• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خلیج ہائی الرٹ، ایران پر بڑا فیصلہ لے رہا ہوں، ٹرمپ، جواب دردناک ہوگا، تہران

تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک) آبنائے ہرمز کے اوپرامریکی ڈرون نشانہ ‘ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی یو این جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ‘ مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں موجود امریکی سفارت خانوں کا سکیورٹی ہائی الرٹ ‘امریکی سرکاری ملازمین کو طائف اور ینبع کے سفر کے لیے خصوصی اجازت حاصل کرنا ضروری قرار‘ امریکی بمبار طیارے برطانیہ سے روانہ ہوگئے ‘ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے پر بڑا فیصلہ لینے کے مرحلے پر ہوں‘ مستقبل میں بڑے اہم واقعات رونما ہوں گے‘ بہتر ہوگا کہ ایرانی محتاط رہیں اور درست اقدام کریں‘اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر صدر پزشکیان سے ملاقات کا امکان ہے ۔ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں اپنی ہفتہ وار تعطیلات مختصر کر دیں اور اچانک وائٹ ہاؤس واپس پہنچ گئے۔دوسری جانب خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے نیا حملہ کیا تو درد ناک جواب دیا جائے گا‘امریکا کا ساتھ دینے والے خطے کے ممالک کو بھی نتائج کا سامنا کرنا پڑیگا جبکہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران نے مذاکرات کے آغاز کے لیے سات شرائط مقرر کی ہیں۔اگر واشنگٹن بحران سے نکلنا اور اس میں مزید الجھنے سے بچنا چاہتا ہے تو ان شرائط کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے دعویٰ کیا ہے کہ موصولہ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق امریکا نے ایک بار پھر ایران کے خلاف کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جسے بعض علاقائی ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔ یہ فیصلہ ایک یورپی ملک میں ہونے والے مشترکہ اجلاس کے دوران کیا گیا۔ قطر کا کہنا ہے کہ وہ امریکا ایران مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے کوششیں کر رہا ہے‘ ہمیں امریکی انتظامیہ کی جانب سے یقین دہانیاں ملی ہیں کہ واشنگٹن کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے‘ادھر امارات میں امریکی مشن نے انتباہ جاری کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال پیچیدہ ہے اور حالات میں غیر متوقع طور پر شدت آنے کا امکان موجود ہےجبکہ سعودی عرب نے تصدیق کی ہے کہ حوثی جنگجوؤں نے دارالحکومت ریاض کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم میزائل کو روک کر تباہ کر دیا گیا ۔عراقی کردستان میں واقع اربیل ایئرپورٹ کے قریب اتوار کو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں‘اس ایئرپورٹ پر اتحادی افواج کے اہلکار تعینات ہیں۔ حکام کے مطابق یہ دھماکے فوجی تربیت اور سکیورٹی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہوئے اور ان سے کسی قسم کا خطرہ نہیں تھا۔امریکی محکمہ خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب اورحوثیوں کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر سکتی ہے‘قطر انرجی کے سی ای اوسعد الکعبی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے باعث کمپنی کے بعض ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد میں تاخیر ہو سکتی ہے کیونکہ منصوبوں کے لیے درکار ضروری سامان قطر تک نہیں پہنچ پا رہا۔ تفصیلات کے مطابق فاکس نیوز کو انٹرویو میں صدرٹرمپ کا کہناتھاکہ وہ وہ ایران کے حوالے سے مستقبل قریب میں پیش آنے والے انتہائی اہم معاملات پر فیصلہ کرنے کے مرحلے میں ہیں۔

اہم خبریں سے مزید