آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: کیا لیلۃ القدر پوری دنیا میں ایک رات میں ہوتی ہے یا ہر ملک کے اعتبار سے الگ الگ ہوتی ہے؟ اگر وضاحت کے ساتھ جواب مرحمت فرمائیں تو مہربانی ہوگی؟
جواب: شبِ قدر سال میں ایک ہی مرتبہ ہوتی ہے، البتہ طلوع اور غروب کے اوقات مختلف ہونے کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک ہی وقت میں نہیں ہوتی، بلکہ ہر جگہ وہاں کی تاریخ اور وقت کے اعتبار سے شب قدر ہوتی ہے، جس طرح نماز وں کے اوقات تہجد اور سحر و افطار وغیرہ میں ہرملک کا اپنا وقت معتبر ہے، اسی طرح ’’لیلۃ القدر‘‘ بھی ہر ملک کی اپنی تاریخ کے حساب سے ہوگی۔
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ لکھتےہیں: ”اختلافِ مطالع کے سبب مختلف ملکوں اور شہروں میں شبِ قدر مختلف دنوں میں ہو تو اس میں کوئی اشکال نہیں، کیوں کہ ہر جگہ کے اعتبار سے جو رات شبِ قدر قرار پائے گی، اس جگہ اسی رات میں شبِ قدر کی برکات حاصل ہوں گے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم ۔“ (معارف القرآن: تفسیر سورۃ القدر، معارف ومسائل، فائدہ 8/ 794، ط.مکتبۃ معارف القرآن، کراچی)
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk