محمد آصف اقبال
ایم ڈی، سوشل پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر
کثیر الجہتی وسائل سے بھرپور ہونے کے باوجود پاکستان کا شمار نچلے متوسط آمدنی والے ممالک میں ہوتا ہے، جو اس کی استعداد کے پیشِ نظر ایک پریشان کن حقیقت ہے۔ دراصل پاکستان اپنے وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا ہے۔ معاشی ترقی میں رکاوٹ کی بڑی وجوہات میں مسلسل غربت سماجی پسماندگی، نیز دولت اور آمدنی کی غیر مساوی تقسیم شامل ہیں۔ قومی وسائل اور محنت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک بڑا حصہ آبادی کے ایک چھوٹے طبقے تک محدود ہے، جس کے باعث اکثریت محرومی کا شکار رہتی ہے۔
درج ذیل جدول میں ملاحظہ کریں، پاکستان کی فی کس آمدنی کا موازنہ اس کے ہمسایہ ممالک بھارت اور بنگلہ دیش کے ساتھ۔ یہ اعداد و شمار قوت خریداری مساوات یابین الاقوامی ڈالر میں دیے گئے ہیں، جو آمدنی کو ناپنے کا ایک ایسا طریقہ ہے جس میں ممالک کے درمیان اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے فرق کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
سادہ الفاظ میں،بین الاقوامی ڈالر یہ ظاہر کرتا ہے کہ لوگ اپنی آمدنی سے حقیقت میں کتنی اشیاء اور خدمات خرید سکتے ہیں، بجائے اس کے کہ صرف کرنسی کو مارکیٹ کے زرِ مبادلہ کی شرح سے تبدیل کیا جائے۔ اس طرح مختلف ممالک کے معیارِ زندگی کا زیادہ حقیقت پسندانہ موازنہ ممکن ہوتا ہے۔
ان تین ممالک میں2000ء سے 2024 ءکے دوران فی کس جی ڈی پی میں اضافہ ہؤا، لیکن ترقی کی رفتار میں نمایاں فرق رہا۔ پاکستان نے 2000 ء میں سب سے زیادہ آمدنی کی سطح (2,565) کے ساتھ آغاز کیا، جو بھارت (2,091) اور بنگلہ دیش (1,512) سے زیادہ تھی، تاہم وقت کے ساتھ بھارت اور بنگلہ دیش دونوں نے کہیں زیادہ تیزی سے ترقی کی۔ 2024 تک، بھارت 11,160 اور بنگلہ دیش 9,647 تک پہنچ کرپاکستان سے آگے نکل گئے، جبکہ پاکستان کی ،فی کس آمدنی صرف 6,252 تک پہنچ سکی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ پاکستان کو ابتدا میں برتری حاصل تھی، لیکن اس کی معاشی ترقی اپنے علاقائی ہم منصبوں کے مقابلے میں پیچھے رہ گئی۔
اعدادوشمار کے مطابق بھارت اور بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی پاکستان سے بالترتیب دگنی اور ڈیڑھ گنا ہو چکی ہے۔ ابتدائی برتری کے باوجود، پاکستان کی سست رفتار ترقی اسے دیگر دو ممالک کی تیز اور مسلسل معاشی توسیع کے ساتھ ہم قدم نہ رکھ سکی۔ نتیجتاً نہ صرف اس نے اپنی برتری کھو دی بلکہ نمایاں طور پر پیچھے بھی رہ گیا۔
یہ بڑھتا ہوا فرق معاشی جمود کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں پاکستان کی پیش رفت اپنے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں ناکافی رہی ہے، وہیں یہ بنیادی ساختی مسائل کی بھی عکاسی کرتا ہے جیسا کہ کم پیداواری صلاحیت، برآمدات کی کمزور نمو، اور بار بار سامنے آنے والے معاشی عدم استحکام، جنہوں نے پاکستان کی اپنی ابتدائی برتری برقرار رکھنے اور مضبوط طویل مدتی ترقی حاصل کرنے کی صلاحیت کو محدود کیا ہے۔
معاشی ترقی اور غربت کے درمیان تعلق نہایت پیچیدہ اور گہرا ہے، یہ ایک مسلسل عمل کے ذریعے ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں۔ عام طور پر معاشی ترقی کو غربت میں کمی کا ایک اہم محرک سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ قومی آمدنی میں اضافہ کرتی، روزگار کے مواقع پیدا کرتی اور اشیاء و خدمات تک رسائی کو وسیع کرتی ہے۔
جیسے جیسے معیشت ترقی کرتی ہے، کاروبار فروغ پاتے ہیں اور حکومتوں کو زیادہ ٹیکس آمدنی حاصل ہوتی ہے، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے میں زیادہ سرمایہ کاری ممکن ہو جاتی ہے۔ یہ پیش رفت انسانی سرمائے اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بناتی ہے، جس سے وقت کے ساتھ زیادہ افراد غربت سے باہر نکلنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔لیکن یہ تعلق نہ تو خودکار ہوتا ہے اور نہ ہی مساویانہ۔
اکثر اوقات معاشی ترقی صرف مخصوص شعبوں یا خطوں تک محدود رہتی ہے، جس سے آبادی کا صرف ایک چھوٹا حصہ اس کے فوائد حاصل کرتا ہے۔ اس صورت میں ”شمولیت کے بغیر ترقی“ کی صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے، جہاں جی ڈی پی میں اضافہ ہونے کے باوجود عدم مساوات برقرار رہتی ہے یا مزید بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً غریب طبقے کے معیارِ زندگی میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آتی۔ اس کے برعکس، غربت خود معاشی ترقی کو محدود کر سکتی ہے۔ غربت کی بلند سطح اکثر اس کی علامت ہوتی ہے۔
تعلیم تک رسائی محدود، صحت کی سہولتیں اور پیداواری صلاحیت کم ہیں، یہ تمام عوامل کسی بھی ملک کی ترقی کی صلاحیت کو کم کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، غربت سماجی عدم استحکام اور سرمایہ کاری میں کمی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ لہٰذا، غربت میں مؤثر کمی کے لیے ضروری ہے کہ معاشی ترقی جامع،پائیدار اور ایسی پالیسیوں پر مبنی ہو جو معاشرے میں وسائل اور مواقع کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان میں غربت میں کمی کی پالیسییوں کا زیادہ تر انحصار بلند معاشی ترقی پر رہا ہے، تاہم حالیہ چند برسوں میں یہ ماڈل ایک مخلوط صورت اختیار کر گیا ہے، جس میں سماجی تحفظ کے نظام کو بھی شامل کیا گیا ہے، تاہم بنیادی توجہ معاشی ترقی پر رہی جب کہ غربت اور عدم مساوات کی حیثیت ثانوی رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کے پاکستان سماجی اور معاشی ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ اس کے برعکس بنگلہ دیش میں معاشی ترقی اور غربت میں کمی کے عمل نے ایک دوسرے کو تقویت دی ہے۔ مسلسل معاشی ترقی نے وہ وسائل اور روزگار فراہم کیے جن کی مد د سے لاکھوں افراد غربت سے باہر نکل سکے۔
بنگلہ دیش میں غربت کی شرح 2010ء میں 37 فیصد سے کم ہو کر 2022ء میں 18.7 فیصد رہ گئی۔ اسی طرح، سری لنکا کی معاشی ترقی بڑی حد تک غربت میں کمی اور ترقیاتی اقدامات کی وجہ سے ہوئی، جہاں غربت کی شرح 2002ءمیں تقریباً 23فیصد سے کم ہو کر 2016ء تک تقریباً 4 فیصد رہ گئی۔ تاہم، یہ ترقی پائیدار ثابت نہ ہو سکی، کیونکہ یہ اعلیٰ پیداواری صلاحیت کے بجائے قرضوں پر مبنی تھی، جس کے باعث 2022ء میں ملک کو شدید معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان میں غربت اور عدم مساوات کی صورتِ حال
پلاننگ کمیشن نے حال ہی میں 25-2024 کے لیے غربت اور عدم مساوات کے تخمینوں پر منبی رپورٹ شائع کی ہے، جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ چھ سالوں کے دوران نہ صرف عدم مساوات بلکہ غربت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہ نتیجہ گھریلو آمدنی کی سطح اور اس کی تقسیم کے موازنے پر مبنی ہے، جو پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے تحت 2018-19 اور 2024-25 میں کیے گئے سروے کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے،تاہم اصل صورتِحال اس سے کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔
سوشل پالیسی اینڈ ڈیویلپمنٹ سینٹر کی حالیہ ریسرچ رپورٹ کے مطابق ملک میں غربت کی شرح 43.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ 2018-19 میں غربت کی شرح 36.6 فیصد تھی، اس طرح چند سالوں میں تقریباً 9 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں لگ بھگ2 کروڑ 70 لاکھ مزیدافراد غربت کا شکار ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس دوران شہری علاقوں میں غربت میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا، جہاں شرح 32.1 فیصد سے بڑھ کر42.1 فیصد ہو گئی، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 39.3 فیصد سے بڑھ کر 44.3 فیصد تک پہنچ گئی۔ یعنی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ نے شہروں میں رہنے والے افراد کو زیادہ متاثر کیا ہے۔
رہائش، یوٹیلیٹیز اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں کم آمدنی والے گھرانوں کو مزید محرومی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔تحقیق کے مطابق نہ صرف غربت بلکہ آمدنی میں عدم مساوات میں بھی نمایاں طور اضافہ ہوگیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امیر اور غریب کے درمیان فرق تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دولت کا بڑا حصہ محدود طبقے تک سمٹتا جا رہا ہے۔
یہ سماجی و معاشی انحطاط کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کو متعد د اقتصادی دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں کووِڈ 19 کے دیرپا اثرات، مہنگائی کی مسلسل بلند شرح، اور میکرو اکنامک عدم استحکام شامل ہیں۔
عوام کو اس صورتِ حال سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر حکومتی اقدامات کی عدم موجودگی نے عوام کی قوتِ خرید کم کر دی ہے۔ لاکھوں خاندانوں کے لیے اب بنیادی ضروریاتِ زندگی کا حصول بھی ممکن نہیں رہا۔ مزید برآں، اس عرصے کے دوران لوگوں کی حقیقی آمدنی میں (افراطِ زر کے اثرات کی موافقت سے) بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ 2018-19کی قیمتوں کے مطابق، آمدنی کے اعتبار سے زیریں 40 فیصد گھرانوں کی اوسط ماہانہ آمدنی 26،121 روپے سے کم ہو کر 21،500 روپے رہ گئی ہے۔
یہ نمایاں کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ غریب گھرانے نہ صرف بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ حقیقی معنوں میں ان کی آمدنی بھی کم ہو رہی ہے، جس سے ان کی معاشی کمزوری مزید بڑھ گئی ہے۔ جب آمدنی مہنگائی کے ساتھ ہم آہنگ نہیں رہتی تو خاندانوں کو خوراک، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی اخراجات میں کمی کرنا پڑتی ہے۔ اس کے طویل مدتی اثرات میں غذائی قلت میں اضافہ، تعلیمی شرح میں کمی اور صحت کے مسائل کی شدت شامل ہیں۔
اس کے علاوہ، گھریلو اشیا ء کی طلب میں کمی مجموعی معاشی سرگرمی کو بھی سست کر سکتی ہے ،کیونکہ کھپت معاشی ترقی کا ایک اہم محرک ہے۔ آمدنی اور اخراجات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق عدم مساوات میں اضافہ کرتا ہے اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے غربت سے نکلنا مزید مشکل بنا دیتا ہے، جس سے وہ نسل در نسل محرومی کے چکر میں پھنس سکتے ہیں۔
حقیقی آمدنی میں کمی کے باعث نچلے 40 فیصد گھرانوں میں خوراک پر اخراجات میں اضافہ اور فی کس خوراک کے استعمال میں واضح کمی ہوئی ہے۔ مجموعی گھریلو اخراجات میں خوراک کے اخراجات کا حصہ 2018-19 میں 46 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 49 فیصد ہو گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ محدود آمدنی کا بڑا حصہ اب بنیادی غذائی ضروریات پر خرچ ہو رہا ہے، اس طرح یہ گھریلو بجٹ پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے، ساتھ ہی اہم غذائی اشیاء کے فی کس استعمال میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
گندم کا فی کس استعمال 6.96 کلوگرام سے کم ہو کر 6.26 کلوگرام، دودھ 4.58 لیٹر سے کم ہو کر 3.80 لیٹر، اور تیل و گھی 0.84 کلو/لیٹر سے کم ہو کر 0.71 کلو/لیٹر رہ گیا ہے۔ مجموعی طور پر گندم کے فی کس استعمال میں 10 فیصد، دودھ میں 17 فیصد، اور تیل میں 14.5 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اخراجات میں اضافہ اور کھپت میں کمی کا یہ رجحان خوراک کے ناقابلِ استطاعت ہونے کی نشاندہی کرتا اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ گھرانے بنیادی غذائیت میں کمی کر رہے ہیں، جس کے غذائی تحفظ اور فلاح و بہبود پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستان میں غربت میں کمی کے پروگرام
غربت کے خاتمے کے لیے روایتی حکمتِ عملی زیادہ تر اس تصور پر مبنی رہی ہے کہ معاشی ترقی کے فوائد خود بخود غریب طبقات تک پہنچ جائیں گے۔ اس نظریے کے مطابق ترقی کے ثمرات آمدنی کے نچلے درجوں پر موجود گھرانوں تک بالواسطہ طور پر پہنچتے ہیں، تاہم پاکستان میں ’’ٹرکل ڈاؤن اکنامکس‘‘ کا یہ طریقہ مؤثر ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ معاشی ترقی کے بعض ادوار میں غربت میں کسی حد تک کمی آئی، لیکن اس کے فوائد غیر مساوی رہے اور زیادہ تر اعلیٰ آمدنی والے طبقات تک محدود رہے۔ بلند عدم مساوات، روزگار کے محدود مواقع، اور انسانی ترقی کی کمزور صورتحال نے ترقی کے ثمرات کو غریب طبقے تک پہنچنے سے روکے رکھا، جس کے باعث غربت میں کمی نہ تو مستقل رہی اور نہ ہی پائیدار۔
2000ء کے بعد سے پاکستان نے غربت میں کمی کے لیے سماجی تحفظ کے نظام اور ہدفی مالی معاونت پر بڑھتا ہوا انحصار کیا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ جیسے پروگرام مالی طور پر کمزور گھرانوں کو نقد رقوم کی منتقلی فراہم کرتے ہیں، جس سے آمدنی کے تحفظ اور گھریلو ا خراجات میں بہتری آتی ہے۔
تعلیم اور صحت سے متعلق مشروط اقدامات انسانی سرمایہ سازی میں مدد دیتے ہیں۔ National Socio-Economic Registry جیسے ڈیٹا بیس کے استعمال نے مستحقین کی بہتر نشاندہی ممکن بنائی ہے۔ موجودہ اہم پروگراموں میں سے بعض کا مختصراذیل میں ملاحظہ کریں۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام
یہ پروگرام 2008 ء میں مالی طور پر کمزور آبادی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے شروع کیا گیا۔ اس کا بنیادی ہدف غریب خواتین ہیں، جنہیں غیر مشروط نقد امداد’’کفالت‘‘ پروگرام کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ’’تعلیمی وظائف‘‘ اور ’’ہنرمند پروگرام‘‘ جیسے مشروط امدادی اقدامات بھی شامل ہیں۔
موجودہ مالی سال میں مجموعی طور پر 9.87 ملین مستحقین کے لیے بی آئی ایس پی کےلیے 598 ارب روپے مختص کیے گئے۔ اس پروگرام کی معاونت نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری (NSER)کرتی ہے، جو محروم طبقات کی نشاندہی کے لیے ایک جامع ڈیٹا بیس ہے۔
Pakistan Poverty Alleviation Fund
1997 میں قائم ہونے والا پی پی اے ایف ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جو کمیونٹی کی بنیاد پر ترقی کے لیے کام کرتا ہے۔ یہ انتہائی غریب خاندانوں کو خود کفالت کی طرف منتقل کرنے کے لیے ’’غربت سے نکلنے‘‘ کے طریقۂ کار کو استعمال کرتا ہے، جس میں ہنر مندی کی تربیت، اثاثوں کی فراہمی، اور مالی وسائل تک رسائی شامل ہیں۔ اس کا ایک اہم جزو وزیر اعظم کا بلاسود قرضہ پروگرام ہے۔
زکوٰۃ اور پاکستان بیت المال
زکوٰۃ کا نظام یتیموں، بیواؤں، اور معذور افراد کی معاونت کرتا ہے۔ مالی سال 2025 میں زکوٰۃ فنڈز کے تحت 12.21 ارب روپے صوبوں اور وفاقی علاقوں میں تقسیم کیے گئے، اسی طرح پاکستان بیت المال، اُن افراد کو طبی سہولیات، تعلیمی امداد، اور رہائش جیسی بنیادی خدمات فراہم کرتا ہے جو روزگار کمانے سے قاصر ہیں۔
محنت کشوں سے متعلق پروگرامز
ان میں ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹیٹیوشن (EOBI) اور ورکرز ویلفیئر فنڈ شامل ہیں۔ ای او بی آئی بڑھاپےاو ر معذوری کی صورت میں پنشن فراہم کرتا ہے۔ ورکرز ویلفیئر فنڈ صنعتی اداروں کی شراکت سے قائم کیا جاتا اور مزدوروں کے لیے وظائف، شادی گرانٹس، اور دیگر فلاحی اقدامات فراہم کرتا ہے۔
اگرچہ ان اقدامات نے غریب طبقات کو معاشی دباؤ سے بچانے میں کسی قدر مدد دی ہے، لیکن کم مالی امداد، محدود رسائی، اور طویل مدتی آمدنی کے مواقع سے ناکافی روابط کے باعث ان کے اثرات محدود رہے ہیں۔ان کوششوں کے باوجود پاکستان میں غربت میں کمی کی پالیسیوں کو کئی بڑی خامیوں کا سامنا ہے۔
سب سے پہلے، محدود رسائی ایک اہم مسئلہ ہے۔ غریب اور کمزور آبادی کا ایک بڑا حصہ ہدف بندی کی غلطیوں اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث سماجی تحفظ کے پروگراموں سے باہر رہ جاتا ہے۔ اگرچہ نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری جیسے نظام نے مستحق افراد کی نشاندہی کو بہتر بنایا ہے، لیکن شمولیت اور اخراج کی غلطیاں اب بھی موجود ہیں۔
دوسری بڑی خامی امداد کی ناکافی مقدار ہے۔ بی آئی ایس پی جیسے پروگراموں کے تحت دی جانے والی نقد امداد اتنی کم ہے کہ، وہ خاندانوں کو مستقل طور پر غربت سے نہیں نکال سکتی۔ زیادہ تر مستحقین یہ رقم فوری ضروریات، جیسے خوراک اور یوٹیلیٹی بلز پر خرچ کرتے ہیں، جس کے باعث تعلیم، صحت، یا آمدنی بڑھانے والی سرگرمیوں میں سرمایہ کاری کے مواقع محدود رہ جاتے ہیں۔
تیسری بات، پاکستان میں سماجی تحفظ پر کم اخراجات ہیں، جو عموماً جی ڈی پی کے 1 فیصد سے بھی کم ہیں، غربت میں کمی کے اقدامات کے دائرہ کار اور اثرات کو شدید حد تک محدود کرتے ہیں۔ اکنامک سروے 2024-25 مالیاتی مشکلات کو پروگراموں کی توسیع اور امداد میں اضافے کی ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتا ہے۔
چوتھی خامی ادارہ جاتی کمزوریاں اور طرزِ حکمرانی کے مسائل ہیں، جو پالیسیوں کی اثر پذیری کو متاثر کرتے ہیں۔ مستحقین کے انتخاب میں سیاسی مداخلت اور اقربا پروری شفافیت اور انصاف کو مزید کمزور بناتی ہے۔
پانچویں، معیشت کے ساختی مسائل غربت میں کمی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ بلند مہنگائی، بے روزگاری، اور غیر رسمی شعبے کی بالادستی غریب افراد کے لیے آمدنی کے مواقع محدود کرتی ہے۔ اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے مسائل، جیسے سیلاب اور خشک سالی، کمزور طبقات کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتے اور غربت میں کمی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
علاوہ ازیں، بہت سے پروگرام طویل مدتی غربت کے خاتمے کے بجائے صرف قلیل مدتی امداد پر توجہ دیتے ہیں۔ سماجی امداد اور معاشی طور پر بااختیار بنانے کے اقدامات، جیسے ہنر مندی کی تربیت، مائیکروفنانس اور روزگار کے مواقع کے درمیان مؤثر رابطہ نہیں، حالانکہ پائیدار غربت میں کمی کے لیے یہ انتہائی ضروری ہیں۔
اگرچہ پاکستان میں سماجی بہبود آئینی طور پر ایک صوبائی موضوع ہے، تاہم سماجی تحفظ کے لیے ایک مربوط اور ہم آہنگ قومی فریم ورک تشکیل دینے کی اشد ضرورت ہے۔ مختلف صوبوں کی آبادی سماجی اور معاشی روابط کے ذریعے ایک دوسرے سے گہری طور پر جڑی ہوئی ہے، جس کے باعث غربت اور کمزوری کے مسائل بھی تیزی سے بین الصوبائی نوعیت اختیار کر رہے ہیں۔
روزگار کے لیے بڑے پیمانے پر ہونے والی بین الصوبائی ہجرت معاشی عدم تحفظ کو صوبائی سرحدوں سے آگے منتقل کرتی ہے، جبکہ سیلاب، دہشت گردی یا دیگر بحرانوں کے باعث ہونے والی نقل مکانی بھی متاثرہ آبادیوں کو اپنے آبائی صوبوں سے باہر لے جاتی ہے۔ ایسے حالات میں غربت اور سماجی عدم تحفظ جیسے مسائل کو صرف الگ الگ صوبائی اقدامات کے ذریعے مؤثر طور پر حل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے قومی اور صوبائی سطح پر مربوط اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
اس ضمن میں چند تجاویز درجِ ذیل ہیں۔
ایک مربوط قومی سماجی تحفظ پلیٹ فارم کی تشکیل
نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری وفاقی اور صوبائی سماجی تحفظ پروگراموں کے لیے بنیادی ڈیٹا بیس کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے، اسے 2022 میں جامع طور پر اپ ڈیٹ کیا گیا تھا، تاہم حکومتِ پنجاب کی جانب سے 2024 میں علیحدہ سماجی رجسٹری قائم کرنے کا فیصلہ غیر ضروری اور عوامی وسائل کے قابلِ اجتناب استعمال کا عکاس ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ NSER کی بنیاد پر ایک مربوط قومی سماجی تحفظ پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے۔ بین الاقوامی تجربات مربوط سماجی رجسٹریوں کی افادیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، برازیل کا سماجی تحفظی نظام 30 سے زائد سماجی پروگراموں کے لیے ایک واحد پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے، جبکہ میکسیکو، فلپائن، ایتھوپیا اور چلی جیسے ممالک نے بھی مربوط نظام قائم کیے ہیں۔
بین الحکومتی رابطہ کاری کے باضابطہ فریم ورک کا قیام
مشترکہ مفادات کونسل کے تحت ایک باضابطہ ادارہ جاتی نظام قائم کیا جانا چاہیے، تاکہ سماجی تحفظ کے لیے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے رہنمائی فراہم اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کے انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔
بحران سے نمٹنے کے قابل سماجی تحفظی نظام کی تشکیل
پاکستان کے سماجی تحفظی نظام کو ابتدائی انتباہ اور آفات سے نمٹنے کے نظاموں کے ساتھ منسلک کیا جانا چاہیے، تاکہ بحران کے دوران فوری معاونت فراہم کی جا سکے۔ سیلابی انتباہات، خشک سالی یا مہنگائی میں شدید اضافے کی صورت میں عارضی نقد امداد میں خودکار توسیع متحرک ہو جانی چاہیے۔
کمزور اور مستحق گھرانوں کی پہلے سے نشاندہی نظام میں موجود ہونی چاہیے تاکہ فوری ردِعمل ممکن بنایا جا سکے۔ سیٹلائٹ تصاویر اور موبائل ڈیٹا جیسی ٹیکنالوجیز مستحقین کی بہتر نشاندہی میں مدد دے سکتی ہیں، جبکہ مقامی حکومتوں اور کمیونٹی اداروں کو ترسیل اور تصدیقی عمل میں مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔
انسانی ترقی اور معاشی شمولیت کی ضرورت
سماجی تحفظ کی پالیسی کو قلیل مدتی فلاحی امداد سے آگے بڑھاتے ہوئے اس وسیع مقصد کی جانب منتقل ہونا چاہیے کہ گھرانوں کو غربت سے مستقل نجات حاصل کرنے کے قابل بنایا جائے۔ فلاحی امداد وقتی بقا کو یقینی بنا سکتی ہیں، لیکن طویل المدتی خوشحالی کے لیے پیداواری شمولیت اور معاشی نقل و حرکت ضروری ہے۔
اس کے لیے پالیسی ڈیزائن اور ادارہ جاتی سوچ دونوں میں تبدیلی درکار ہے، جبکہ ٹیکنالوجی اس عمل میں ایک اہم معاون کردار ادا کر سکتی ہے۔ سماجی تحفظ کو زندگی کے مختلف مراحل پر مبنی نقطۂ نظر اختیار کرنا چاہیے، جو بچپن،جوانی سے لے کر عملی زندگی اور بڑھاپے تک افراد کی معاونت کرے۔
ایک مرتبہ کسی گھرانے کی سماجی رجسٹری میں نشاندہی ہو جائے تو اسے بار بار درخواستوں یا انتظامی رکاوٹوں کے بغیر متعلقہ خدمات سے خودکار طور پر منسلک کر دیا جانا چاہیے۔
مزید برآں، سماجی رجسٹری کو صرف ادائیگی کے نظام تک محدود رکھنے کے بجائے معاشی مواقع کے پلیٹ فارم میں تبدیل کیا جانا چاہیے، جو مستحق افراد کو فنی تربیتی اداروں، روزگار کی خدمات، مائیکرو کریڈٹ اور کاروباری معاونت کی اسکیموں سے منسلک کرے۔