• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کینسر، بیروزگاری، فاقہ کشی نے خاندان نگل لیا، فلیٹ سے میاں بیوی اور 3 معصوم بیٹیوں کی لاشیں برآمد

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کینسر، بیروزگاری، فاقہ کشی نے خاندان نگل لیا۔ احسن آباد میں واقع رہائشی اپارٹمنٹ سے میاں بیوی اور 3 کمسن بیٹیوں کی کئی روز پرانی لاشیں ملی ہیں۔ گردے کے کینسر میں مبتلا ڈاکٹر عمر نے بیماری پر نوکری چھوڑی، آخری تنخواہ بھی ڈاکو لوٹ لے گئے،جس کے باعث وہ شدید مالی مشکلات کا شکار تھا۔ اوون بیچ کر بچوں کا پیٹ پالنے کی کوشش کی۔ ماں نے بچیوں کیلئے گھر کا اوون 10 ہزار میں بیچنا چاہا، پڑوسی نے2ہزار دیکر ٹال دیا، ڈاکٹر کلینک بند ہونے پر ٹوٹ گیا، آخری بار 3دن پہلے دیکھا گیا۔ 10سالہ زینب سمیت 3کلیاں ماں باپ کے ساتھ ایک ہی کمرے میں دم توڑ گئیں، کئی روز تک کسی کو خبر نہ ہوئی، لاشوں سے بدبو آنے پر راز کھلا۔ متوفی ڈاکٹر عمر کے سرہانے فلیٹ کی چابیاں، کمرے میں خاموش لاشیں، نہ موبائل نہ کوئی سہارا، بھوک اور بے بسی نے موت کی چادر تان دی۔ تفصیلات کے مطابق سائٹ سپر ہائی وے صنعتی ایریا تھانے کی حدود اسکیم 33 سیکٹر 1 احسن آباد میں واقع رہائشی اپارٹمنٹ لاکھانی ٹوئن ٹاور کے بلاک B کی ساتویں منزل کے فلیٹ نمبر 707 سے 3 کمسن بچیوں سمیت 5 افراد کی لاشیں ملیں، موقع کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور پولیس نے فلیٹ سے شواہد اکٹھا کرنے کے لئے کرائم سین یونٹ کو بھی موقع پر طلب کر لیا، فلیٹ سے ملنے والی لاشیں 45 سالہ ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ 35 سالہ مہوش اور 3 بیٹیوں 10 سالہ زینب اور 2 کمسن بیٹیوں کی شناخت نہیں ہو سکی، پانچوں لاشیں فلیٹ کے ایک ہی کمرے سے ملی ہیں ڈاکٹر عمر کی لاش صوفے اور باقی لاشیں میٹرس سے ملی ہیں پانچوں لاشیں کئی روز پرانی معلوم ہوتی ہیں، ایس ایچ او سائٹ سپر ہائی وے محمد نواز نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ڈاکٹر عمر قریب واقع ایسٹ سٹی اسپتال میں ملازمت کرتا تھا انہوں نے 13 ستمبر کو اپنی بیماری کی وجہ سے ملازمت سے استعفیٰ دیا تھا، گزشتہ ماہ ڈاکٹر عمر کو گردے میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ بہت پریشان تھا اور مبینہ طور پر اسی وجہ سے انہوں نے اپنی ملازمت سے استعفیٰ بھی دیا تھا، فلیٹ سے بدبو آنے پر پڑوسیوں اور رہائشی اپارٹمنٹ کی یونین کے عہدیداروں کی جانب سے مددگار 15 کو اطلاع دی گئی، جس پر پولیس موقع پر پہنچی، جب پولیس مذکورہ فلیٹ پر پہنچی تو فلیٹ کے دروازے بند اور لاک تھے پولیس فلیٹ کے دروازے توڑ کر داخل ہوئی تو فلیٹ میں ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ اور تینوں بیٹیوں کی لاشیں موجود تھیں، پولیس نے ڈاکٹر عمر کے فلیٹ کی مکمل تلاشی لی لیکن ڈاکٹر عمر یا ان کی اہلیہ کے زیر استعمال کوئی موبائل فون پولیس کو نہیں ملا جبکہ فلیٹ کے مرکزی دروازے کی چابیاں ڈاکٹر عمر کے سرہانے سے مل گئیں، ڈاکٹر عمر کی اہلیہ نے گزشتہ ہفتے اپنے گھر کا اوون 10 ہزار روپے میں پڑوسی کو فروخت کرنے کی کوشش کی لیکن پڑوسی نے اوون خریدنے سے انکار کرتے ہوئے ان کی 2 ہزار روپے کی مدد کر دی تھی، ڈاکٹر عمر کا آبائی تعلق بہاول نگر سے تھا، ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مددگار 15 پولیس کی اطلاع پر پولیس مذکورہ فلیٹ پہنچی تھی اور دروازے توڑ کر اندر داخل ہوئی، فلیٹ میں پانچ افراد کی لاشیں موجود تھیں جو کہ ایک ہی فیملی کی تھیں جن میں میاں بیوی اور 3 بچیاں شامل ہیں، لاشیں پوسٹ مارٹم کے لئے اسپتال منتقل کی گئی ہیں اور پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی وجہ موت کا حتمی تعین کیا جا سکے گا اس سے قبل کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا، ڈاکٹر عمر کا ایک بھائی پنجاب کے کسی شہر میں مقیم ہے لیکن وہ ڈاکٹر عمر سے لا تعلقی کا اظہار کر رہا ہے پولیس کوشش کر رہی ہے کہ ڈاکٹر عمر کی فیملی سے رابطہ کیا جائے زبیر نذیر شیخ نے بتایا کہ پانچوں لاشیں ایک ہی کمرے سے ملی ہیں اور بچیوں کی عمریں 10 سال سے کم ہیں، پولیس واقعے کے حوالے سے مزید تفتیش کر رہی ہے، اپارٹمنٹ کے مکینوں اور عہدیداروں نے بتایا کہ ڈاکٹر عمر گزشتہ 3 سالوں سے اسی اپارٹمنٹ میں اپنی فیملی کے ہمراہ رہائش پذیر تھے ڈاکٹر عمر نہایت شریف النفس انسان تھے اور ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔

اہم خبریں سے مزید