اسلام آباد (نیوز رپورٹر) وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ نہ اسلام آباد سومنات ہے اور نہ یہ شخص محمود غزنوی ہے، اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت، اسلام کا قلعہ اور وفاق کی علامت ہے۔پاکستان نے پانچ دہائیوں تک افغانوں کو پناہ دی اور اپنے محدود وسائل میں انہیں حصہ دار بنایا، جبکہ نیٹو افواج کے انخلا کے بعد نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید رکھی گئی تھی کہ پاکستان کی سرحد محفوظ ہوگی اور ہمسائے امن سے رہیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پراپنے مختلف بیانات میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی زبان بتا رہی ہے کہ یہ کتنے پاکستانی ہیں اور اقتدار کے حصول کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں، عمران خان نے انہیں کیا سبق پڑھایا ہے۔ وفاقی وزیر دفاع نے سوال کیا کہ خیبرپختونخوا میں روز بہنے والے خون سے کیا ان کا دل نہیں روتا؟ کیا طالبان ان کے اتحادی ہیں جو خیبرپختونخوا پولیس اور بہادر جوانوں کی شہادتوں کا سدباب کرنے کے بجائے مزید انتشار اور نفرت پھیلا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو جس حملے کی یہ بات کر رہے ہیں، کیا وہ طالبان کا حملہ ہے؟ کیا پاکستان میں مقیم افغان اس لشکر کا حصہ ہوں گے؟ وفاق پوری قوت سے اسلام آباد کا دفاع کرے گا۔خواجہ آصف نے کہا کہ عمران نیازی اور ان کے حواری اقتدار کے حصول کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں، ہم نے 9مئی کو دیکھا، 26نومبر کو دیکھا اور اب یہ شخص اپنے عزائم بتا رہا ہے، پاکستان کے عوام ان کی اصلیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کل بھی امن، ترقی اور پاکستان کے دشمن تھے، آج بھی ہیں اور کل بھی ہوں گے۔