• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جمال کا دل نشیں تصور ... خیال کی دل پذیر راہیں

تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ

ماڈل: ضویا قاضی

ملبوسات، زیورات : QDS Collection

آرائش: دیوا بیوٹی سیلون

عکّاسی: عرفان نجمی

لے آؤٹ: نوید رشید

اگر زندگی کی کچھ پوشیدہ باتوں، مخفی حقائق، اسرار ورموز کی کوئی فہرست مرتّب ہو تو شاید اُس میں سرِفہرست ’’خواب‘‘ ہی ٹھہریں کہ نفسیات، خوابوں کو ہمارے لاشعور کا ایسا شاہ کار کہتی ہے، جن کے ذریعے وہ سچائیاں بھی سامنے آجاتی ہیں، جنہیں ہم جاگتی آنکھوں خُود سے بھی چُھپاتے ہیں۔ بعض نام وَر نفسیات دانوں نے خوابوں کو ہماری دبی خواہشات، اُمیدوں اور خوف کا علامتی اظہار، ادھوری داستانوں کی مَن چاہی تکمیل، دن بھر کے تجربات، متبادل دنیا میں بچھی یادوں کی بساط اور رُوح کے زخموں پر مرہم رکھنے کا ایک خُودکار نظام قرار دیا، جب کہ نفسیات دانوں ہی کے ایک دوسرے طبقۂ فکر کے مطابق خوابوں کو محض ماضی کے دباؤ کا اظہار ہی نہ سمجھا جائے، بسا اوقات یہ انسان کے مستقبل کے امکانات اور ذات کی تکمیل کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔

جدید نقطۂ نظر کے مطابق خواب ہماری جذباتی ریگولیشن کا ایک طریقہ ہیں تو مذہبی اعتبار سے خوابوں کو ایک ’’الہٰی نشانی‘‘ اور ’’غیبی اشارے‘‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ پھر کچھ خواب ایسے بھی ہوتے ہیں، جو جاگتی آنکھوں سے دیکھے، کُھلے نینوں میں بسائے جاتے ہیں۔ جن کے بارے میں ایک مقولہ بھی مشہور ہے کہ’’خواب وہ نہیں، جو آپ سوتے ہوئے دیکھتے ہیں بلکہ خواب وہ ہے، جو آپ کو سونے نہ دے۔‘‘

بقول راحت اندوری ؎ ’’یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے… نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو۔‘‘ پھر زندگی میں کتنے ہی لوگ ایسے ہیں، جو خوابوں سے اِس لیے دست بردار نہیں ہوتے کہ اُن کے پاس اپنے بچھڑے ہوؤں سے ملنے کا واحد راستہ یہی بچ رہتا ہے۔

کتنے ہی لوگ ایسے ہیں، جن کی زندگی کی خوشی ہی یہ ہے کہ خواب اُن سے ملاقاتوں کا وہ پُل ہیں، جن سے بچھڑے زمانے ہوئے۔ اور جن کا وصل، اب سوائے خوابوں کے کہیں ممکن نہیں۔ وہ کیا ہے کہ ؎ کبھی میری مصروفیت… تو کبھی تیرے پاؤں کی موچ… کبھی چیونٹی کی طرح رینگتا ٹریفک… کبھی نکھٹو زمانے کی سوچ… کبھی سمے کا اڑیل پن… تو کبھی موقعے کی نزاکت… کبھی مَیں نہیں… کبھی تُو ندارد… بس ہوگیا… چلو، خوابوں میں ملتے ہیں… نیند کو بھی تو اپنا فرض نبھانے دو۔

سو، کُل ملا کے بات یہ ہے کہ خواب تاریکی میں رقص کرتے بے ترتیب سائے نہیں، یہ تو رُوح کی سرگوشیاں ہیں۔ ایک ایسا آئینہ، جہاں ہماری عمیق سچائیاں،جاگتی دنیا کے سوجانے کے بعد منعکس ہوتی ہیں۔ انسانی شعور کا روشن پرندہ، جو آنکھوں کے چھوٹے سے قفس میں قید ہوکر بھی پوری کائنات اپنے پروں میں سمیٹ لینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایک ایسا احساس، جو ویران، زرد موسموں میں بھی دل کی بنجر زمین پرخوش گواریادوں کی ہریالی بکھیردے۔ آنے والے کل کے لیے اُمید و رِجا کے گیت گنگنائے۔

وجود کا وہ خُوب صُورت خط، جو آپ کا دماغ ہر رات صرف آپ کے نام لکھتا ہے۔ بقول حارث خلیق ؎ اِک خواب تھا… اُس خواب میں… اِک شوق تھا… اِک شہر تھا… اُس شہر کے… سو رنگ تھے… ہر رنگ میں… اِک بےکلی… اِک کشمکش… اِک شور تھا… وہ کشمکش… تھی شوق کی… اِک اسپ جو… منہ زور تھا… اُس شہر پر… اُترا ہوا…ا ِک روپ تھا… جو قہر تھا… ہرسمت تھا… ہرپہرتھا…بےخوف تھا… بےمہر تھا…اُس رُوپ میں… اِک سحر تھا… اُس پر فدا… یہ دہر تھا… وہ شوق تھا… خُود شہر تھا۔

اور لیجیے، اب ملاحظہ فرمائیے، تصوّرات و احساسات، خواب و خیال جیسی ماورائی دنیا، ہماری آج کی بزمِ خاص کی ایک جھلک۔ ذرا دیکھیے، مسٹرڈ اورنج رنگ کی نفیس وسادہ سی شارٹ شرٹ کے ساتھ، جس کی آستینیں کا ندھوں سے کچھ پھولی سی ہیں، مٹیالے رنگ میں پرنٹڈ شلوار، دوپٹے کا ایک حسین و دل کش سا امتزاج، سادگی میں بھی کیا بےبہا دل کشی ہے۔ گہرے سبز رنگ میں پرنٹڈ کُرتے کو جدید کٹس اور ڈیزائننگ سے آراستہ کیا گیا ہے، خصوصاً گلے کا کٹ ورک کافی منفرد ہے، تو ساتھ ہم رنگ سادہ شلوار کا انتخاب بھی لاجواب ہے۔

تیسرے پہناوے میں، سُرخی مائل بیس پر میپل کے پتّے خُوب بہار دِکھا رہے ہیں، تو ہلکے زرد اور سفید رنگ کے پرنٹڈ لباس کی قمیص پر گلے کے پاس سنہری رنگ کی باریک کڑھت کی چمک دمک بھی کمال ہے، جب کہ آستینوں پر ہلکے براؤن رنگ کے ٹرانس پیرنٹ فیبرک کے پیچز شرٹ کو بہت اسٹائلش سا لک دے رہے ہیں۔ خوش نما پھولوں کا پرنٹ لیے فیروزی رنگ کے تھری پیس لباس کی قمیص اور شلوار کو گلابی رنگ کی لیس اور پیچز سے مزیّن کیا گیا ہے تو ساتھ سادہ پرنٹڈ دوپٹا جلتے تپتے موسم میں بہت بھلا سا تاثر دے رہا ہے۔

یہ سب رنگ و انداز آپ ہی کے لیے ہیں، جو چاہیں منتخب کر لیں۔ ممکن ہے، احسان اکبر کا ’’جہانِ خواب‘‘ تعبیرہی ہو جائے۔ وہ کیا خُوب کہا کہ؎ یہ رنگ و نکہت میں بہتی دنیا…یہ حُسنِ صُورت، یہ جلوہ گاہیں…یہ بجلیوں سی لپک ادا کی…یہ بدلیوں سی گداز بانہیں…یہ نقش سے پھوٹتے کرشمے…یہ نکہت و نور کی پناہیں…جمال کا دل نشیں تصور…خیال کی دل پذیر راہیں…اِک آرزو کے ہزار پیکر…اِک التجا، لاکھ بارگاہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید
جنگ فیشن سے مزید