پشاور (نیوز رپورٹر) پشاور ہائیکورٹ نے ملزم سے فیس وصول کرنے کے باوجود ملزم کی جانب سے دائر اپیل میں پیش نہ ہونے اور پیروی میں عدم دلچسپی پر دو وکلاء کے پیشہ ورانہ لائسنس معطل کرتے ہوئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کردیئے جبکہ ایک وکیل کو ملزم سے وصول کی گئی 6لاکھ 80ہزار کی مکمل فیس واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس اعجاز خان صابی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ وکلاء کا عدالت میں پیش نہ ہونا بادی النظر میں پیشہ ورانہ بدانتظامی کے زمرے میں آتا ہے۔ تحریری حکم نامے کے مطابق سزا یافتہ ملزم مخدوم خان کی جانب سے دائر اپیل ایک سال سے زائد عرصے تک وکیل کی عدم پیروی کے باعث ملتوی ہوتی رہی۔ دوران سماعت سزا یافتہ ملزم کے بیٹے نے عدالت کو بتایا کہ اس نے اپنے والد کے مقدمے کی پیروی کے لیے وکیل عرفان علی کو 6لاکھ 80ہزار فیس ادا کی تاہم وکیل اور اس کے ایسوسی ایٹ فدا محمد نے دلچسپی نہیں لی اور نہ عدالت میں پیش ہوئے۔