کوئٹہ(خ ن) مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ نے وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ فیصلہ امن و امان کے قیام، ریاستی رٹ کی بحالی اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے وقت کی اہم ضرورت ہے۔یہ اقدام ملک میں امن، استحکام اور ریاستی نظم و نسق کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی لیڈر، سیاسی جماعت یا سیاسی قیادت آئین، قانون اور ریاست سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے ہر شہری کا حق ہے لیکن اس حق کو انتشار، قانون شکنی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔ کسی سیاسی رہنما کی رہائی یا بحالی کے نام پر ہجوم کو قانون ہاتھ میں لینے، سرکاری نظام کو مفلوج کرنے اور ریاست کو دباؤ میں لانے کے لیے استعمال کرنا کسی طور قابل قبول نہیں۔ دنیا کی سیاسی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ بڑے سے بڑے سیاسی رہنماؤں نے بھی قید و بند اور قانونی کارروائیوں کا سامنا کیا مگر اپنے دفاع اور سیاسی جدوجہد کے لیے آئینی و قانونی راستے اختیار کیےانہوںنے کہاکہ ان سیاسی فسادیوں کو بھی چاہیے تھا کہ وہ انتشار اور تصادم کی بجائےاپنی قانونی جنگ لڑتے۔ ریاستی اداروں کو چیلنج کرنے اور امن و امان کی صورتِ حال کو خراب کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ قومی استحکام کو نقصان پہنچتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتِ حال، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ تصادم کے خدشات کے تناظر میں وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ قومی مفاد اور ریاستی استحکام کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ، امن و امان کا قیام اور آئین و قانون کی عمل داری یقینی بنانا ہے۔صوبائی مشیر نے واضح کیا کہ سیاسی وابستگیاں اور جماعتی مفادات اپنی جگہ، لیکن جب معاملہ پاکستان کے امن، سلامتی اور ریاستی استحکام کا ہو تو قومی مفاد کو ہر دوسری ترجیح پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔ سیاسی قیادت کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ مشکل حالات میں جذبات کے بجائے آئین، قانون اور قومی ذمہ داری کا راستہ اختیار کرے۔