کراچی( ٹی وی رپورٹ) طب کے شعبے میں مشترکہ طور پر نوبل پرائز حاصل کرنے والے کارل ڈیسروتھ کی کہانی بڑی دلچسپ ہے ۔روشنی کی مدد سے دماغ کے خلیوں کو آن یا آف کرنے کی تحقیق پر انہیں طب کے نوبل انعام سے نواز اگیا۔ماہرین کے مطابق اس تحقیق کے بعد دماغی بیماریوں پر اچھے طریقے سے قابو پانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے ۔جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق ماہر نفسیات سے بائیو انجینئرنگ کی طرف متوجہ ہونے والے اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر کارل ڈیسروتھ نے بتایا کہ وہ رات گئے جب سونے کی تیاریوں میں تھے تو اچانک موبائل فون کی گھنٹی بجی اور انہیں نوبل انعام جیتنے کی اطلاع دی گئی ۔پروفیسر کارل ڈیسروتھ نے جب یہ خبر اپنے بچوں کو سنائی تو وہ بھی خوشی سے جھوم اٹھے ،فیملی کے ساتھ انکے دوستوں نے بھی مبارکباد دی ۔نوبل کمیٹی نے انہیں یہ انعام لائٹ گیٹڈ آئن چینلز اینڈ آپٹو جینیٹکس سے متعلق دریافت پر دیا ہے ،عام الفاظ میں آپٹو جینیٹکس دماغ کے خلیوں سے روشنی کو آن یا آف کرنے کی ٹیکنالوجی ہے ۔