ملتان (سٹاف رپورٹر) تمباکو اور نکوٹین پاؤچز کی متبادل مصنوعات کے استعمال سے متعلق واضح اور مناسب پالیسی بنائی جائے، آلٹرنیٹیو ریسرچ انیشی ایٹو (اے آر آئی) اور اس کی ممبر تنظیموں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ نکوٹین پاؤچز اور تمباکو کی دیگر متبادل مصنوعات سے وابستہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے استعمال سے متعلق مناسب پالیسیاں وضع کریں،اے آر آئی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ارشد علی سید نے کہا ہے کہ واضح پالیسی نہ ہونے کے باعث تمباکو کی متبادل مصنوعات ایسے افراد بھی استعمال کر رہے ہیں جنہیں ان کی ضرورت نہیں ہے،اس کے علاوہ، ان مصنوعات کے بارے میں بڑے پیمانے پر پھیلنے والی غلط معلومات میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان میں تمباکونوشی اب بھی صحت عامہ کا سب سے بڑا مسئلہ ہےمگر اب نکوٹین پاؤچز اور ای سگریٹ جیسی متبادل مصنوعات کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔ گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے 2024 کے مطابق پاکستان میں 16.1فیصد بالغ افراد تمباکواستعمال کرتے ہیں۔