اسلام آباد (مہتاب حیدر) ملک کے قیام کے بعد سے اب تک عوامی شعبے میں اصلاحات کیلئے 25سے زائد کمیشنز اور کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں، تاہم ان کے اثرات بہت محدود رہے ہیں۔ وزیراعظم کی سول سروس اصلاحات کمیٹی کو اس حوالے سے آگاہ کیا گیا کہ یہ سوال بھی زیربحث ہے کہ تازہ ترین کوشش بھی کہیں ایک اور بے نتیجہ مشق ثابت نہ ہو، کیونکہ گزشتہ 78 برسوں کے دوران سول سروس میں مطلوبہ تبدیلیاں لانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ وزیراعظم کی سول سروس اصلاحات کمیٹی نے اپنی سفارشات میں تسلیم کیا ’’قیام پاکستان کے بعد سے عوامی شعبے میں اصلاحات کے لیے 25 سے زائد کمیشنز اور کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں، تاہم ان کے اثرات بہت محدود رہے ہیں۔ 1973 اور 2001 میں کی جانے والی بعض تبدیلیوں کے علاوہ، نوآبادیاتی ورثے پر مبنی سول سروس کا نظام اب بھی سینیارٹی کی بنیاد پر قائم ایک درجہ بندی پر مبنی بیوروکریسی ہے، جس کی توجہ انتظامی استحکام اور اندرونی نگرانی پر مرکوز ہے۔‘‘ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ 1940 کی دہائی میں سر وکٹر ٹرنر رپورٹ (1947-48) تیار کی گئی تھی، جس میں حکومت پاکستان کی ہر وزارت کے لیے عملے کی ضروریات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ ہاؤس کمیٹی کی رپورٹ (1948) میں وزارتوں کے تنظیمی ڈھانچے اور اخراجات پر تفصیلی بحث کی گئی تھی۔ 1950 کی دہائی کے دوران پے کمیشن — جسٹس ایم۔ منیر (1950) تشکیل دیا گیا۔ اس کے بعد رولینڈ ایگر رپورٹ (1953) تیار کی گئی، جس میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مرکزیت میں کمی کے لیے تنظیم و انتظام یونٹس کے قیام کی سفارشات پیش کی گئیں۔ گلیڈیو رپورٹ (1955) میں حکومتی نگرانی میں توازن، وزارتوں کے انضمام اور اختیارات کی تفویض سے متعلق تجاویز دی گئیں۔