کراچی( ثاقب صغیر )گارڈن سول ڈیفنس اتھارٹی کمپاونڈ میں بنائے گئے نجی عقوبت خانے میں کینسر میں مرض میں مبتلا خاتون سمیت 30 افراد کی بازیابی کا معاملے میں ایس آئی یو کے اہلکار ملوث نکلے۔تفصیلات کے مطابق نبی بخش تھانے کی حدود اولڈ سول ڈیفنس کمپاؤنڈ پولیس اسپتال کے سامنے 3 اکتوبر کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے چھاپہ مار کر خاتون سمیت 30 افراد کو بازیاب کروایا تھا،چھاپہ شہری شیر زمان کی بازیابی کے لیے مارا گیا تھا۔کمپاؤنڈ کے اندر عمارت کے عقبی طرف تلاشی پر قیدیوں کی وین spn-787 ، پولیس موبائل spc-50 اور پرائیویٹ ٹویوٹا کرولا n-8847 برآمد کی گئی تھی۔پرائیویٹ کار کی تلاشی کے دوران کار میں ہتھکڑیاں لگے ہوئے 2 افراد آصف ولد محمد اور عبدالحمید ولد خلیل ملے تھے۔ اسی کار میں دو اہلکار اے ایس آئی طاہر خان اور پی سی عبداللہ وہاب بھی موجود تھے جو کوئی بھی ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہے۔پرزن وین (قیدیوں کی گاڑی) کی تلاشی کے دوران پرزن وین اور کمرے میں کل 28 افراد جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی ہتھکڑی لگے اور حراست میں ملے جن میں سے کچھ زمین پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں ایس ایچ او اسپیشل انویسٹیگیشن یونٹ کی ہدایت پر سی آئی اے/ایس آئی یو صدر کے اہلکاروں نے حراست میں لیا ہے۔خاتون سمیرا زوجہ ارماں کینسر کی مریضہ ہیں۔تمام زیر حراست افراد نے بتایا کہ انہیں سی آئی اے ایس آئی یو نے 2 دن پہلے مختلف مقامات سے اٹھایا اور یہاں غیر قانونی طور پر قید کیا ۔بازیاب ہونے والے تمام افراد نے بدسلوکی کی شکایت بھی کی۔خواتین کی حراست کے دوران کوئی لیڈی پولیس موجود نہیں تھی۔وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے زبانی طور پر ضابطہ فوجداری کی دفعہ 54 (U/S 54 CrPC) کا ذکر کیا لیکن روزنامچہ، ایف آئی آر، گرفتاری کا میمو، ڈپٹ رجسٹر یا کوئی بھی ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہے جبکہ اس حوالے سے پولیس اسٹیشن نبی بخش میں بھی کوئی اندراج موجود نہیں تھا۔ یہ جگہ اے وی ایل سی/ایس آئی یو کی حدود میں نہیں بلکہ پی ایس نبی بخش کی حدود میں تھی اسے ایک غیر قانونی ٹارچر/حراستی سیل قرار دیا گیا۔ انٹری نمبر 11 اور 13 کا دعویٰ کیا گیا لیکن کوئی ثبوت نہیں ملا۔ تصدیق کے لیے پی ایس نبی بخش کی پولیس کو طلب کیا گیا۔متعلقہ اہلکاروں کی خلاف پولیس نے اب تک کیا کارروائی کی ؟اس حوالے سے ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان، ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر اور ایس ایس پی اسپیشل انویسٹیگیشن یونٹ ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو سے استفسار کیا گیا تاہم ان کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔