ملتا ن (سٹاف رپورٹر) کمشنر عامر کریم خاں کی زیر صدارت ”مادرِ علمی سے رابطہ“ پروگرام کے تیسرے فیز کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں سرکاری سکولوں کے سابق طلبہ سے رابطے، سکولوں کی مسنگ فیسلٹیز کی فراہمی اور پروگرام کے آئندہ لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا،کمشنر نے ہدایت کی کہ تیسرے فیز میں مزید سابق طلبہ کی نشاندہی کرکے نئی فہرستیں مرتب کی جائیں اور ان سے براہ راست رابطہ کیا جائے، انہوں نے کہا کہ ایسے سکولوں کی بھی نشاندہی کی جائے جہاں بنیادی سہولیات کی کمی ہے تاکہ سابق طلبہ کے تعاون سے ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے،اجلاس میں بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں 2063 فارغ التحصیل طلبہ کی نشاندہی کی گئی، جبکہ سابق طلبہ کے تعاون سے 258 ترقیاتی سکیمیں مکمل کی جا چکی ہیں،سکولوں کی مسنگ فیسلٹیز کی فراہمی کے لیے سابق طلبہ کے تعاون سے 22 کروڑ 68 لاکھ 90 ہزار روپے کی کمیونٹی فنڈنگ حاصل کی گئی،کمشنر نے کہا کہ سابق طلبہ سے رابطے کے عمل میں انتظامی افسران کو بھی فعال کردار ادا کرنا ہوگا، اسسٹنٹ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ افسران سابق طلبہ سے براہ راست رابطہ کریں تاکہ پروگرام کا حقیقی اور موثر امپیکٹ سامنے آ سکے۔انہوں نے ہدایت کی کہ آئندہ 30 روز میں پروگرام کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے اور اکتوبر کے اختتام تک عملی کام شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا جائے،اجلاس میں کمشنر نے من و سلویٰ کے فلاحی ماڈل کو دیگر اضلاع تک وسعت دینے کی ہدایت کی ،کمشنر نے بتایا کہ من و سلویٰ کے تحت اب تک 4 لاکھ 37 ہزار افراد مفت کھانا حاصل کر چکے ہیں۔