پشاور (خصوصی نامہ نگار) لوئر چترال کی خواتین نے معاشی خودمختاری کی جانب اہم قدم اٹھاتے ہوئے دروش انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن میں ’’بااختیار خواتین منصوبہ‘‘ کے تحت مختلف فنی و پیشہ ورانہ شعبوں میں عملی تربیت مکمل کرلی۔ یہ اقدام پاکستان وژن 2025کی ترجیحات اور پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد خواتین کی معاشی شمولیت، روزگار، ڈیجیٹل تبدیلی، غربت میں کمی اور جامع ترقی کو فروغ دینا ہے۔ مجموعی طور پر 34نوجوان خواتین نے تربیت مکمل کی، جن میں 20خواتین نے گارمنٹس اور فیشن ڈیزائننگ جبکہ14خواتین نے فوڈ پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کی تربیت حاصل کی۔ شرکاء کو ڈیجیٹل خواندگی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، مالیاتی خواندگی، کاروباری امور، زندگی کی مہارتوں اور قیادت کے شعبوں میں بھی تربیت دی گئی، جس سے انہیں روزگار اور ذریعہ معاش کے مواقع حاصل کرنے کے لیے عملی مہارتوں اور اعتماد میں اضافہ ہوا۔ پریس ریلیز کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان غربت (پی پی اے ایف) کے تعاون سے تاکل ویلفیئر آرگنائزیشن کے ذریعے نافذ کیا گیا، جبکہ انسٹی ٹیوٹ آف رورل مینجمنٹ نے تکنیکی معاونت فراہم کی۔ پی ٹی سی ایل، یوفون اور یو بینک نے بھی منصوبے میں معاونت کرتے ہوئے خواتین کو اسمارٹ موبائل فونز، یوفون سمز اور یو بینک اکاؤنٹس فراہم کیے، تاکہ ڈیجیٹل رابطوں اور مالیاتی شمولیت کو فروغ دیا جاسکے۔ تربیت مکمل کرنے والی خواتین میں اسناد تقسیم کرنے کی تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر دروش محمد علی مہمان خصوصی تھے، جبکہ محکمہ خواتین تعلیم کے اے ڈی او اور اے ایس ڈی او سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء اور منتظمین نے کہا کہ پائیدار ذریعہ معاش کیلئے صرف تربیت کافی نہیں، بلکہ خواتین کو مالی معاونت، مارکیٹ تک رسائی اور رہنمائی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے حکومت، مالیاتی اداروں، نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کی مسلسل معاونت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی معاونت سے خواتین اپنی حاصل کردہ مہارتوں کو پائیدار ذریعہ معاش میں تبدیل کرنے، گھریلو آمدن بڑھانے اور مالی طور پر خودمختار ہونے میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔