اسلام آباد، راولپنڈی ( نیوز رپورٹر، ایجنسیاں) وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ مارچ اور دھرنے ختم کرینگے تو آپکے ساتھ بات کرینگے، دھرنا، مارچ ختم کریں تو بات ہوگی، معیشت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دینگے، ہوش کے ناخن لیں ترقی کے پہیے کو دوبارہ جام کرنا ملک دشمنی، عوام کی جان و مال کو نقصان پہنچانے والوں کیخلاف قانون اپنا راستہ لے گا، جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی پیشکش برائے نام، کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا جاتا، محمود خان اچکزئی نے حکومت رابطہ کرے تو پہلی شرط عمران سے ملاقات ہونی چاہی، اسد قیصر نے کہا گورنر راج کی دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہونگے، سلمان اکرم راجا نے مذاکرات کیلئے ہم اجتماعی فیصلہ کرینگے،جب تک کچھ طے نہیں ہوجاتا لانگ مارچ قائم رہے گا، وزیر مملکت رانا تنویر نے کہا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگاناآخری آئینی حل ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے دھرنوں اور احتجاج کی سیاست کو قومی معیشت اور پاکستان کی عالمی ساکھ کے لیےنہایت نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھرنوں کی سیاست سےمعیشت کو نقصان پہنچانا ملک دشمنی ہے ،پی ٹی آئی ہوش کے ناخن لے اور احتجاجی سیاست سے ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا ادراک کرتے ہوئے لانگ مارچ ختم کرے، حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ہرممکن اقدامات اٹھائے گی، حکومت اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ کمیٹی نے بامعنی اور پرخلوص مذاکرات سے مسائل کا مل بیٹھ کر حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے یہ بات منگل کومری روڈ اسلام آباد کےکشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کی ۔ ادھر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن ٹیم کو حکومت سے مذاکرات سے متعلق ہدایات جاری کردیں۔ ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی نے اس بارے میں اخونزادہ حسین یوسفزئی کے ذریعے اپوزیشن رہنمائوں کو پیغام بھجوا دیا ہے۔ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی نے کہا کہ اگر حکومت رابطہ کرے تو مثبت جواب دیا جائے، حکومت کے رابطے پر پہلی شرط بانی سے ملاقات ہونی چاہیے۔محمود اچکزئی نے کہا کہ بہنوں کی رہائی سے حکومت مثبت پیش رفت کا آغاز کرسکتی ہے، اگر بانی سے ملاقات نہیں ہوتی تو وزیراعظم سے ملاقات بے معنی ہوگی۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہاہے کہ مذاکرات کی پیشکش برائے نام ہے،مذاکرات صرف پیشکش کی حد تک کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا جاتا،ایک سال سے ملاقات بند ہے،ہماری نیک نیتی کے باوجود ہمیں اپنے لیڈر سے ملنے نہیں دیا جارہا۔