• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیرونِ ملک پاکستانی دستاویزات کی جعلی تصدیق کا طریقہ بے نقاب

اسلام آباد (زبیر قصوری)بیرونِ ملک پاکستانی دستاویزات کی جعلی تصدیق کا طریقہ بے نقاب، جنگ مشکوک QR لنک سامنے لے آیا، وزارتِ خارجہ کی سرکاری ویب سائٹ جیسا ڈیجیٹل نظام، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بیرونِ ملک استعمال ہونے والی پاکستانی دستاویزات کی تصدیق کے نظام میں مبینہ جعلسازی کے ایک ایسے نیٹ ورک کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں جس میں جعلی اپوسٹیل اسٹیکرز، سرکاری طرز کی مہروں اور دستاویزات کے ساتھ ایک مشکوک ڈیجیٹل ویری فکیشن نظام بھی استعمال کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ڈی جی ایف آئی اے نے جنگ/دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور سینئر افسران کو اس کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات سونپی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور جو بھی شخص ملوث پایا گیا اسے نہیں چھوڑا جائے گا، خواہ اس کا تعلق سرکاری ادارے سے ہو یا نجی شعبے سے۔ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق مبینہ نیٹ ورک سے منسلک تمام افراد کے کردار کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے اور ملوث پائے جانے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی اور گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔ فراڈ کا اصل حجم اور اس کے ذریعے تیار یا پراسیس ہونے والی دستاویزات کی تعداد تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ واضح ہوگی۔وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر افسر نے جنگ کو بتایا کہ اپوسٹیل شدہ دستاویزات بنیادی طور پر بیرونِ ملک سرکاری استعمال کے لیے ہوتی ہیں۔ تعلیمی ڈگریاں، ڈپلومے، ٹرانسکرپٹس اور سرٹیفکیٹس بیرونِ ملک یونیورسٹیوں میں داخلوں، اعلیٰ تعلیم، ملازمت اور تعلیمی قابلیت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔اسی طرح پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹس امیگریشن، رہائش، ورک پرمٹ اور ملازمت کے معاملات میں، جبکہ پیدائش اور شادی کے سرٹیفکیٹس فیملی، امیگریشن اور دیگر قانونی و انتظامی امور میں استعمال ہوتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید