کراچی (رفیق مانگٹ) امریکی یہودی ووٹرز میں نیتن یاہو کے خلاف 61فیصد منفی رائے، صرف 34فیصدحمایت،52فیصد امریکی یہودی اسرائیلی فوجی امداد میں کمی یا مکمل بندش کے حامی،60 فیصد امریکی یہودی نیتن یاہو کی تبدیلی کے حق میں، دوبارہ انتخاب کی حمایت صرف 16 فیصد،حالیہ امریکی، اسرائیلی اور عالمی سرویز کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو اندرون و بیرون ملک رائے عامہ میں نمایاں کمی اور بڑھتی ہوئی مخالفت کا سامنا ہے۔ مختلف تحقیقی اداروں کے ڈیٹا کے مطابق ان کے سیاسی اعتماد، مقبولیت اور قیادت پر سوالات شدت اختیار کر گئے ہیں۔امریکی یہودی ووٹرز کے تازہ سروے کے مطابق 61 فیصدنے نیتن یاہو کے بارے میں ناموافق رائے دی، جبکہ صرف 34فیصد نے موافق رائے ظاہر کی۔ اسی سروے میں 60 فیصدجواب دہندگان نے ان کی تبدیلی کی حمایت کی جبکہ صرف 16فیصد دوبارہ انتخاب کے حق میں ہیں۔ 56فیصد کا خیال ہے کہ ان کی پالیسیوں نے امریکہ میں سام دشمنی میں اضافہ کیا ہے۔اسی سروے اور متعلقہ جائزوں کے مطابق 52 فیصدامریکی یہودی اسرائیل کو دی جانے والی 3.3 ارب ڈالر فوجی امداد میں کمی یا مکمل بندش کے حامی ہیں، جن میں 17فیصد مکمل بندش اور 36فیصدکمی کے حق میں ہیں۔ پارٹی لائن کے مطابق 63 فیصدڈیموکریٹس امداد میں کمی چاہتے ہیں جبکہ ریپبلکن اور آزاد ووٹرز کی اکثریت موجودہ سطح برقرار رکھنے کے حق میں ہے۔ اسرائیل کے اندر سیاسی صورتحال بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ متعدد پولز کے مطابق 48فیصد اسرائیلی گاڈی آئزن کوٹ کو وزیر اعظم کے طور پر ترجیح دیتے ہیں جبکہ 40فیصد نیتن یاہو کی حمایت کرتے ہیں۔ ایک اور سروے میں 44فیصد نے نفتالی بینیٹ کو ترجیح دی جبکہ نیتن یاہو کی حمایت 41فیصد رہی۔ جولائی 2026کے ایک پول میں آئزن کوٹ 47فیصدکے ساتھ نیتن یاہو 44 فیصدسے آگے نکل گئے۔