• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان مالی سال27-2026 کے لیے اپنے آئندہ وفاقی بجٹ کے اعلان کی تیاری کرتے ہوئے، ایک نہایت اہم معاشی موڑ پر کھڑا ہے۔ آئی ایم ایف کے پروگرام کی سخت شرائط کے تحت کام کرتے ہوئےاورمتعد د اقتصادی چیلنجز سے نمٹتے ہوئے پالیسی سازوں پر بڑھتا ہوا دباؤ ہے کہ وہ ایسا فریم ورک پیش کریں جو مالیاتی استحکام اور جامع ترقی دونوں کی ترجیحات کو مدِنظر رکھے۔

بجٹ محض ایک مالی دستاویز نہیں بلکہ اس بات کا عکاس ہوتا ہے کہ حکومت ساختی کمزوریوں کو دور کرنے اور عام شہریوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے کن ترجیحات کا تعین کرتی ہے۔ یہ بجٹ حکومت کے اس عزم کا اہم پیمانہ ہے کہ وہ نہ صرف ساختی مسائل، جیسے محدود ٹیکس بنیاد اور توانائی کے شعبے کےگردشی قرض کو حل کرے، بلکہ کم آمدنی والے گھرانوں کو مسلسل مہنگائی کے دباؤ سے بھی محفوظ رکھے۔

حالیہ دنوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب اس بات پر توجہ مرکوز ہے کہ آیا مالیاتی منصوبہ معیشت کو قلیل مدتی بحران سے نکال کر ایک مضبوط اور پائیدار ترقی پر مبنی ماڈل کی طرف لے جا سکتا ہے، جو عوام اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرے۔

اگرچہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کئے گئے اقدامات کے باعث کچھ استحکام آیا ہے، تاہم دیرینہ اور پیچیدہ معاشی مسائل اب بھی حل طلب ہیں ۔ ملک کی اقتصادی ترقی کی شرح تقریباً 3 سے 3.5 فیصد ہے، جو بڑھتی ہوئی آبادی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ہماری معیشت، سست رفتار ترقی، توانائی کے بلند اخراجات اور محدود ٹیکس نیٹ جیسے دیرینہ مسائل سے مزید متاثر ہو رہی ہے۔

بے روزگاری اور جزوی روزگار میں اضافہ پیداواریت کی کمزوری اور صنعتی ترقی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے جامع اصلاحات نہ کی گئیں تو معیشت سست رفتار ترقی اور مالیاتی انحصار کے چکر میں پھنسی رہ سکتی ہے۔

پاکستان کی معیشت کو درپیش ایک بڑا چیلنج حکومتی قرضوں کا بڑھتا ہوا حجم ہے، جو سود کی ادائیگیوں کے ذریعے حکومتی مالیات پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون 2024 میں مجموعی قرض 71,246 ارب روپے (جی ڈی پی کا 67.8 فیصد) تھا، جو جون 2025 تک بڑھ کر 80,518 ارب روپے (70.7 فیصد) ہو گیا۔ دسمبر 2025 تک یہ مزید بڑھ کر 81,374 ارب روپے تک پہنچ گیا، جس میں 55,363 ارب روپے اندرونی اور 26,011 ارب روپے بیرونی قرض شامل ہے۔

یہ بڑھتا ہوا بوجھ حکومت کی مالیاتی گنجائش کو محدود کرتا ہے کیونکہ آمدنی کا بڑا حصہ قرض کی ادائیگی پر خرچ ہوتا ہے، جس سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل کم رہ جاتے ہیں۔ نتیجتاً بنیادی شعبوں جیسے انفراسٹرکچر، صحت اور تعلیم میں سرمایہ کاری محدود ہو جاتی ہے۔

توانائی کی قیمتوں اور بیرونی دھچکوں کے باعث مہنگائی کی صورتِ حال مزید غیر یقینی ہو چکی ہے۔ مارچ میں 7.3 فیصد مہنگائی کی شرح مئی کے آغاز تک تقریباً 10 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، جس کی بڑی وجہ توانائی کے شعبے میں خلل ہے۔ پیٹرول کی قیمت تقریباً 393 روپے فی لیٹر ہو چکی ہے۔

یہ اضافہ صرف عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مقامی ساختی اصلاحات سے بھی جڑا ہوا ہے، جن میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور گردشی قرض کو کم کرنا شامل ہے۔ توانائی کی بلند قیمتیں گھریلو اخراجات پر اثر انداز ہوتیں اور قوت خرید کو کمزور کرتی ہیں۔

حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ استحکام اور ترقی کے درمیان توازن قائم کرے۔ توانائی کے شعبے کا بحران، کمزور طرزِ حکمرانی، کم برآمدات اور سیاسی غیر یقینی صورتحال بھی پائیدار ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ مجموعی طور پر ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان قلیل مدتی استحکام سے نکل کر طویل مدتی اصلاحات کی طرف بڑھے۔

27-2026 کا بجٹ: آئی ایم ایف کی شرائط کے تناظر میں 

حالیہ رپورٹس کے مطابق، پاکستان کا آئندہ بجٹ آئی ایم ایف کی نگرانی میں تیار کیا جا رہا ہے، جو بیرونی مالی قرضوں پر ہمارےحد درجہ بڑھتے ہوئےانحصار کو ظاہر کرتا ہے۔ ستمبر 2024ء میں منظور ہونے والا آئی ایم ایف کا ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام تقریباً 7 ارب ڈالر کا ہے جو 2024ء سے 2027ء تک جاری رہے گا۔

یہ پروگرام چار بنیادی ستونوں پر مبنی ہے:

1) درست مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کے ذریعے اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے لیے سازگار ماحول کو فروغ دے کر معاشی استحکام کو مضبوط کرنا۔ اس کا مقصد پائیدار ترقی کے لیے ٹھوس بنیاد رکھنا ہے۔

2) حکومتی اخراجات کی اثر پذیری میں بہتری کے ذریعے عوامی مالیات کو مضبوط کرنا، اہم عوامی خدمات کی فراہمی کو بڑھانااور موجودہ ٹیکس والے شعبوں سے محصولات کی وصولی کو مضبوط بنانا۔

3) مناسب مالیاتی پالیسیوں کے ذریعے افراط زر کو محدود کرنا اور زرِ مبادلہ کی شرح میں لچک کو غیر ملکی ذخائر کی تعمیر نو میں مد د کے لیے استعمال کرنا۔

4) توانائی کے شعبے میں جامع ترقی کو فروغ دینے کے لیے ساختی اصلاحات کا نفاذ، سماجی تحفظ کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانا، گورننس اور انسدادِ بدعنوانی کی کوششوں، سرکاری اداروں میں اصلاحات، اور مصنوعات کی منڈیوں کو غیر منظم کرنا۔

پروگرام کے تحت شرائط کا دائرہ وسیع اور کثیر سطحی ہے۔ اس میں اپنی مدت کے دوران تقریباً 50 اسٹرکچرل بینچ مارکس اور اصلاحاتی شرائط شامل ہیں۔ ان کے علاوہ، اہم معاشی اشاریوں جیسے مالی خسارہ، زرِ مبادلہ کے ذخائر، اور مہنگائی سے متعلق متعد د سہ ماہی مقداری اہداف بھی مقر ر کیے گئے ہیں۔ پروگرام کے ہر مرحلے میں کارکردگی اور عملدرآمد میں پیش رفت کے مطابق شرائط میں ترمیم، سختی یا نئی شرائط شامل کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔

حالیہ جائزوں میں تقریباً 11 نئی یا زیادہ سخت شرائط شامل کی گئی ہیں۔خلاصہ یہ کہ ،اصلاحات کے اہم شعبوں میں ٹیکس آمدن میں اضافہ، مالی خسارے میں کمی، اور توانائی کے شعبے میں لاگت کی وصولی کو یقینی بنانا شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو ان نسبتاً سخت اقدامات کے نفاذ اور پہلے ہی مہنگائی اور سست آمدنی کی نمو سے متاثر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔

مالی فریم ورک کی تیاری میں حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے شدہ اہداف کے مطابق اپنی پالیسیوں کو ہم آہنگ کرنے کی پابند ہے، خصوصاً مالی نظم و ضبط، آمدن میں اضافہ، اور ساختی اصلاحات کے حوالے سے۔ اس کے ساتھ ہی، پالیسی سازی میں متوازن اور عملی نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔

بجٹ پالیسی کے فیصلے زمینی حقائق سے الگ ہو کر نہیں کیے جا سکتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کو گھریلو سطح پر درپیش معاشی حقائق کے ساتھ ساتھ مقامی کاروبار،صنعتوں کو درپیش مسائل اور تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا جائے، جو پہلے ہی لاگت کے شدید دباؤ اور ساختی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، لہٰذا معاشی استحکام کو یقینی بناتے ہوئے پیداواری شعبوں پر غیر ضروری بوجھ سے بچنا ایک اہم پالیسی چیلنج ہوگا۔

سب سے بڑھ کر، بجٹ پالیسی کو وسیع عوامی ضروریات کے حوالے سے (خاص طور پر مہنگائی، بے روزگاری، اور قوتِ خرید میں کمی کے تناظر میں) حساس ہونا چاہیے ۔ آئی ایم ایف کی شرائط پر مبنی اصلاحات اور مقامی سماجی و معاشی ترجیحات کے درمیان توازن قائم کرنا معاشی استحکام اور پالیسی کی عوامی قبولیت دونوں کے لیے نہایت اہم ہوگا۔

ٹیکس اصلاحات

پاکستان میں تنخواہ دار طبقے پر عائد انکم ٹیکس میں اصلاحات ایک اہم ضرورت ہے، کیونکہ یہ طبقہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والا ہے۔ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی حقیقی آمدنی کو کم کر رہی ہے، جس کے باعث ہدف شدہ ریلیف اور وسیع تر ساختی اصلاحات دونوں کی ضرورت ہے۔

تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس سے مستثنیٰ حد 6لاکھ روپے ہے، جس میں 20-2019 سے کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق افراطِ زر میں 20-2019سے 2024-25 کے درمیان 200 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ اگر حدِ استثنیٰ کو مہنگائی کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائے تو ٹیکس فری آمدنی کی حد کم از کم 12 لاکھ روپے ہونی چاہیے۔

مزید برآں، ٹیکس سلیبز کی تعداد میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔ سلیبز نظام کو زیادہ منصفانہ اور تدریجی بنایا جائے، اس سے آمدنی میں معمولی اضافے پر ٹیکس کا بوجھ اچانک نہیں بڑھتا اور  ’’بریکٹ شاک‘‘ سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔ ایسے ملک میں جہاں مہنگائی اور آمدنی میں عدم مساوات زیادہ ہو، زیادہ سلیب کا ڈھانچہ نچلے اور متوسط طبقے کو تحفظ دیتا، زیادہ آمدنی والے افراد سے متناسب ٹیکس وصولی کو یقینی بناتا ہے۔ اسی طرح متوسط آمدنی والوں کے لیے ٹیکس ریٹ کم کرنا،مثلاً زیادہ سے زیادہ شرح کو 35 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کرنا،ان پر بوجھ کم کر سکتا ہے۔

کارپوریٹ ٹیکسز

مختلف کاروباری تنظیموں نے بجٹ 27-2026کے لیےاصلاحات تجویز کی ہیں، جن پر توجہ ضروری ہے۔ مثال کے طور پر، پاکستان بزنس کونسل نے انٹر کارپوریٹ ڈیویڈنڈز پر ٹیکس نیوٹرلٹی بحال کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ ایک ہی منافع پر متعد د بار ٹیکس عائد نہ ہو۔

اس وقت سبسڈری سے ہولڈنگ کمپنی اور پھر شیئر ہولڈرز تک ڈیویڈنڈ کی منتقلی پر بار بار ٹیکس لگتا ہے، جس سے موثر شرح 68 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ ٹیکس نیوٹرلٹی کی بحالی سے کمپنیوں کو رسمی ڈھانچے اپنانے کی ترغیب ملے گی اور شفافیت بڑھے گی۔

اسی طرح اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے سپر ٹیکس کے خاتمے کی تجویز دی ہے، جو ابتدا میں عارضی تھا مگر اب کئی کمپنیوں کے لیے مؤثر ٹیکس شرح تقریباً 40 فیصد تک ہو گئی ہے۔

اس کا خاتمہ پاکستان کو علاقائی ممالک کے مقابلے میں زیادہ مسابقتی بنا سکتا اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دے سکتا ہے،تاہم اگر مخصوص شعبوں میں غیر معمولی منافع ہو،مثلاً عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث،تو حکومت عارضی اور ہدف شدہ سپر ٹیکس دوبارہ نافذ کر سکتی ہے، بشرطیکہ یہ واضح مدت کے لیے ہو۔

پیٹرولیم لیوی

غیر ٹیکس آمدن کے ایک بڑے ذریعے کے طور پر وفاقی حکومت کا پیٹرولیم لیوی پر انحصار روز بہ روزبڑھتا جا رہا ہے، جو ملک کے مالیاتی نظام کی ایک وسیع تر ساختی کمزوری کی عکاسی کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ انحصار اس لیے بڑھا ہے کیونکہ اس کی وصولی انتظامی طور پر آسان ہے اور یہ فیول سے منسلک نسبتاً مستحکم آمدنی فراہم کرتا ہے۔

مزید برآں، یہ آمدن قابلِ تقسیم پول کا حصہ نہیں ہے، اس لیے وفاقی حکومت کو اسے صوبوں کے ساتھ تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نتیجتاً، موجودہ سخت مالی حالات اور بیرونی مالیاتی انتظامات کے تناظر میں، پیٹرولیم لیوی محصولات کے اہداف حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔

2020-21 سے 2024-25 تک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کی آمدن مجموعی وفاقی ٹیکس آمدن کے مقابلے میں غیر معمولی رفتار سے بڑھی ہے۔ یہ آمدن 128ارب روپے سے بڑھ کر 1220ارب روپے تک پہنچ گئی، جو تقریباً دس گنا اضافہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ اسی عرصے میں کل ٹیکس آمدنی 6143ارب روپے سے بڑھ کر 11744ارب روپے تک ہی بڑھی ہے، تاہم اس حد سے زیادہ انحصار کے نمایاں معاشی اور سماجی مضمرات ہیں، چونکہ ایندھن ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعت میں ایک بنیادی جزو ہے، اس لیے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ پوری معیشت میں مہنگائی کے دباؤ کو بڑھاتا ہے۔

اس کے اثرات خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے گھرانوں پر زیادہ پڑتے ہیں، کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ اور خوراک مہنگی ہو جاتی ہے۔ مزید برآں، یہ مہنگائی کے رجحانات میں غیر یقینی کیفیت اور اتار چڑھاؤ پیدا کرتا ہے، جس سے معاشی نظم و نسق مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

تشویش کی ایک اوربات یہ ہے کہ، پیٹرولیم لیوی پر انحصار وسیع تر ٹیکس اصلاحات کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ آمدن، جائیداد اور زرعی شعبے میں ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے بجائے، پالیسی سازوں کے لیے محصولات کی کمی پوری کرنے کے لیے ایندھن پر لیوی میں رد و بدل کرنا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ اس سے قلیل مدتی مالی سہارا تو ملتا ہے، مگر طویل مدتی ساختی اصلاحات کی کوششیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔

زرعی انکم ٹیکس

2025 ء میں پاکستان کی چاروں صوبائی حکومتوں نے وسیع تر مالیاتی اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت زرعی انکم ٹیکس سے متعلق قوانین متعارف کرائے یا ان میں ترامیم کیں۔ یہ ایک اہم پیش رفت تھی، کیونکہ زرعی شعبہ کئی دہائیوں تک بڑی حد تک رسمی انکم ٹیکس نظام سے باہر رہا تھا۔

تاہم زرعی انکم ٹیکس اصلاحات کا اصل امتحان قانون سازی نہیں بلکہ حقیقی آمدنی کے نتائج ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا یہ صوبائی قوانین ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ کر پاتے ہیں یا نہیں، اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ کیا یہ ملک کے مسلسل کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان قوانین کے مؤثر نفاذ کی جھلک گزشتہ سال کے صوبائی بجٹوں میں نظر نہیں آتی۔ معاشی ماہرین کے مطابق زرعی انکم ٹیکس کی ممکنہ آمدن 600 سے 800ارب روپے سالانہ ہو سکتی ہے، جبکہ اس کے برعکس تمام صوبوں کے بجٹ تخمینوں کو ملا کر وصولی تقریباً 20 ارب روپے کے قریب ہے، جو ممکنہ سطح سے بہت کم ہے۔ اس سلسلے میں چند سفارشات درجِ ذیل ہیں۔

1) زرعی انکم ٹیکس کے نظام کو تمام صوبوں میں مکمل طور پر ایک متحد قومی ٹیکس ڈیٹا آرکیٹیکچر میں ضم کیا جائے۔ اس کے لیے صوبائی ریونیو اتھارٹیز کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سسٹم کے ساتھ منسلک کرنا ضروری ہے، تاکہ زمین کی ملکیت، آمدنی کے گوشوارے اور ٹیکس فائلنگ پر مشتمل ایک مشترکہ ڈیٹا بیس تشکیل دیا جا سکے۔ اس طرح زرعی آمدن کو مجموعی قابلِ ٹیکس آمدن کے نظام کا حصہ بنایا جا سکے گا۔

2) اگر صوبے چاہیں تو وہ زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کا اختیار وفاقی حکومت کو دے سکتے ہیں۔ اس سے کارکردگی، کمپلائنس اور ریونیو وصولی میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

3) زرعی آمدن کی دیگر آمدنی کے ذرائع کے ساتھ کراس ویریفیکیشن لازمی ہونی چاہیے (خاص طور پر زیادہ مالیت رکھنے والے افراد کے لیے)۔ اس سےغیر زرعی آمدنی کو زرعی آمدنی دکھا کر ٹیکس چوری کرنے کے رجحان پر قابو پانے میں مد د مل سکتی ہے۔

4) ایک مشترکہ وفاقی و صوبائی نظام متعارف کرایا جا سکتا ہے جو اعلیٰ آمدنی والے زرعی ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کو یقینی بنائے اور تمام صوبوں میں یکساں نفاذ فراہم کرے۔ اس قسم کی اصلاحات کے بغیراس بات کا خدشہ ہے کہ زرعی انکم ٹیکس اصلاحات ایک علامتی اقدام بن کر رہ جائیں گی۔

حکومتی اخراجات

بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے حکومت کا روایتی انداز زیادہ تر آمدنی بڑھانے پر مرکوز رہا ہے، خصوصاً ٹیکس وصولی میں بہتری اور نئے ٹیکس اقدامات کے ذریعے۔ اگرچہ مالی استحکام کے لیے ریونیو میں اضافہ ایک اہم امر ہے، تاہم حکومتی اخراجات کی کارکردگی اور اثر پذیری بہتر بنانے پر نسبتاً کم توجہ دی گئی ہے۔ یہ عدم توازن مالی اصلاحات کے مجموعی اثر کو محدود کر دیتا ہے، کیونکہ بڑھتی ہوئی آمدنی اکثر اخراجات کے مسلسل غیر مؤثرہونے کے باعث پوری طرح فائدہ مند ثابت نہیں ہو پاتی۔

حکومت کے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کے درمیان شدید عدم توازن پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل چارٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی دباؤ کے ادوار میں ایڈجسٹمنٹ کا زیادہ بوجھ ترقیاتی اخراجات پر آتا ہے۔ 2019-20 سے 25-2024 کے دوران جاری یا غیر ترقیاتی اخراجات بجٹ پر مسلسل غالب رہے، جن کا کل اخراجات میں حصہ 90فیصد سے زائد رہاہے جبکہ 2023-24 میں یہ تناسب بڑھ کر 95.1 فیصد کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیاتھا۔

اس کے برعکس، ترقیاتی اخراجات کا حصہ2019-20 میں 9.3 فیصد سے کم ہو کر 2023-24 میں 4.9 فیصد تک گر گیا، جبکہ25-2024 میں معمولی بہتری کے ساتھ 6.2 فیصد تک بحال ہوا۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومتیں مالی دباؤ کے وقت روایتی اور لازمی اخراجات (جیسے تنخواہیں، سود کی ادائیگیاں، اور سبسڈیز) کو محفوظ رکھنے کو ترجیح دیتی ہیں، جبکہ سرمایہ کاری پر مبنی ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کر دی جاتی ہے۔ نتیجتاً، طویل المدتی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری متاثر ہوتی ہے۔

تشویش کا ایک اور پہلو پاور سیکٹر کی سبسڈیز ہیں، جو طویل عرصے سے بجلی کی بلند قیمتوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں، خاص طور پر کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے، تاہم یہ سبسڈیز عموماًبجلی کے استعمال پر مبنی ہوتی ہیں، جو قلیل مدت میں بجلی کے بل کم کر دیتی ہیں مگر نظام کے بنیادی طور پرغیر مؤثرہونے کے مسئلے کو حل نہیں کرتیں۔

اگرچہ یہ فوری ریلیف فراہم کرتی ہیں لیکن سرکاری مالیات پر دباؤ بھی بڑھاتی اور توانائی کے نظام کی پائیداری بہتر بنانے یا گرڈ پر انحصار کم کرنے میں محدود کردار بھی ادا کرتی ہیں۔مؤثر حکمت عملی یہ ہوسکتی ہے کہ سبسڈیز کو پیداوار پر مبنی سمت میں منتقل کیا جائے، یعنی غریب گھرانوں کو بنیادی سطح کے شمسی توانائی نظام حاصل کرنے میں مد د فراہم کی جائے۔

اس سے گھرانے اپنی بجلی خود پیدا کرنے کے قابل ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں حکومت پر بار بار سبسڈی دینے کا بوجھ کم ہوگا، قومی گرڈ پر دباؤ کم پڑے گااور کلین انرجی کے استعمال کو فروغ ملے گا۔طویل مدت میں یہ حکمت عملی نہ صرف معاشی اور ماحولیاتی فوائد فراہم کرے گی بلکہ کمزور طبقات کو زیادہ توانائی تحفظ دے کر با اختیار بھی بنائے گی، اور ایک زیادہ پائیدار، خود کفیل توانائی کے شعبے کی تشکیل میں مد دے گی۔

بجٹ میں سب سے اہم اور توجہ طلب مسئلہ غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ پاکستان میں کمزور اور غریب گھرانوں کو سہارا دینے کے لیے غربت میں کمی کے لئے اخراجات میں فوری اور نمایاں اضافہ ناگزیر ہے۔ سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں غربت کی شرح 43.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

اس صورتحال میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت کی وسعت کے مقابلے کے کیش ٹرانسفرز میں اضافہ اور اس کی کوریج کو وسعت دینا انتہائی اہم ہے ،تاکہ معاشرے کے سب سے کمزور طبقے کو تحفظ فراہم کیا جا سکے ۔اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی اہم ہے کہ سماجی تحفظ کی ذمہ داری صرف وفاقی حکومت تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔

اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت غربت میں کمی اور سماجی بہبود بڑی حد تک صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ اس لیے صوبوں کو بھی اپنا مالی کردار بڑھانا ہوگا اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کے لیے زیادہ وسائل مختص کرنا ہوں گے۔ ایک مربوط وفاقی و صوبائی حکمت عملی نہ صرف غربت کے خلاف اقدامات کو مؤثر بنانے میں مد د کرے گی بلکہ ملک بھر میں سماجی تحفظ کے ایک زیادہ منصفانہ اور پائیدار نظام کو بھی یقینی بنائے گی۔

حکومتی پالیسی کی توجہ اخراجات کے مؤثر انتظام کی طرف زیادہ منتقل کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ اس میں جاری اخراجات کو معقول بنانا، غیر ضروری یا کم ترجیحی اخراجات کو ختم کرنا، اور سبسڈیز اور ترقیاتی فنڈز کے اہداف کو بہتر بنانا شامل ہے۔

اسی طرح، پبلک فنانشل مینجمنٹ کے نظام کو مضبوط کرنا اور حکومتی اخراجات کی مؤثر نگرانی یقینی بنانا بھی ضروری ہے تاکہ کم وسائل میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے۔

ایک متوازن مالیاتی حکمت عملی،جو آمدنی میں اضافے کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط پر مبنی ہو اور جس میں مؤثر اخراجاتی انتظام بھی شامل ہو، نہ صرف بجٹ خسارے کو زیادہ پائیدار طریقے سے کم کرنے میں مد دے گی بلکہ انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ جیسے پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے مالی گنجائش بھی پیدا کرے گی۔ 

معیشت سے مزید