چند برسوں سے پاکستان کی معیشت کو مسلسل اور کثیر الجہت چیلنجز کا سامنا رہا ہے جو اقتصادی استحکام کے لیے کڑی آزمائش بنتے جا رہے ہیں۔ دائمی مالیاتی خسارہ ایک بنیادی مسئلہ رہا ہے ،جہاں حکومتی اخراجات مسلسل آمدن سے تجاوز کرتے رہے ہیں۔
اس عدم توازن نے ملک کو اندرونی اور بیرونی قرضوں پر بہت زیادہ انحصار کرنے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں قرضوں کا بوجھ بڑھتا چلا گیا۔ اسی دوران منہگائی نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کوبہت کم کر دیا اور خوراک، ایندھن اور یوٹیلیٹی خدمات کی نرخوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ کرنسی کی قدر میں کمی نے ان دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
پاکستانی روپے کی کم زوری نے درآمدات کو مزید منہگا بنا دیا ہے، خاص طور پر ضروری اشیاء، جیسے کہ تیل کی قیمت بڑھی ہے، جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ بڑھ گیا ہے۔ ساختی کم زوریوں نے اس صورت حال کو مزید پے چیدہ بنا دیا ہے، جن میں محدود ٹیکس نیٹ، برآمدات میں تنوّع کی کمی اور توانائی کے شعبے کی ناقص کارکردگی شامل ہیں۔ سیاسی عدم استحکام نے بھی اقتصادی غیر یقینی صورت حال میں اضافہ کیا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوئی اوراقتصادی ترقی سست پڑ گئی ہے۔
تاہم، حالیہ مہینوں میں بحالی کے کچھ آثار سامنے آئے ہیں۔ افراطِ زر نے اپنی بلند ترین سطح کے مقابلے میں کمی کا رجحان دکھایا ہے۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے اوراقتصادی ترقی کے تخمینےبہ تدریج مستحکم ہو رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے کی گئیں جزوی اقتصادی اصلاحات اور عالمی مالیاتی اداروں کی معاونت نے پاکستان کو بحران کے دہانے سے پیچھے ہٹنے میں مد د دی ہے۔
اس کے باوجود یہ بحالی اب بھی دیرپا نہیں ہے اور بیرونی اقتصادی جھٹکوں کے لیےانتہائی حساس ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایک نیا عالمی اقتصادی بحران ابھرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
ابھرتا ہوا عالمی اقتصادی بحران
مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ حالات کےنتیجے میں،جو ایران اور امریکا کے درمیان اسرائیل کی شمولیت کے ساتھ لڑی جانے والی جنگ سے پیدا ہوئے ، ہم ایک نئے عالمی اقتصادی بحران کا شکار ہوسکتے ہیں۔ عالمی اقتصادی ماحول تیزی سے غیر یقینی کا شکار ہوتا جا رہا ہے،جہاں جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں، سپلائی چین میں رکاوٹیں، اور توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ ایک ممکنہ عالمی اقتصادی کساد بازاری کے خدشات کو بڑھا رہے ہیں۔
تیل اور گیس کے ذخائر کو پہنچنے والے نقصانات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور ریفائنریز کی تباہی، نیز آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کی بندش کے باعث چند ہفتوں کے دوران ہی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ جنگ سے قبل خام تیل کی قیمت 64امریکی ڈالرز فی بیرل تھی جو بڑھ کر تقربیا 110امریکی ڈالرز فی بیرل ہو گئی۔ اس طرح کا تنازع عالمی توانائی کی منڈیوں، تجارتی بہاؤ اور مالیاتی استحکام پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
پاکستان کےلیے،جو عالمی اجناس اور مالیاتی منڈیوں کے ساتھ بہت گہرے انداز سے جڑا ہوا ہے، یہ حالات سنگین خطرات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ملک کااقتصادی ڈھانچا اسے بیرونی شاکس کے لیے خاص طور پر حساس بناتا ہے، خصوصاً وہ جو توانائی کے شعبے سے جنم لیتے ہیں۔ عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یاقیمتوں میں تیز اضافہ بہ راہِ راست پاکستان کے درآمدی بل، افراطِ زر کی شرح اور مجموعی اقتصادی استحکام کو متاثر کرتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے اثرات لاہور اور کراچی کی سڑکوں تک فوری طور پر منتقل ہو ئے اور مزید ہوسکتے ہیں۔اگر آبنائے ہرمز،جو دنیا میں تیل کی ترسیل کا بہت اہم راستہ ہے، مزید کچھ عرصہ متاثر رہتی ہےتو خام تیل کی عالمی قیمت حقیقتاً 150 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے، جو اس وقت ایک بڑے تجارتی خسارے کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اس طرح کا اضافہ تباہ کن ثابت ہوگا۔
جہاں تک اس جنگ کے عالمی اور خلیجی معیشتوں پر اثرات کا تعلق ہے تو اگرچہ تیل برآمد کرنے والے خلیجی ممالک کو ابتدا میں بلند قیمتوں سے فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن طویل مدتی عدم استحکام ان کی معیشتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ معاشی سرگرمیوں میں کمی، سرمایہ کاری کے بہاؤ میں غیر یقینی صورت حال اور ممکنہ سکیورٹی خدشات ان ممالک کی اقتصادی ترقی پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
محنت کش درآمد کرنے والی خلیجی معیشتوں، جیسے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اور قطر میں، اقتصادی سست روی کے باعث غیر ملکی کارکنوں کی طلب میں کمی آ سکتی ہے۔ پاکستان اس صورت حال سے بہ راہِ راست متاثر ہو گا، کیوں کہ اس کے خلیجی خطے کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعلقات ہیں۔
پاکستان کااقتصادی عدمِ تحفظ
پاکستان کی معیشت میں کئی ساختی کم زوریاں موجود ہیں جو بیرونی دھچکوں کے اثرات کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ ان میں سے ایک سب سے اہم کم زوری درآمد شدہ توانائی پر انحصار ہے۔ تیل کی درآمدات پاکستان کی جی ڈی پی کا تقریباً چار فی صد بنتی ہیں، جس کی وجہ سے توانائی کے اخراجات ملک کے درآمدی بل کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ یہ محض ایک شماریاتی عد د نہیں ہے، بلکہ یہ قوم کے زرِ مبادلہ کے ذخائر پر ایک وسیع اور ناگزیر بوجھ کی نمائندگی کرتا ہے۔
مزید برآں، پاکستان کی توانائی کی تقریباً80فی صد درآمدات خلیجی ممالک سے ہوتی ہیں۔ اس انحصار کی وجہ سے پاکستانی معیشت تیل کی قیمتوں میں اتارچڑھاؤ اور مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی، سیاسی حالات کے اثرات فوری طور پر متاثر ہوتی ہے۔تیل کی فراہمی میں کسی بھی رکاوٹ یا قیمتوں میں اچانک اضافہ فوری طور پر ملکی لاگتوں میں اضافے اور اقتصادی عدم استحکام میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اگر علاقائی تنازع خلیج میں مزید عدم استحکام پیدا کرتا ہے تو پاکستان کو ایک دو دھاری تلوار کا سامنا ہوگا۔ ایک طرف ایندھن کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں صنعتی کارخانوں کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوگی اور وہ خوف ناک لوڈ شیڈنگ دوبارہ ابھرے گی جس نے پچھلی دہائیوں میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کو مفلوج کر دیا تھا۔
دوسری طرف اگر فراہمی مستحکم بھی رہے تو درآمدی بل کا دھچکا ناقابلِ برداشت ہوگا۔ طویل المدتی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف تجارتی خسارے کو بڑھائے گا بلکہ حکومت کو یا تو سبسڈیز میں زبردست اضافہ کرنا پڑے گا، جو اس کی سکت سے باہر ہےیا اخراجات بہ راہِ راست صارفین پر منتقل کرنے ہوں گے، جس سے افراطِ زر کی شرح دوبارہ بڑھ جائے گی جو حال ہی میں کچھ بہترہوئی تھی۔
پاکستان کی ایک اور اہم کم زوری اس کی محنت کشوں کی برآمدات میں مضمر ہے۔ جہاں ملک خلیج سے تیل درآمد کرتا ہے، وہیں اپنے مزدور بھی ’’برآمد‘‘ کرتا ہے جو خلیج کے انفرااسٹرکچر، سروس انڈسٹری اور صحت کے نظام کو چلانے کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں۔ہمارے بڑی تعداد میں تارکینِ وطن مشرقِ وسطیٰ میں کام کر رہے ہیں، جن کی تعداد تقریباً ساٹھ لاکھ ہے۔
ہر سال تقریباً سات سے آٹھ لاکھ نئے محنت کش مشرقِ وسطیٰ کی لیبر مارکیٹ میں پاکستان سے شامل ہوتے ہیں۔ 2020 سے 2025کے درمیان پاکستان سے بیرونی ممالک جانے والے محنت کشوں میں نوّے فی صد سے زائد کی منزل خلیجی ممالک تھی۔
بیرونِ ملک رجسٹرڈ مزدوروں میں تقریباً ساٹھ فی صد صرف سعودی عرب میں کام کر رہے ہیں، متحدہ عرب امارات پندرہ فی صد اور عمان میں آٹھ فی صد ہیں۔خلیجی ممالک میں کسی بھی اقتصادی سست روی کا پاکستانی مزدوروں پر شدید اثر پڑے گا جو ان ممالک میں کام کر رہے ہیں۔
بیرونِ ملک ملازمت کے لیے رجسٹرڈ پاکستانی مزدوروں کی تعداد
ترسیلاتِ زر، دو دھاری تلوار
محنت کشوں کی ترسیلات پاکستان کی معیشت کا ایک اہم ستون ہیں، جو اس وقت جی ڈ ی پی کا تقریباً دس فیصد ہیں۔ مالی سال 2025میں یہ ترسیلات متاثر کن اضافے کے ساتھ اڑتیس ارب ڈالرز تک پہنچ گئیں جو مالی سال2020 کے مقابلے میں پینسٹھ فی صد زائد ہیں۔ ان ترسیلات کا نصف سے زیادہ (گزشتہ مالی سال کے مطابق تقریباًپچپن فی صد)مشرقِ وسطیٰ سے آتا ہے۔ یہ آمدن کےبہاؤ، توازنِ ادائیگی کو مستحکم کرنے، گھریلو آمدن کی حمایت کرنے اور غربت کم کرنے میں مد د دیتی ہیں۔
تاہم، اس حد تک زیادہ انحصار معیشت میں کم زوری کا باعث بھی بنتا ہے۔ خلیجی ممالک میں کسی بھی اقتصادی سست روی، خاص طورپر جغرافیائی، سیاسی تنازع یا تیل کی آمدن میں کمی کی وجہ سے پاکستانی مزدوروں کے لیے ملازمت کے مواقع کم ہو سکتے ہیں۔اس کے نتیجے میں ترسیلاتِ زر میں کمی آئے گی،جو پاکستان کے بیرونی اکاؤنٹس پر مزید دباؤ ڈالے گی۔
اگر لاکھوں مزدور علاقائی عدم استحکام کی وجہ سے گھر واپس آنے پر مجبور ہوئے تو ملکی معیشت، جس کی شرحِ نموپچھلے سال تین فی صدسے کم تھی،انہیں جذب کرنے کے قابل بالکل نہیں ہوگی۔ اس کانتیجہ بے روزگاری میں اضافے، ترسیلات کے پیسوں سے چلنے والی جائیداد کی منڈیوں کے منہدم ہونے اور سماجی بحران میں مزید اضافے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
ترسیلاتِ زر کا رجحان تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور توازنِ ادائیگی پر دباؤ
عالمی غیر یقینی صورت حال (خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی) کا ایک فوری اور اہم اثر پاکستان کے توازنِ ادائیگی پر پڑتا ہے۔ چوںکہ ملک توانائی کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصارکرتا ہےاس لیے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں براہِ راست درآمدی بل میں اضافہ کرتی ہیں، جس سے تجارتی خسارہ بڑھتا ہے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھتا ہے۔
پاکستان کے بیرونی شعبے نے یہ ظاہر کیا ہے کہ یہ توازن کس حد تک نازک ہو سکتا ہے۔ مالی سال \2024 ۔25 میں پاکستان کے بیرونی شعبے میں بہتری آئی تھی، جب کرنٹ اکاؤنٹ میں تقریباً دوارب ڈالرز کا سرپلس ریکارڈ ہوا، مگر یہ استحکام زیادہ دیرپا ثابت نہیں ہوا۔ جیسے ہی معاشی سرگرمیاں بڑھیں اور درآمدات کی طلب میں اضافہ ہوا، دباؤ دوبارہ سامنے آیا۔
مالی سال 2025 ۔26کی پہلی ششماہی میں، پاکستان نے تقریباً ایک اعشاریہ دو ارب ڈالرز کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ظاہر کیا، جب کہ پچھلے سال کے اسی عرصے میں تقریباً957 ملین ڈالرز کا سرپلس تھا۔ اس تبدیلی سے بیرونی اکاؤنٹ میں ساختی کم زوریوں کا پتا چلتا ہے۔
مسئلے کی جڑ ایک بڑا اور مسلسل تجارتی خسارہ ہے۔ پاکستان کی درآمدات، برآمدات سے کہیں زیادہ ہیں اور اجناس کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ یہ فرق مزید بڑھ جاتا ہے۔اگرچہ ترسیلاتِ زرکرنٹ اکاؤنٹ میں کچھ ریلیف فراہم کرتی ہیں، لیکن یہ تجارتی ساختی عدم توازن کو مکمل طور پر کم نہیں کر سکتیں۔ مزید برآں، ان کا خلیج میں شدید ارتکاز اضافی خطرہ پیدا کرتا ہے۔
صورت حال میں مزید شدت اس وقت آتی ہے جب ملک میں ایندھن کی قیمتیں بڑھتی ہیں۔ پانچ اپریل 2026 تک پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں اٹھارہ فروری 2024کی نسبت 120روپے فی لیٹرتک بڑھ چکی تھیں۔ حکومت نے عالمی قیمتوں میں اضافے کا اثر صارفین پر منتقل کیا اور اسی دوران پیٹرولیم لیوی بڑھا کر آمدن بھی حاصل کی تاکہ بجٹ کے خسارے کو کم کیاجا سکے۔
زیادہ درآمدی اخراجات، بڑھتی ہوئی ملکی قیمتیں اور محدود برآمدی نمو کے اس مجموعے سے توازنِ ادائیگی پر مسلسل دباؤ پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ وقتی استحکام حاصل ہونےکے باوجود بنیادی کم زوریاں برقرار رہتی ہیں۔ نتیجتاً، پاکستان مناسب زرِ مبادلہ کے ذخائر برقرار رکھنے کے لیے بیرونی مالی امداد،بہ شمول آئی ایم ایف کی حمایت اور دو طرفہ معاونت، پر انحصار کرتا رہتا ہے۔
ایسی نازک صورت حال میں کوئی بھی بیرونی دھچکا (مثلاً جغرافیائی، سیاسی تنازعے کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ)معیشت کو فوری طور پر غیر مستحکم کر سکتا ہےجو بیرونی شعبے کی مضبوطی کے لیے ساختی اصلاحات کی فوری ضرورت کو واضح کرتا ہے۔
افراطِ زر کا دباؤ
ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ افراطِ زر پر براہِ راست اور نمایاں طور پراثر اندازہو رہا ہے۔ پاکستان میں ایندھن متعد د شعبوں، بہ شمول ٹرانسپورٹ، زراعت، اور مینوفیکچرنگ، میں کلیدی اخراجاتی عنصر ہے۔ جیسے جیسے ایندھن کی قیمتیں بڑھتی ہیں، سامان اور خدمات کی لاگت بھی ہر شعبے میں بڑھ جاتی ہے۔
حالیہ اعداد و شمار افراطِ زر میں اضافے کے رجحان کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس سال مارچ میں افراطِ زر سات اعشاریہ تین فی صد تک پہنچ چکا تھاجس میں توانائی کے اخراجات ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
تخمینے بتاتے ہیں کہ ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ افراطِ زر کو دوبارہ دو ہندسوں میں پہنچا سکتاہے۔ہفتہ وارحساس قیمت کا اشاریہ بھی اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے گھریلو بجٹ، خاص طور پر کم آمدن والے خاندانوں پر دباؤ میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔
غربت اور معیارِ زندگی پر اثرات
بڑھتا ہوا افراطِ زر اور اقتصادی غیر یقینی صورت حال سے پاکستان کی آبادی، خاص طور پر غریب طبقات، بہت متاثر ہوں گے۔ زیادہ قیمتیں حقیقی آمدن کو کم کر دیتی ہیں، جس سے عام آدمی کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی دوران، اقتصادی سست روی ملازمت کے مواقع کم کر سکتی ہے، جس سے مالی مشکلات اور بڑھ جاتی ہیں۔
سوشل پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر کے تخمینوں کے مطابق، پاکستان میں غربت کی شرح 43.5فی صد ہے۔ شہری علاقے خاص طور پر متاثر ہوئے ہیں، کیوںکہ زندگی کی گاڑی کھیچنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات، آمدن میں بہتری کی شرح سے زیادہ ہیں۔
اگر موجودہ رجحانات جاری رہے، تو غربت کی سطح مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ بلند افراطِ زر، محدود ملازمت کے مواقع اور ترسیلاتِ زر میں کمی کا مجموعی اثر مزید عام خاندانوں کو غربت کی لکیرسے نیچے دھکیل سکتا ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
پاکستان کی معیشت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے، جس کے لیے دوطرفہ حکمت عملی ضروری ہے جس میں جاری بحران کو کم کرنے کے لیے فوری استحکام اور موجود کم زوریوں کو دور کرنے کے لیے طویل المدتی ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
قریب المدتی اور فوری اقدامات کمزور طبقات کا تحفظ
منہگائی کی وجہ سے لوگوں کی حقیقی آمدن کم ہو رہی ہے، خاص طور پر کم آمدن اور دیہاڑی والے افرادکے لیے۔ اس لیے اہداف شدہ سماجی تحفظ کے منصوبوں کو وسعت دینا ناگزیر ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ نقد امداد اور خوراک پر سبسڈی جیسے اقدامات کو بڑھایا جائے اور انہیں موجودہ ڈیٹا بیس، جیسےبے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے زیادہ مؤثر بنایا جائے ۔ایسے اقدامات کے بغیر بڑھتی ہوئی قیمتیں لاکھوں افراد کو مزید غربت کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔
پیٹرولیم کے نرخ کی متوازن حکمتِ عملی
اگرچہ عالمی قیمتوں میں اضافے کو منتقل کرنا اکثر ناگزیرہوتاہے، لیکن ایندھن کی قیمتوں میں اچانک اضافہ شدید منہگائی کا باعث بنتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ قیمتوں میں تبدیلی کو وقت کے ساتھ بہ تدریج نافذ کرے۔
شدید اضافے کی صورت میں پیٹرولیم لیوی میں کی گئ عارضی کمی کو جاری رکھتے ہوئے عوام کو ریلیف دیا جا سکتا ہے۔ مالی اہداف پورے کرنے کے لیے مضر صحت اور غیر ضروری اشیاء پر ٹیکس بڑھائے جا سکتے ہیں۔
درآمدات میں توازن اور مقامی متبادل کی حوصلہ افزائی
ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ کم کرنے کے لیے غیر ضروری اور تعیش والی درآمدات کو ریگولیٹری ڈیوٹی اور انتظامی اقدامات کے ذریعے محدود کیا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی حکومت کو مقامی صنعتوں کی مد د کرنی چاہیے،خاص طور پر زراعت، توانائی اور ہلکی صنعتوں کی، جو درآمدی اشیاء کے متبادل تیار کر سکتی ہیں ۔
زرِ مبادلہ اور مالیاتی استحکام
منہگائی کے ماحول میں زرِ مبادلہ کی شرح کو مستحکم رکھنا انتہائی اہم ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو محتاط مالیاتی پالیسی جاری رکھنی چاہیے تاکہ منہگائی کی توقعات کو قابو میں رکھا جا سکے، لیکن شرحِ سود اتنی زیادہ نہ ہو کہ معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوں۔ کرنسی مارکیٹ میں قیاس آرائیوں پر قابو پانا بھی ضروری ہوگا۔
توانائی کے شعبے کی کارکردگی اور گردشی قرضوں کا انتظام
توانائی کے شعبے میں بہتر انتظام کے ذریعے قلیل مدتی بہتری حاصل کی جا سکتی ہے۔ ترسیل اور تقسیم میں نقصانات کو کم کرنا، بلوں کی وصولی بہتر بنانااور گردشی قرضوں میں اضافے کو روکنا مالی دباؤ کو کم کر سکتا ہے اور توانائی کی دست یابی کو بہتر بنا سکتا ہے۔
ترسیلاتِ زر کا تحفظ
چوںکہ پاکستان ترسیلاتِ زر پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اس لیے خلیجی ممالک کے ساتھ فعال رابطہ رکھنا ضروری ہے تاکہ پاکستانی افرادی قوت کی طلب برقرار رہے۔دوطرفہ معاہدے،مہارتوں کی تصدیق کے منصوبوں اور باضابطہ بینکاری کے ذرائع سے رقوم بھیجنے کی ترغیبات اس اہم ذریعہ آمدن کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
طویل المدتی ساختی اصلاحات
اگرچہ قلیل مدتی اقدامات فوری ریلیف فراہم کرتے ہیں، لیکن پاکستان کے طویل مدتی استحکام کا انحصار ساختی مسائل کے حل پر ہے۔
توانائی کے لیے درآمدات پر انحصار میں کمی
پاکستان کو اپنے توانائی کے نظام میں بنیادی تبدیلی لانا ہوگی۔ قابلِ تجدید توانائی، خصوصاً شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی،کو فروغ دینے سے درآمدی تیل پر انحصار نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ مقامی وسائل، جیسے پن بجلی، کوئلہ (جہاں ماحولیاتی لحاظ سے ممکن ہو) اور علاقائی توانائی کے رابطہ منصوبوں میں سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔
برآمدات میں تنوّع اور مسابقت
محدود برآمدی بنیاد نے طویل عرصے سے پاکستان کی ترقی کو روکے رکھا ہے۔ ٹیکسٹائل سے آگے بڑھ کر انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ مصنوعات اور دواسازی جیسے ویلیو ایڈڈ شعبوں میں پیش رفت سے برآمدی آمدن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ کاروبار میں آسانی پیدا کرنا، ضابطہ جاتی رکاوٹوں کو کم کرنااور مستقل تجارتی پالیسیوں کو یقینی بنانا نہایت اہم ہوگا۔
جامع ٹیکس اصلاحات
پاکستان کا کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا،خاص طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر کے شعبوں کو شامل کرکےاور نفاذ کو بہتر بنانا آمدن میں اضافہ کر سکتا ہے۔ بالواسطہ ٹیکس پر انحصار کم کرنے سے نظام کو زیادہ منصفانہ بنایا جا سکتا ہے۔ زرعی آمدن پر ٹیکس کے سلسلے میں موثر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس معاملے میں صوبائی حکومتوں پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے۔
انسانی سرمائے اور لیبر مارکیٹ میں اصلاحات
تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور مہارتوں کی ترقی میں سرمایہ کاری پیداواریت اور روزگار کے مواقع کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے علاوہ یورپ، مشرقی ایشیا اور دیگر خطوں میں بھی افرادی قوت کے مواقع تلاش کرکے اپنی بیرونِ ملک لیبر مارکیٹ کو متنوّع بنانا چاہیے۔
اداروں اور گورننس کو مستحکم کرنا
اقتصادی استحکام کا گہرا تعلق مضبوط اداروں سے ہے۔ پالیسیز میں تسلسل، شفافیت اور بہتر حکم رانی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھا سکتی ہے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کر سکتی ہے۔
بیرونی شعبے کی مضبوطی
بیرونی دھچکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرناہوگا۔ اس کے لیے برآمدات بڑھانے، ترسیلاتِ زر کی حوصلہ افزائی اوربہ راہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر مسلسل توجہ دینا ضروری ہے۔ روایتی قرضوں کے علاوہ متبادل مالی ذرائع کو فروغ دینا بھی کم زوری کو کم کر سکتا ہے۔
حکمتِ عملی کی تبدیلی
بالآخر، پاکستان کو ردِعمل پر مبنی اقتصادی نظم و نسق سے نکل کر ایک فعال اور حکمتِ عملی پر مبنی نظام کی طرف جانا ہوگا۔ بار بار آنے والے بحران اور استحکام کے ادوار اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ طویل مدتی منصوبہ بندی اور نظم و ضبط کے ساتھ عمل درآمد کی اشد ضرورت ہے۔
موجودہ عالمی غیر یقینی صورت حال ،خصوصاً مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال ،پاکستان کی بیرونی دھچکوں کے لیے حساسیت کو واضح کرتی ہے۔ فوری ریلیف کے اقدامات کو گہری ساختی اصلاحات کے ساتھ ملا کر ملک نہ صرف موجودہ چیلنجز سے نمٹ سکتا ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک زیادہ مضبوط اور خود انحصار معیشت کوبھی ممکن بناسکتا ہے۔