مالیاتی وفاقیت ایک آئینی ڈھانچہ ہے جو ٹیکس لگانے کے اختیار، اخراجات کی ذمہ داریوں، اور حکومت کے مرکزی، علاقائی اور مقامی سطحوں کے درمیان ٹیکس کی آمدنی کی تقسیم کے طریقہ کار کو کنٹرول کرتا ہے۔
وفاقی ریاستوں میں، یہ مالیاتی انتظام اقتصادی کارکردگی، علاقائی مساوات اور قومی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ مقامی خدمات کی فراہمی، جیسے کہ صحت کی دیکھ بھال، بنیادی تعلیم، اور میونسپل انفراسٹرکچر کو ذیلی قومی اکائیوں کو تفویض کرنے سے، مالیاتی وفاقیت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ عوامی اخراجات علاقائی ترجیحات کی درست عکاسی کرے۔
اس کے ساتھ ہی، مرکزی آمدنی کی دوبارہ تقسیم کا طریقہ کار (جیسے نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈز) علاقائی دولت کی تفاوتوں کو ختم کرتے ہیں، پسماندہ علاقوں کو ضروری عوامی خدمات کو برقرار رکھنے کے لیے بااختیار بناتے ہیں۔
مزید برآں، ایک متوازن مالیاتی وفاقیت کا فریم ورک تمام سطحوں پر مالیاتی نظم و ضبط کو نافذ کرتے ہوئے ذیلی قومی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے سیاسی حد سے تجاوز کو روکتا ہے۔ عام طور پر یہ وفاقی مرکز کو قومی دفاع، مالیاتی پالیسی اور قرض کی خدمت کا انتظام کرنے کی اجازت دیتا ہے جبکہ ذیلی حکومتیں مقامی سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دیتی ہیں۔
پاکستان میں حکمرانی کے وفاقی ڈھانچے کی تشکیل ایک متحرک تاریخی اور سیاسی عمل کے دوران ہوئی ہے۔
اس سلسلے میں سب سے اہم پیش رفت 2010 میں ہوئی،جب اٹھارویں آئینی ترمیم کا نفاذ عمل میں آیا۔ حکومت کی مختلف سطحوں کے درمیان محصولات اور اخراجات کی ذمہ داریوں کا ازسرِ نو تعین کرتے ہوئے، یہ ترمیم مالیاتی وفاقیت کی تاریخ میں ایک سنگِ میل ثابت ہوئی۔
اگرچہ اس سے ٹیکس کے اختیارات کی تقسیم میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی، لیکن اس نے 'مشترکہ فہرست' کو ختم کر دیا اور وفاقی و صوبائی سطح پر اخراجات کی ذمہ داریوں کا واضح تعین کیا۔ نتیجتاً، اب صوبائی حکومتیں تعلیم، صحت اور اس جیسی دیگر سماجی خدمات کی فراہمی کی ذمہ دار ہیں۔
2010 میں نافذ ہونے والا ساتواں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ پاکستان کے مالیاتی وفاقی نظام میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا، کیونکہ اس نے وفاق سے صوبوں کو مالی وسائل کی منتقلی کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں متعارف کرائیں۔ اس ایوارڈ کے تحت وفاقی قابلِ تقسیم محصولات میں صوبوں کا حصہ سابقہ ایوارڈ کے 45فیصد سے بڑھا کر 57.5 فیصد کر دیا گیا۔
مزید برآں، آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے یہ ضمانت فراہم کی گئی کہ مستقبل میں قومی مالیاتی کمیشن کے کسی بھی ایوارڈ میں صوبوں کا مجموعی حصہ گزشتہ ایوارڈ میں مقرر کردہ حصے سے کم نہیں کیا جا سکتا۔ آئین کی یہ شق صوبوں کی مالی خودمختاری کا تحفظ کرتی ہے اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ وفاق یک طرفہ طور پر صوبوں کے مجموعی مالی حصے میں کمی نہ کر سکے۔
مزید برآں، ساتویں قومی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈ میں صوبوں کے درمیان قابلِ تقسیم محصولات کی تقسیم کے لیے پہلی بار متعدد معیارات متعارف کرائے گئے۔ اس فارمولے کے تحت وسائل کی تقسیم میں آبادی کو 82 فیصد، غربت اور پسماندگی کو 10.3 فیصد، محصولات کی وصولی کو 5 فیصد، جبکہ آبادی کی معکوس کثافت کو 2.7فیصد ویژن دیا گیا۔
یہ سابقہ قومی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈز کے مقابلے میں ایک نمایاں تبدیلی تھی، کیونکہ پہلے صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم صرف آبادی کی بنیاد پر کی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں ہونے والے اضافی اخراجات کے ازالے کے لیے خیبر پختونخوا کو قابلِ تقسیم محصولات کے مجموعی حجم میں سےایک فیصد اضافی حصہ بھی دیا جاتا ہے۔
اگرچہ آئین کے مطابق ہر پانچ سال بعد قومی مالیاتی کمیشن کا نیا ایوارڈ جاری کیا جانا ضروری ہے، لیکن باہمی اتفاقِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے ساتواں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ آج بھی نافذ العمل ہے،بعد میں تشکیل دیے گئے قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس کسی نئے ایوارڈ پر متفق نہیں ہو سکے۔
اختلافات کے اہم نکات میں وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی عمودی تقسیم، صوبوں کے درمیان تقسیم کے لیے نئے معیارات کی شمولیت، خیبر پختونخوا کو دہشت گردی سے متعلق اخراجات کے عوض اضافی حصہ دینے کا معاملہ کے علاوہ بدلتے ہوئے معاشی حالات کے مالی اثرات شامل ہیں۔ چنانچہ نئے ایوارڈ پر اتفاق نہ ہونے کے باعث 2010 میں نافذ کیا گیا موجودہ فارمولا ہی آج تک وفاقی قابلِ تقسیم محصولات کی تقسیم کی بنیاد بنا ہوا ہے۔
صوبوں کو مالی وسائل کی منتقلی میں اضافہ اور بعد ازاں کمی
ساتویں قومی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈ کے نفاذ کے بعد صوبوں کو وفاق کی جانب سے منتقل کیے جانے والے مالی وسائل میں نمایاں اضافہ ہوا۔ جیسا کہ چارٹ سے ظاہر ہوتا ہے، مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب سے صوبوں کو منتقل کیے جانے والے وسائل میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، جو اس ایوارڈ کے بنیادی مقصد، یعنی صوبوں کی مالی خودمختاری کو مضبوط بنانےکی عکاسی کرتا ہے۔ صوبوں کو منتقل ہونے والے وسائل 2010 میں جی ڈی پی کے 4.3 فیصد سے بڑھ کر 2011میں 5.5 فیصدہوگئے اور یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ 2020میں یہ شرح بڑھ کر 6 فیصدتک پہنچ گئی۔
تاہم اس کے بعد یہ رجحان تبدیل ہو گیا۔ 2026 تک صوبوں کو منتقل کیے جانے والے وسائل دوبارہ کم ہو کر جی ڈی پی کے 4.3فیصد تک آ گئے، جو تقریباً وہی سطح ہے جو ساتویں قومی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈ سے پہلے موجود تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ آئینی طور پر مالیاتی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو یقینی بنایا گیا، لیکن قومی معیشت کے حجم کے مقابلے میں صوبوں کو ملنے والے وسائل کی اہمیت بتدریج کم ہوتی گئی۔
اس کمی کے نتیجے میں صوبائی حکومتوں کے لیے صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور دیگر بنیادی عوامی خدمات پر مؤثر انداز میں اخراجات کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ ان کی آئینی ذمہ داریوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ جی ڈی پی کے تناسب سے صوبوں کو منتقل ہونے والے وسائل میں کمی قومی مالیاتی کمیشن کے فارمولے میں تبدیلی کی وجہ سے نہیں آئی۔ صوبوں کا آئینی حصہ بدستور 57.5فیصد ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ قابلِ تقسیم محصولات کا حجم قومی معیشت کے مقابلے میں سکڑتا جا رہا ہے، جس کے باعث صوبوں کو منتقل ہونے والے وسائل کی مجموعی مقدار بھی نسبتاً کم ہو گئی ہے۔
اس رجحان کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ سب سے اہم وجہ ٹیکسوں کی قومی آمدنی کے مقابلے میں کم شرح ہے۔ چونکہ قابلِ تقسیم محصولات کا انحصار بنیادی طور پر وفاقی محصولات پر ہے، اس لیے جب ٹیکس وصولیوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوتا تو صوبوں کو منتقل ہونے والے وسائل بھی محدود رہتے ہیں۔
دوسری اہم وجہ وفاقی حکومت کا ایسے ذرائع پر بڑھتا ہوا انحصار ہے جن کی آمدنی صوبوں کے ساتھ تقسیم نہیں کی جاتی۔ مثال کے طور پر گزشتہ چند برسوں میں وفاق نے پٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس کے بجائے پٹرولیم لیوی کو زیادہ ترجیح دی ہے۔ جنرل سیلز ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی قابلِ تقسیم محصولات کا حصہ بنتی ہے، جبکہ پٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی پوری رقم وفاقی حکومت کے پاس رہتی ہے۔
اس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ 2020میں پٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدنی تقریباً 294ارب روپے تھی، جو 2026 تک بڑھ کر 1,500 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اس تبدیلی نے وفاق کی آمدنی تو بڑھائی، لیکن قابلِ تقسیم محصولات کے حجم کو محدود کر دیا، جس کا براہِ راست اثر صوبوں کو منتقل ہونے والے وسائل پر پڑا۔
اس کے علاوہ، معاشی سست روی، درآمدات میں کمی، اور مجموعی معاشی سرگرمیوں میں جمود کے باعث بھی ٹیکس وصولیوں کی رفتار متاثر ہوئی، جس سے قابلِ تقسیم محصولات کی نمو محدود رہی اور صوبائی حکومتوں کے مالی وسائل پر دباؤ بڑھتا گیا۔
مستقبل کے لیے درکار حکمتِ عملی
گیارہواں قومی مالیاتی کمیشن اگست 2025 میں بڑی توقعات کے ساتھ تشکیل دیا گیاتھا۔ اب تک کمیشن کے متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں اور مختلف اہم امور پر ورکنگ گروپس بھی قائم کیے گئے ہیں، تاہم اب تک نئے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا۔
ملک کو درپیش معاشی چیلنجز اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں پر عائد ہونے والی بڑھتی ہوئی سماجی ذمہ داریوں کے پیش نظر، وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی تعلقات کا ازسرِنو جائزہ لینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ تاہم یہ جائزہ آئین کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے اور مالیاتی وفاقیت کے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔
بحث کا مرکز صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ قابلِ تقسیم محصولات میں وفاق اور صوبوں کا حصہ کتنا ہو۔ اس کے بجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن کو پاکستان کے بین الحکومتی مالیاتی نظام کا جامع جائزہ لینے کا موقع بنایا جائے۔ 2010میں ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے نفاذ کے بعد ملک کے معاشی اور مالی حالات میں نمایاں تبدیلیاں آ چکی ہیں۔
ایک طرف وفاقی حکومت قرضوں کی ادائیگی، دفاع، پنشن، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور معاشی استحکام جیسے شعبوں پر بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف صوبوں کی ذمہ داریاں بھی نمایاں طور پر بڑھ چکی ہیں۔
تعلیم، صحت، زراعت، سماجی تحفظ، بلدیاتی خدمات اور بنیادی ڈھانچے جیسے شعبے اب بنیادی طور پر صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے،اس لیے ضروری ہے کہ موجودہ مالیاتی تقسیم کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا موجودہ نظام وفاق اور صوبوں کی حقیقی مالی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔
تاہم اس جائزے کا مقصد صرف وفاقی حکومت کے مالی مسائل کا حل تلاش کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر صوبوں کی آئینی ذمہ داریوں میں کوئی تبدیلی کیے بغیر ان کے مالی حصے میں کمی کر دی جائے تو اس سے مالیاتی خودمختاری کمزور ہوگی اور صوبائی حکومتوں کی عوامی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت متاثر ہوگی۔
اس کے بجائے وسائل کی تقسیم کا ہر فیصلہ شواہد، اعدادوشمار اور حقیقی مالی ضروریات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اس میں آبادی، محصولات پیدا کرنے کی صلاحیت، علاقائی تفاوت، سماجی ترقی، موسمیاتی تبدیلی، شہری آبادی میں اضافہ اور دیگر نئے چیلنجز کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
اسی طرح موجودہ نظام میں موجود مالیاتی ترغیبات پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اس وقت صوبے اپنے وسائل میں خاطر خواہ اضافہ کیے بغیر بڑی حد تک وفاقی منتقلیوں پر انحصار کرتے ہیں، حالانکہ زرعی آمدنی پر ٹیکس، جائیداد پر ٹیکس، موٹر گاڑیوں کے ٹیکس اور دیگر مقامی محصولات میں نمایاں اضافے کی گنجائش موجود ہے۔
آئندہ قومی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈ میں ایسے انتظامات شامل کیے جانے چاہییں جو صوبوں کو اپنے محصولات بڑھانے، مالی نظم و ضبط بہتر بنانے اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کی ترغیب دیں۔ اسی طرح وفاقی حکومت کو بھی ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، غیر ضروری ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اور پٹرولیم لیوی جیسے ایسے ذرائع پر انحصار کم کرنے کی ضرورت ہے جن کی آمدنی صوبوں کے ساتھ تقسیم نہیں کی جاتی۔
قومی مالیاتی کمیشن کو محض وسائل تقسیم کرنے والے ادارے کے بجائے وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی ہم آہنگی کا مؤثر فورم بننا چاہیے۔ معاشی استحکام، مالیاتی پائیداری اور متوازن علاقائی ترقی کی ذمہ داری وفاق اور صوبوں دونوں پر مشترکہ طور پر عائد ہوتی ہے، لہٰذا آئندہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں ایسے اصول وضع کیے جانے چاہییں جو بجٹ سازی، قرضوں کے انتظام، مالی نظم و ضبط اور ترقیاتی ترجیحات کے حوالے سے وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر تعاون کو فروغ دیں۔ اس طرح ایک ایسا مالیاتی وفاقی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو نہ صرف آئین کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو بلکہ بدلتے ہوئے معاشی حالات میں پاکستان کی پائیدار اور جامع ترقی کی ضروریات بھی پوری کر سکے۔
صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے موجودہ فارمولے پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے، کیونکہ اس میں شامل موجودہ معیارات صوبوں کو اپنی مالی استعداد بڑھانے، غربت میں کمی لانے، آبادی کی رفتار کو قابو میں رکھنے اور بہتر طرزِ حکمرانی اختیار کرنے کے لیے خاطر خواہ ترغیب فراہم نہیں کرتے۔
موجودہ فارمولے میں آبادی کو 82فیصد وزن حاصل ہے، جو وسائل کی تقسیم میں سب سے زیادہ اثرانداز عنصر ہے۔ اگرچہ آبادی کسی بھی صوبے کی مالی ضروریات کا ایک اہم پیمانہ ہے، لیکن اس قدر زیادہ وزن رکھنے کے باعث وہ صوبے، جہاں آبادی کی شرحِ نمو زیادہ ہے، خودکار طور پر زیادہ وسائل حاصل کرتے رہتے ہیں، چاہے آبادی میں یہ اضافہ بہتر حکمرانی کا نتیجہ ہو یا نہ ہو۔
اس کے نتیجے میں صوبوں کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی کہ وہ خاندانی منصوبہ بندی، خواتین کی تعلیم، تولیدی صحت اور انسانی وسائل کی ترقی پر زیادہ سرمایہ کاری کریں۔ اس کے برعکس، جو صوبے کامیابی سے آبادی میں اضافے کی شرح کم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں، انہیں مستقبل میں نسبتاً کم وسائل ملنے کا خدشہ رہتا ہے۔ یوں موجودہ فارمولہ آبادی پر قابو پانے اور انسانی ترقی میں بہتری لانے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔
اسی طرح وسائل کی تقسیم میں غربت اور پسماندگی کو بھی ایک اہم معیار کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جس کا مقصد کم ترقی یافتہ علاقوں کو زیادہ وسائل فراہم کرنا ہے، تاہم اس معیار میں بھی ایک بنیادی خامی موجود ہے۔ موجودہ نظام میں وہ صوبے جن میں غربت زیادہ ہے، نسبتاً زیادہ وسائل حاصل کرتے ہیں، جبکہ جو صوبے غربت کم کرنے میں کامیاب ہو جائیں، ان کے حصے میں اضافے کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔
اسی طرح محصولات کی وصولی کو صرف 5 فیصد وزن دیا گیا ہے، جو صوبوں کو اپنے محصولات بڑھانے کے لیے ناکافی ترغیب فراہم کرتا ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد زرعی آمدنی پر ٹیکس، جائیداد پر ٹیکس اور کئی دیگر محصولات صوبوں کے اختیار میں آ چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود بیشتر صوبے اب بھی وفاقی منتقلیوں پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اگر مالی وسائل کی تقسیم میں صوبوں کی ٹیکس وصولی، ٹیکس اصلاحات اور مالی نظم و ضبط کو زیادہ اہمیت دی جائے تو اس سے صوبے اپنے وسائل بڑھانے اور وفاق پر انحصار کم کرنے کی جانب زیادہ سنجیدگی سے توجہ دیں گے۔
مزید یہ کہ موجودہ فارمولہ زیادہ تر جامد اشاریوں پر مبنی ہے اور بدلتے ہوئے معاشی اور سماجی حالات کو خاطر میں نہیں لاتا۔ اس میں عوامی خدمات کی کارکردگی، تعلیمی معیار، صحت کے نتائج، موسمیاتی تبدیلی کے خطرات، شہری آبادی میں تیزی سے اضافے، بنیادی ڈھانچے کی ضروریات، ماحولیات کے تحفظ اور مالیاتی نظم و نسق جیسے عوامل کو شامل نہیں کیا گیا، حالانکہ آج کے دور میں یہ تمام عناصر صوبوں کی حقیقی مالی ضروریات کا تعین کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا فارمولہ صرف ضرورت کی بنیاد پر نہیں بلکہ کارکردگی کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے ازسرِنو ترتیب دیا جائے تاکہ ایک ایسا نظام تشکیل دیا جا سکے جو انصاف کے ساتھ ساتھ بہتر حکمرانی اور پائیدار ترقی کی بھی حوصلہ افزائی کرے۔