نیویارک (محمد صالح ظافر ،خصوصی تجزیہ نگار) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81؍واں سربراہ اجلاس زور و شور سے جاری ہے شرکت کے لئے عالمی سربراہان حکومت و مملکت کی آمد آج سے شروع ہےـ۔ شہباز شریف کل نیویارک پہنچیں گے،ٹرمپ، پزشکیان،نتن یاہو سمیت73 سربراہان خطاب کریں گے۔ اقوام متحدہ کے ذرائع نے جنگ /دی نیوز کو یہاں بتایا ہے کہ نیویارک میں سیکورٹی کے حوالے سےسخت ترین اقدامات نافذ کردیئے گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ منگل کے روز عالمی ادارے سے خطاب کرینگے جبکہ ایران کے صدرمسعود پژشکیان اس سے اگلے روز اقوام متحدہ سے مخاطب ہونگے دونوں ممالک ایک دو سرے کے ساتھ برسرپیکار ہیں۔ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ اس عالمی اجتماع کو ایک دوسرے کو شاخ زیتون پیش کرنے کے لئے استعمال نہیں کرینگے بلکہ اپنی جانب سے اس خونریزی کا جواز پیش کرینگے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ فریقین جنگ ختم کرنے کے لئے اپنی اپنی تجاویز سامنے لائیں گے اسی جنگ میں تباہی و بربادی کے اصل ذمہ دار اور مشرق وسطی کو جنگ میں جھونک دینے کے حقیقی ذمہ دار اسرائیل کا وزیراعظم نتن یاہو بھی ایرانی صدر کی تقریر کے بعد اظہار خیال کرے گا۔ پاکستان کے وزیراعظم شہبازش ریف اپنے وفد کے ہمراہ کل اقوام متحدہ کے صدر دفتر پہنچیں گے وہ صدر ٹرمپ کی طرف سے اس عشائیے میں مدعو ہیں جو اقوام متحدہ کے صدردفتر سے متصل لوٹی ہوٹل میں دیا جارہا ہے اور اس میں سرکردہ عالمی رہنما شرکت کرینگے جواقوام متحدہ کے اجلاس میں حصہ لینے کے لئے پہنچ رہے ہیں۔