• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ

ماڈل: رابعہ

ملبوسات: سوئی دھاگا

آرائش: دیوا بیوٹی سیلون

عکّاسی: عرفان نجمی

لے آؤٹ: نوید رشید

ایک زمانہ تھا، جب بات کہنے کے لیے دل کی دھڑکنوں کو الفاظ میں ڈھال کر کاغذ پر اُتارا جاتا، خط لکھنا باقاعدہ ایک فن ہوا کرتا تھا۔ خوش خطی، خاص قسم کا نرم کاغذ، لفافے پر لگی ٹکٹ اور اس پر لکھی ہوئی تاریخ… کاغذ اور سیاہی کا وہ رشتہ بھی کتنا سچّا و سُچّا تھا۔ قرطاس پر جیسے سیاہی میں بھیگے ہوئے جذبات، دل کےنہاں خانوں کے احساسات نچوڑ کر بکھیرے جاتے۔

حروف میں تپش، فقروں میں اقرار اور سطروں میں بسی اپنائیت کی اَن مول خوشبو، کاغذ کے لمس ہی سے ایسا محسوس ہوتا، گویا وہ شخص سامنے بیٹھا محوِ کلام ہو۔ ڈاکیے کی سائیکل کی گھنٹی سُن کردل کی دھڑکنیں تیز ہو جانے اور لفافہ کھولتے وقت کی بے قراری کا عالم ہی الگ ہوتا۔ خطوں پر گری سیاہی کے دھبّے یا آنسوؤں کے مدھم نشان پاکیزہ محبّت، کسی کی بہت بے قراری کے گواہ ٹھہرتے۔

لوگ برسوں پرانے خط سینت سنبھال رکھتے اور کبھی جو اُداسی آ گھیرتی، تو انہیں کھول کر یوں پڑھتے، جیسے گزرا ہوا وقت پھر لوٹ آیا ہو۔ بار بار آدھی ملاقاتوں کی غرض پوری کرنے کی خاطر وہ ہاتھ سے لکھے ہوئے خط صندوقچوں میں دہائیوں تک محفوظ رکھے جاتے، اور یوں وہ نسلوں کی امانت بن جاتے۔ گھر کے گزرے لوگوں کے پرانے خط، بزرگوں کی مہکتی یادیں، جنہیں جستی بکسوں یا کتابوں کے اوراق میں سنبھال کر رکھا جاتا تو وہ آنے والی نسلوں کے لیے گویا محبّت اور تاریخ کی ایک حسین دستاویز ثابت ہوتے۔

پھر جیسا کہ وقت کا چلن ٹھہرا، زمانے کے انداز بدلے گئے۔ وقت کی کتاب کے اوراق پلٹتے گئے اور ماضی کی بعض دل فریب روایتیں ری اسٹور ہوگئیں کہ پرانے رنگ اِک نئی ادا سے روشنیاں بکھیرنے لگے ہیں، فلسفۂ حیات بھی یہی سکھاتا ہے کہ انسان جب ترقی کی منازل طے کرتا ہے، تو پرانی قدریں ارتقاء کی بھٹی میں تپ کر اور کندن ہوجاتی ہیں۔ ماضی کی سادگی، اقدار و روایات اور احساسات کے ’’پرانے رنگ‘‘ جب حال کی تیز رفتار ٹیکنالوجی اور سہولتوں کی ’’نئی روشنی‘‘ کے ساتھ ملتے ہیں، تو یہ حسین امتزاج پرانے خلوص کو نئے دَور کے تقاضوں کے ساتھ بھی بہت ہی خُوب صُورتی سے ہم آہنگ کرتا ہے۔

وہ کیا ہے کہ ؎ ہے روشن حقیقت فسانہ ہمارا… نئی زندگی بن کے بکھرے گا ہر سُو… نئی روشنی کا ترانہ ہمارا… نیا آنے والا زمانہ ہمارا… پرانے چراغوں کے مدھم اجالو… ہمارے ہی ہاتھوں سجے گی یہ محفل… ہمیں صرف بچّہ سمجھ کر نہ ٹالو… نیا آنے والا زمانہ ہمارا… تمہاری بزرگی کا ہے پاس ہم کو… مگر اس نئے دَور کی روشنی میں… ہے اپنے فرائض کا احساس ہم کو… نیا آنے والا زمانہ ہمارا… یہ دورِ شباب، بہارِ زمیں ہے… تمہارا زمانہ تو جیسا رہا ہو… نیا آنے والا زمانہ حسیں ہے… نیا آنے والا زمانہ ہمارا۔‘‘

بات اتنی سی ہے، پیغام خواہ کاغذ پر سیاہی سے اتارا جائے یا اسکرین پر، کی بورڈ کے استعمال سے، اصل اہمیت نیّت کی ہے۔ آج کی اس برق رفتار دنیا کی نئی روشنی جب ماضی کی دھیمی دھیمی، مقدّس آنچ سے ملتی ہے، تو ہرخطِ بے زباں، ہر ڈیجیٹل پیغام، ایک نئی کہکشاں بن جاتا ہے۔

نئے دَور کی سحر انگیز کرنیں پرانے خلوص کو دھندلا نہیں سکتیں بلکہ اُن کی آب و تاب کو اور نکھار دیتی ہیں۔ فاصلے تو اب بھی مٹ چُکے ہیں، مگر اب کی بار ٹیکنالوجی کے اس وسیع کینوس پر رُوحوں کی یہ پیاس اور بھی گہری ہوگئی ہے اور وقت خُود اس لازوال سنگم کے سامنے اپنا سر جھکائے جیسے ٹھہر سا گیا۔

تو چلیں، اب دیکھتے ہیں، پرانے رنگ، نئی روشنی سے کیسے کھیلتے ہیں۔ ذرا ہماری قدیم و جدید کے امتزاج سے سجی اس حسین کلیکشن پرایک نظر ڈالیے۔

لان کے تھری پیس ڈریس کی سفید رنگ زمین پر، نارنجی رنگ پھول بُوٹوں کا جیومیٹریکل سا ڈیزائن آنکھوں کو کیسے طراوت بخش رہا ہے۔

بظاہر بلاک پرنٹ جیسی کاری گری میں بھی کیا نفاست و ندرت ہے۔ پھر گہرے نیلے رنگ پر نفیس و دل آویز ستارہ ورک تو ایسے ہے، جیسے رات کے آسمان پرجھلمل چمکتے تارے ہوں، خصوصاً گلے کا ڈیزائن، بازوؤں کا حسین کام اور ساتھ کھاڈی نیٹ کے کام دار دوپٹے کی موزونیت دیدنی ہے۔

یہ پہناوا شام کی پارٹیز کے لیے ایک بہترین انتخاب ثابت ہوگا۔ اِسی طرح کریم رنگ کے تھری پیس پہناوے پر نیلے رنگ کی روایتی چارسوتی کڑھائی اتنی دل کش ہے کہ گلے، دامن کا بارڈر تو گویا شاہی پوشاک کا ساتاثر دے رہا ہے، مگر اس سادگی میں بھی جو دل کشی ہے، اُس کا کہیں کوئی مول نہیں۔

گہرے نیلے اور ہرے مکس سے شیڈ پر سفید و فیروزی پھولوں کا پرنٹ ایک پُرسکون احساس کا عکّاس ہے، مگر یہ بالکل سادہ سا پہناوا روزمرّہ استعمال ہی کے لیے موزوں رہے گا، جب کہ ہلکے گلابی رنگ کے چکن کاری ڈریس پر پیلے پھولوں کی کڑھت اور دامن، بازوؤں کے حسین کٹ ورک نے لباس کا حُسن دوآتشہ کردیا ہے، اُس پر بلاک پرنٹ دوپٹے کی پھبن کے تو کیا ہی کہنے۔ بلاشبہ، دن کی کسی بھی تقریب، برتھ ڈے پارٹیز وغیرہ کے لیے یہ ایک لاجواب انتخاب ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید
جنگ فیشن سے مزید