے کر بھیجتی تھی ، میرے بھائی اور اس کے ساتھی نے مجھے بتایا تھا کہ ان کا تعلق ایک زرینہ نامی خاتون سے بھی ہے جس نے 30 نومبر 2025ء کو نوکنڈی میں دھماکہ کیا ، مجھے بھی پہاڑوں میں آکر اس طرح کا عمل کرنے کا کہا گیا لیکن زرینہ کے عمل کے بعد مجھے کوئٹہ سے اٹھالیا گیا اور میں نے جو کچھ کیا اس پر شرمندہ ہوں اور یقین دلاتی ہوں کہ آج کے بعد اس طرح کا کوئی عمل نہیں کروں گی اور اپنے بلوچ بھائیوں اور بہنوں سے درخواست کرتی ہوں کہ اس طرح کے عمل سے خود کو منسلک نہ کریں اور اپنی زندگی کو برباد نہ کریں ۔