اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) ایک خوش آئند پیش رفت کے طور پر پاکستان اور چین کی کمپنیوں کے درمیان کاروباری سطح پر (بی ٹو بی) تعاون پاکستان کے تیل و گیس کے شعبے میں تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ دونوں ممالک کی نجی کمپنیاں حالیہ پالیسی اصلاحات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سرمایہ کاری کے نئے مواقع کا جائزہ لے رہی ہیں، جن کا مقصد ملک میں موجود گیس کے وسائل کو تجارتی بنیادوں پر بروئے کار لانا ہے۔ ایک اہم پیش رفت میں پاکستان کی شاہین انرجی (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور چین کی اینٹون آئل فیلڈ سروسز گروپ نے پاکستان کے گیس اور اَپ اسٹریم توانائی کے شعبے میں آئندہ تین سے پانچ سال کے دوران تقریباً 20 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ یہ مجوزہ شراکت داری پیٹرولیم (ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن) پالیسی 2012 میں ترامیم کے بعد سامنے آئی ہے، جن کے تحت ملکی گیس مارکیٹ میں نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شرکت کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ ترمیم شدہ پالیسی کے تحت ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیاں پائپ لائن معیار کی گیس میں اپنے حصے کا 35 فیصد تک حصہ مسابقتی عمل کے ذریعے ایسے تیسرے فریق کے خریداروں کو فروخت کر سکتی ہیں جن کے پاس آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کا لائسنس ہو۔