کوئٹہ (پ ر) آئی ٹی یونیورسٹی میں پشتونخوا اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن، ہزارہ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن اور دیگر طلبہ کے درمیان پیش آنے والے واقعے پر سیاسی جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں کے مذاکرات کو کامیاب قرار دیتے ہوئے معاملہ باہمی افہام و تفہیم سے حل کرلیا گیا۔مذاکرات میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر و سابق ایم پی اے نصر اللہ خان زیرے، نیشنل پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر رمضان ہزارہ، پشتونخوا نیپ کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری ندا سنگر، احمد خان لونی، ضلعی اطلاعات سیکرٹری نور آغا درانی، پی ایس او کے صوبائی سیکرٹری وارث افغان، صوبائی اطلاعات سیکرٹری وحدت خان، زوہیب خان کبزئی، حبیب شیرانی، ہزارہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے علی سینا ہزارہ سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ رہنماؤں نے کہا کہ پشتون، بلوچ، ہزارہ اور دیگر اقوام سے تعلق رکھنے والے طلبہ مشترکہ مستقبل کے معمار ہیں۔ قومی، لسانی اور ثقافتی شناختوں کے احترام کے ساتھ اتحاد، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دینا ضروری ہے ۔ تعلیمی ادارے علم، تحقیق اور مثبت مکالمے کے مراکز ہیں، جہاں تشدد، تلخ کلامی اور تصادم کی کوئی گنجائش نہیں۔ طلبہ اپنی توجہ تعلیم اور علمی سرگرمیوں پر مرکوز رکھیں اور اختلافات کو مذاکرات اور پرامن ذرائع سے حل کریں۔ رہنماؤں نے طلبہ تنظیموں پر زور دیا کہ وہ اپنے کارکنوں میں نظم و ضبط، برداشت اور اختلاف رائے کے احترام کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی و طلبہ تنظیموں کے درمیان رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام اور تعلیمی اداروں میں پرامن ماحول برقرار رکھا جاسکے۔شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ طلبہ میں بھائی چارے، ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ ایک دوسرے کے قومی و ثقافتی تشخص کا احترام کرتے ہوئے اپنی توانائیاں تعلیم اور روشن مستقبل کی تعمیر کے لیے صرف کریں۔