بنیادی طور پر، ڈیجیٹل معیشت کا انحصار ہائپر کنیکٹی ویٹی اور مضبوط انفراسٹرکچر پر ہے۔ تیز رفتار انٹرنیٹ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اور موبائل نیٹ ورکس نے ڈیٹا کو دنیا کے سب سے قیمتی اثاثے میں تبدیل کر دیا ہے۔ خودکار، سافٹ ویئر پر مبنی حل روایتی کاروباری ماڈلز کی جگہ لے رہے ہیں۔ آج، ٹیکنالوجی محض ایک ٹول نہیں رہی بلکہ یہ خود ہی ایک مارکیٹ پلیس بن گئی ہے۔
یہ تبدیلی کئی اہم شعبوں کی صورت میں نمایاں ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر:
ای کامرس: عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارم جو صارفین کو فوری طور پر دنیا میں کہیں سے بھی مصنوعات خریدنے کے قابل بناتے ہیں۔
موبائل والیٹ، ڈیجیٹل بینکنگ اور کیش لیس ادائیگیاں: جو طبعی کرنسی کو تیزی سے متروک کر رہے ہیں۔
فری لانس نیٹ ورکس اور تعاون کے ٹولز: جو روزگار کو جغرافیائی مقامات سے علیحدہ کرتے ہیں-
تاہم، یہ تیز رفتار ارتقاء گہرے ساختی چیلنجوں کا پیش خیمہ بھی ہے، جن کی وسعت تکنیکی خرابیوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ جیسا کہ مسلسل ڈیٹا اکٹھا کرنے پر عالمی انحصار تیزی سے بڑھ رہا ہے، سائبرسیکیوریٹی کے خطرات اور رازداری کے پیچیدہ خدشات عالمی پلیٹ فارم کا مرکز بن چکے ہیں۔ جدید ترین رینسم ویئر، ریاست کے زیر اہتمام سائبر حملے، اور ڈیٹا سسٹم کی منظم خلاف ورزیاں اب صرف انفرادی کمزوریوں کا فائدہ نہیں اٹھاتی ہیں۔
وہ کارپوریٹ استحکام، سپلائی چین آپریشنز اور قومی سلامتی کو مؤثر طریقے سےپُر خطر بناتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں، قومیں ایک وسیع ڈیجیٹل تقسیم سے دوچار ہیں۔ تکنیکی رسائی، بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری، اور ڈیجیٹل خواندگی میں یہ شدید تفاوت پورے ترقی پذیر علاقوں، پسماندہ کمیونٹیز، اور الگ تھلگ دیہی علاقوں کو عالمی ترقی سے ساختی طور پر الگ تھلگ کر دیتا ہے۔
یہ صورت حال مواقع کو برابر کرنے کے بجائے، موجودہ معاشی عدم مساوات کو مستحکم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ لیکن ڈیجیٹل معیشت کو مستقبل کے تصور یا تجرباتی اُفق کے طور پر مزید مسترد یا نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ غالب اور موجودہ حقیقت ہے جو عالمی تعاملات کو کنٹرول کرتی ہے۔ پوری دنیا میں، یہ بنیادی ڈھانچے کی تبدیلی، تجارتی لین دین، اور لیبر فورس کے ارتقاء کے لیے بنیادی انجن کے طور پر کام کرتی ہے۔
چھوٹے کاروباروں، ملٹی نیشنل کارپوریشنز، اور قومی حکومتوں کے لیے، خود کو اس منظر نامے کے مطابق ڈھالنا اب کوئی تزویراتی انتخاب یا معمولی تغیر نہیں رہا، جس کا استعمال فوری مسابقتی برتری حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، یہ اقتصادی بقا کے لئے ایک مطلق ضرورت بن گیا ہے۔
ایک انتہائی منسلک دنیا میں، وہ تنظیمیں اور معاشرے جو اپنے نظام کو جدید بنانے، اپنے ڈیٹا ایکو سسٹم کو محفوظ بنانے، اور اپنی افرادی قوت کو بہتر بنانے میں ناکام رہتے ہیں، انہیں فوری طور پر متروک ہونے کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے کیونکہ جدت کی رفتار ان سے آگے بڑھ جاتی ہے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کی صورت حال
یہ ترقی کے ابتدائی لیکن اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی مالیاتی خدمات، تجارت، حکومت، تعلیم، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں میں سرایت کر رہی ہیں۔ اس تناظر میں پاکستانی معیشت کے کئی اہم اور مثبت پہلو ہیں، ان میں ایک بڑی آبادی، وسیع پیمانے پر موبائل فون کا استعمال، ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا شعبہ، فری لانسرز کا ایک بڑا ذخیرہ، ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کو وسعت دینا اور آئی سی ٹی اور آئی ٹی سے چلنے والی خدمات کی برآمدات کی بنیاد شامل ہیں۔
تاہم، یہ ابھی تک معیشت کی وسیع تر ڈیجیٹل تبدیلی پر منتج نہیں ہوئی ہیں۔ کمزور فکسڈ براڈ بینڈ انفراسٹرکچر، محدود ڈیجیٹل ادائیگیاں، کاروبار کی کم ڈیجیٹلائزیشن، ناکافی جدید مہارت، مالیات تک محدود رسائی، ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال اور ٹیکنالوجی میں نسبتاً کمزور سرمایہ کاری پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے پیمانے اور پیداواری صلاحیت کو محدود کرتی رہتی ہے۔
گلوبل ڈیجیٹل اکانومی رپورٹ 2026 اس پوزیشن کا ایک مفید مجموعی پیمانہ فراہم کرتی ہے۔ یہ اشاریہ ڈیجیٹل اکانومی کو وسیع پیمانے پر معاشی اور سماجی سرگرمیوں کے حصہ کے طور پر بیان کرتا ہے، جس میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ڈیٹا، کنیکٹیویٹی، پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل طور پر ہنر مند انسانی سرمائے کے ذریعے فعالیت شامل ہیں ۔ اس رپورٹ کا ڈیجیٹل ریڈی نیس انڈیکس اقتصادی، ماحولیاتی، سماجی اور حکمرانی کے عوامل کو مربوط کرتا ہے۔
جیسا کہ درج ذیل چارٹ میں دکھایا گیا ہے، پاکستان ایشیائی ممالک میں نچلے درمیانی مقام پر ہے۔ جہاں اس کا 'ڈیجیٹل تیاری کا اسکور 100 میں سے 41 ہے اور اس کی معیشت کا تخمینہ شدہ 12.4 فیصد حصہ ڈیجیٹل زمرے میں آتا ہے۔ لہٰذا، پاکستان ڈیجیٹل معیشت کی پختگی کے حوالے سے ابھی بھی ترقی پذیر مرحلے میں ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کو کئی دیگر ترقی پذیر معیشتوں سے اوپر رکھا گیا ہے۔ تاہم پاکستان کی پوزیشن ویت نام، سری لنکا اور بھارت سے نیچے ہے۔ یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں وسعت کی کافی گنجائش موجود ہے۔
پاکستان اکنامک سروے کے مطابق پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت ایک اُبھرتے ہوئے شعبے سے نکل کر میکرو اکنامک استحکام اور برآمدات کے تنوع کی راہ پر گامزن ہے۔ ڈیجیٹل پاکستان ویژن، اُڑان پاکستان اور ڈیجیٹل نیشن پاکستان روڈ میپ جیسے وسیع تر قومی لائحہ عمل سے، ملک کا انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ تیزی سے ساختی ارتقاء کے عمل سے گزر رہا ہے۔
حکومتی پالیسی میں ڈیجیٹل افرادی قوت کا دائرہ کار وسیع کرنا پائیدار ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ سروے کے مطابق مارچ 2026 تک، 34,420 سے زائد آئی ٹی کمپنیاں ایس ای سی پی کے ساتھ رجسٹرڈ ہو چکی ہیں۔ 'اگنایٹ' کے ذریعے ڈیجیٹل اسکل پلیٹ فارم نے 5.14 ملین سے زائد تربیتی سیشنز مکمل کیے ہیں، جس کی بدولت فری لانسرز مالی سال 2026 کے دوران جولائی سے مارچ کے عرصے میں مجموعی طور پر 1.65 ارب ڈالر کمانے کے قابل ہوئے ہیں۔
علاوہ ازیں پاکستان اپنی ڈیجیٹل معیشت کی انسانی وسائل اور تکنیکی بنیادوں کو مضبوط بنانے کے لیے کئی اقدامات کر رہا ہے، جن میں مصنوعی ذہانت پالیسی، جدید ہارڈویئر، مقامی مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل گورننس کے اقدامات شامل ہیں۔ مقامی موبائل مینوفیکچرنگ میں نمایاں توسیع ہوئی ہے اور 36 مراکز میں 95 فیصد سے زائد ڈیوائسز مقامی سطح پر تیار یا اسمبل کی جا رہی ہیں۔ سال 2019 سے مارچ 2026 کے دوران 161.6 ملین ہینڈ سیٹس مقامی طور پر تیار کیے گئے۔
اگرچہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں نمایاں صلاحیت موجود ہے، جس کی پشت پناہی ایک بڑی نوجوان آبادی، انٹرنیٹ تک بڑھتی ہوئی رسائی، ٹیکنالوجی کے فروغ پاتے ہوئے نظام اور فری لانس افرادی قوت کی بڑی تعداد کر رہی ہے،تاہم ملک کو اب بھی ایسے ساختی مسائل کا سامنا ہے جو ڈیجیٹل کاروباروں کے حجم، پیداواری صلاحیت اور بین الاقوامی سطح پر مسابقتی حیثیت کو محدود کرتے ہیں۔
یہ چیلنجز خاص طور پر فری لانسنگ کے شعبے میں نمایاں ہیں، جہاں پاکستان نے افرادی قوت کی ایک بڑی تعداد تو تیار کر لی ہے، لیکن ابھی تک اس حجم کو اعلیٰ مالیت کی برآمدات اور پائیدار ڈیجیٹل کاروباری اداروں میں تبدیل نہیں کر سکا ہے۔
ایک بنیادی رکاوٹ پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا معیار اور استطاعت ہے۔ اگرچہ موبائل کنیکٹیویٹی تیزی سے پھیلی ہے، ملک موبائل براڈ بینڈ پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جبکہ فکسڈ براڈ بینڈ اور فائبر کنیکٹیویٹی محدود ہے۔ یہ اعلیٰ قدر والی ڈیجیٹل سرگرمیوں جیسے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، کلاؤڈ سروسز، اینی میشن اور مصنوعی ذہانت کے لیے درکار معیارات کو محدود کرتا ہے۔ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں کی شرکت محدود ہے۔
فری لانسرز کے لیے، غیر معتبر انٹرنیٹ اور اعلیٰ معیار کے براڈ بینڈ تک محدود رسائی ان کی بین الاقوامی ڈیڈ لائن کو پورا کرنے اور بیرون ملک مقیم گاہکوں کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کے باوجود پاکستان نے عالمی فری لانسنگ میں نمایاں موجودگی پیدا کی ہے۔ ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے پاکستان کو عالمی گیگ/فری لانسنگ انڈسٹری میں تیسری سب سے بڑی پیشہ ورانہ آبادی کے طور پر تسلیم کیا ہے، جس میں تقریباً 1.5 ملین پلیٹ فارم ورکرز ہیں، تاہم افرادی قوت کے حجم کا تناسب، اس کی اعلیٰ مالیت کی آمدنی میں ظاہر نہیں ہوا ہے۔
تجزیاتی جائزے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ فری لانس روزگار کی بڑی حد تک غیر منظم نوعیت اور فراہم کردہ خدمات کی نسبتاً کم مالیت، اوسط معاوضے کو کم سطح پر رکھتی ہے۔ اسٹیک اوور فلو پلیٹ فارم پر فی کارکن سالانہ معاوضہ تقریباً 11,000 ڈالر تخمینہ لگایا گیا ہے، جو سروے میں شامل ممالک میں سب سے کم ہے۔ یہ ایک اہم ساختی مسئلے کو اُجاگر کرتا ہے۔ پاکستان کے لیے چیلنج صرف فری لانسرز کی تعداد میں اضافہ کرنا نہیں، بلکہ فری لانسرز کی پیدا ہونے والی قدر (ویلیو) میں اضافہ کرنا ہے۔
موجودہ کام کا زیادہ تر حصہ نسبتاً معیاری اور سادہ سرگرمیوں جیسے کہ ڈیٹا انٹری، بنیادی گرافک ڈیزائن، مواد کی تیاری اور نچلے درجے کی تکنیکی خدمات تک محدود ہے۔ برآمدات سے زیادہ آمدنی کے حصول کے لیے سافٹ ویئر انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، جدید ڈیزائن، پیشہ ورانہ خدمات اور علم پر مبنی دیگر سرگرمیوں کی جانب پیش قدمی ناگزیر ہے۔
ایک اور چیلنج انفرادی فری لانسرز کی رسمی، توسیع پذیر کاروباروں میں محدود تبدیلی ہے۔ فری لانسنگ بین الاقوامی منڈیوں میں ایک قابل رسائی انٹری پوائنٹ فراہم کرتی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ انفرادی معاہدہ فرم، انٹلکچول پراپرٹی، انتظامی صلاحیت یا مستقل روزگار پیدا کرے۔
اس لیے پاکستان کو "فری لانسر سے انٹرپرائز" تک کے خلا کا سامنا ہے۔ بہت سے افراد ترقی پذیر ایجنسیوں، خصوصی سروس کمپنیوں یا ٹیکنالوجی کی مصنوعات کے بجائے آن لائن پلیٹ فارمز اور انفرادی اسائنمنٹس پر انحصار کرتے ہیں۔
اس صورت حال کا جزوی تعلق ٹیکس اور ضابطہ کارانہ ماحول سے بھی ہے، ٹیکس کا بوجھ اور ضوابط کی تعمیل کے اخراجات کارپوریٹائزیشن کی حوصلہ شکنی کر سکتے ہیں۔ لہذا فری لانسنگ کی سرگرمیوں کو ڈیجیٹل خدمات کی ایک وسیع تر صنعت میں تبدیل کرنے کے لیے ایسے ماحول کی تشکیل ضروری ہے جس میں کامیاب فری لانسرز آسانی سے کمپنیاں رجسٹر کر سکیں، کارکنوں کی خدمات، مالی وسائل تک رسائی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں۔
پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نسبتاً کم اختیار بھی وسیع تر ڈیجیٹل معیشت کو محدود کرتا ہے۔ صرف 18فیصد پاکستانی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ فری لانسرز کے لیے سرحد پار ادائیگی کے موثر نظام ضروری ہیں۔
تاخیر، لین دین کے اخراجات، بینکنگ کی ضروریات اور بین الاقوامی ادائیگیاں حاصل کرنے میں مشکلات بیرون ملک معاہدوں سے حاصل ہونے والی موثر آمدنی کو کم کر سکتی ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، بینکوں اور رسمی ادائیگی کے نظام کے درمیان زیادہ سے زیادہ انضمام ان مشکلات کو کم کرنے اور ڈیجیٹل برآمدات کی دستاویزات کو بہتر بنانے میں مدد کرسکتا ہے۔
علاوہ ازیں، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل روزگار میں غیر مساویانہ تقسیم بھی نمایاں ہے۔ ہنر، آلات، قابل اعتماد انٹرنیٹ، محفوظ کام کرنے کے ماحول اور مالیاتی خدمات تک رسائی صنف اور مقام کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔ آئی سی ٹی کی تعلیم میں خواتین کی نسبتاً کم شرکت پاکستان کی ڈیجیٹل افرادی قوت کے ممکنہ حجم کو مزید محدود کرتی ہے۔
اے ڈی بی کے مطابق آی سی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں داخلہ لینے والے طلباء میں خواتین کا حصہ صرف 28 فیصد تھا ،جب کہ مردوں کی تعداد 72 فیصد تھی۔ ڈیجیٹل کام میں خواتین کی شرکت کو بڑھانا روایتی مائیگریشن کی ضرورت کے بغیر لیبر فورس کو وسیع کر سکتا ہے اور ایسی جگہوں پر لوگوں کو روزگار کے قابل بنا سکتا ہے جہاں روایتی لیبر مارکیٹ کی شرکت محدود ہے۔
تاہم ان مشکلات کے باوجود ڈیجیٹل معیشت پاکستان میں خواتین کے لیے کچھ جغرافیائی، نقل و حرکت اور کام کی جگہ کی رکاوٹوں کو کم کر کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم خواتین کو گھر سے فری لانسنگ، آن لائن خدمات، ای کامرس اور ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ شروع کرنے کے قابل بنارہے ہیں، جس سے آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمیوں میں بہتری آ رہی ہے، تاہم خواتین کے حوالے سے وسیع تر ڈیجیٹل اور مالیاتی شمولیت کی صورتحال اب بھی محدود ہے۔
عالمی بینک کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2024 میں صرف 11.9 فیصد خواتین کے پاس مالیاتی اکاؤنٹ موجود تھا، جبکہ مردوں کے معاملے میں یہ شرح 42.3 فیصد تھی۔ لہٰذا، سستی انٹرنیٹ تک رسائی، ڈیجیٹل مہارتوں، اسمارٹ فون کی ملکیت، مالیاتی شمولیت اور آن لائن کام کے محفوظ مواقع کو بڑھا کر مزید خواتین کو پاکستان کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں شامل ہونے اور اس سے استفادہ کرنے میں مدد دی جا سکتی ہے۔
پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت گھریلو کاروبارمیں نسبتاً محدود ڈیجیٹل ذرایع اپنانے کی وجہ سے بھی محدود ہے۔ یہ فری لانسرز کے لیے اہم ہے ،کیونکہ ایک مضبوط گھریلو ڈیجیٹل مارکیٹ بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے سے پہلے تجربہ حاصل کرنے، خصوصی خدمات تیار کرنے اور کمپنیاں بنانے کے مواقع پیدا کرتی ہے۔
زراعت، مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس، خوردہ اور پیشہ ورانہ خدمات کی زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹلائزیشن پاکستانی ڈیجیٹل کارکنوں کے لیے ایک وسیع تر مارکیٹ فراہم کر سکتی ہے۔ فنانس تک رسائی ڈیجیٹل انٹرپرائزز کو بڑھانے میں ایک اور رکاوٹ ہے۔ بینکوں کا پانچ فیصد سے کم قرضہ چھوٹے کاروباروں کو دیا جاتا ہے،جبکہ ٹیکنالوجی کمپنیاں پاکستان کے اسٹاک مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں صرف ایک چھوٹے سے حصہ کی حامل ہیں۔
ایک اہم چیلنج دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کا تیزی سے بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ مصنوعی ذہانت ترقی پذیر ممالک میں فری لانس کام کو تبدیل کر رہی ہے، لیکن اس کے اثرات پیش کردہ خدمات کی قسم، ڈیجیٹل صلاحیتوں اور مہارتوں کو اپ گریڈ کرنے کے مواقع کے مطابق مختلف ہوتے ہیں۔ یہ رجحان ان بہت سے کاموں کی نوعیت اور قدر کو تبدیل کر رہا ہے جو روایتی طور پر فری لانسرز سرانجام دیتے ہیں۔
پاکستان، بھارت ، ویتنام، بنگلہ دیش، فلپائن اور کینیا جیسے ممالک میں بڑی اور بڑھتی ہوئی آن لائن فری لانس افرادی قوتیں ہیں جو خاص طور پر جنریٹیو مصنوعی ذہانت سے متاثرہو رہی ہیں۔ دیگر ممالک کے پاس ان رکاوٹوں کو جذب کرنے کے زیادہ مواقع ہیں۔ مثال کے طور پر ویتنام مینوفیکچرنگ اور ایکسپورٹ پر مبنی صنعتوں کے ساتھ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے انضمام سے فائدہ اٹھاتا ہے، کینیا اور دیگر افریقی معیشتوں کو بھی اسی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے لیکن وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ڈیٹا سروسز اور ٹیکنالوجی سے چلنے والی انٹرپرینیورشپ میں بھی نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔
پاکستان میں سب سے فوری خطرہ نسبتاً معمول کی، کم شدت والی ڈیجیٹل سرگرمیوں میں مصروف فری لانسرز کو ہے۔ بنیادی مواد کی تیاری، ڈیٹا انٹری، ترجمہ، سادہ گرافک ڈیزائن، کوڈنگ معاونت اور دیگر معیاری خدمات پر مشتمل کاموں کو اے آی ٹولز کے ذریعے تیزی سے انجام دیا جا سکتا ہے یا تیز کیا جا سکتا ہے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی پالیسیاں اپنائی جائیں جو پاکستان کی فری لانس افرادی قوت کو ٹاسک پر مبنی، کم قیمت والی ڈیجیٹل سروسز سے اعلیٰ قدر والے علمی کام کی طرف منتقل کرنے میں معاون ہوں۔
پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو ترقی دینے کے لیے اہم سفارشات
انفراسٹرکچر کی بہتری: موبائل انٹرنیٹ پر منحصر رہنے کے بجائے فکسڈ براڈ بینڈ اور فائبر آپٹک نیٹ ورک کو ملک گیر سطح پر پھیلایا جائے، تاکہ اعلیٰ قدر کی خدمات کے لیے ناگزیر تیز رفتار کنیکٹیویٹی میسر آ سکے۔
اعلیٰ ہنر اور اے آیٰ پالیسی: فری لانسرز کو ڈیٹا انٹری اور بنیادی ڈیزائننگ جیسے روایتی کاموں سے نکال کر آرٹیفیشل انٹیلیجنس، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور سائبر سیکیورٹی جیسے پیچیدہ شعبوں میں تربیت دی جائے تاکہ فی کس آمدنی میں اضافہ ہو۔
ڈیجیٹل ادائیگیاں اور ٹیکس اصلاحات: بین الاقوامی ادائیگیاں حاصل کرنے کے لیے پے پال جیسے عالمی ادائیگی کے نظاموں کا مربوط انضمام یقینی بنایا جائے۔ ٹیکس کے نظام کو آسان بنا کر "فری لانسر سے کارپوریٹ انٹرپرائز" میں تبدیلی کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
خواتین کی شمولیت اور ڈیجیٹل مساوات: آئی سی ٹی شعبے میں خواتین کا تناسب بڑھانے کے لیے خصوصی اسکالرشپس اور دیہی علاقوں تک تکنیکی رسائی فراہم کی جائے تاکہ ڈیجیٹل تقسیم ختم ہو۔
فنانس تک رسائی: بینکوں اور وینچر کیپٹل کو ترغیب دی جائے کہ وہ ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس اور چھوٹے ڈیجیٹل کاروباروں کو آسان شرائط پر قرضے اور مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔