تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ
ماڈل: شگفتہ سلیم
ملبوسات: سوئی دھاگا
آرائش: دیوا بیوٹی سیلون
عکّاسی: عرفان نجمی
لے آؤٹ: نوید رشید
آج کے انسان کی کشمکش کی کہانی کہتی صابر ظفر کی یہ سادہ مگر بامعنی نظم ملاحظہ فرمائیں۔ ؎ ’’دریچہ بےصدا کوئی نہیں ہے… اگرچہ بولتا کوئی نہیں ہے…مَیں ایسے جمگھٹے میں کھو گیا ہوں…جہاں میرے سوا کوئی نہیں ہے…رُکوں تو منزلیں ہی منزلیں ہیں…چلوں تو راستہ کوئی نہیں ہے…کُھلی ہیں کھڑکیاں ہر گھر کی لیکن…گلی میں جھانکتا کوئی نہیں ہے…کسی سے آشنا ایسا ہوا ہوں…مجھے پہچانتا کوئی نہیں ہے۔‘‘جدید دَور کی اِس تیز رفتار، شور شرابے سے بھرپور دنیا میں، جب کہ ہر شخص ہی جیسے کسی نامعلوم منزل کی طرف دوڑا چلا جا رہا ہے، نہ صرف جسمانی دوڑ بلکہ دماغی بھی کہ جسمانی طور پر کہیں بھی بیٹھا ہو، ہروقت اطلاعات کے سیلاب کی زد ہی میں رہتا ہے۔
ایک طرف ہمہ وقت کام کادباؤ، اُس پرچوبیس گھنٹے بھانت بھانت کے نوٹی فیکیشنز کی یلغار۔ یوں کہیے اِس’’Hustle culture‘‘ (ہروقت کام اورجدوجہد کا رجحان) میں یہ مان لیا گیا ہے کہ جو انسان جتنا زیادہ تھکا ہوا اور مصروف ہے، وہ اُتنا ہی کام یاب ہے۔ ہمیں یہ خوف اندر ہی اندر کھوکھلا کررہا ہے کہ اگر ہم ایک لمحے کے لیے بھی رُکے، تو دنیا بہت آگے نکل جائے گی۔ جب زندگی کا محور صرف کام بن جائے، تو اپنوں کے لیے بھی وقت نہیں رہتا اور پھر یہ تیز رفتاری ہمیں اپنے ہی گھر میں اجنبی بنا دیتی ہے۔
بس، یہ ایک عجب ہی ریس ہے۔ بقول ذیشان اطہر ؎ ’’روشنی میں تِری رفتار سے کرتا ہوں سفر…زندگی مجھ سے کہیں تیز نہ چلنے لگ جائے۔‘‘ سچ کہیں تواب ہمیں علاج کے لیے چودھویں اور پندرہویں صدی کے دوران پروان چڑھنے والے جاپانی فلسفے ’’وابی سابی‘‘ (Wabi-Sabi) کی طرف لوٹنےکی ضرورت ہے کہ جہاں اُس وقت کے حُکم ران اور اشرافیہ منہگے چینی ظروف، آرائش وزیبائش اور چمک دمک کو ترقی کی علامت سمجھتے تھے، وہیں کچھ درویشوں، فن کاروں اور چائے کے رسیاؤں نے ’’سادگی و پوشیدہ خُوب صورتی‘‘ کا راستہ اپنایا۔ اور پرانی، متروک اور عیب دار اشیاء بلاجھجک استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کردیا۔
تاریخ میں مشہور’’Tea Ceremony‘‘ (جسے جاپانی زبان میں چاڈو یا ساڈو (یعنی چائے پیش کرنے کا طریقہ) کہا جاتا ہے، پاؤڈر والی سبز چائے (ماچا) تیار اور پیش کرنے کا ایک باقاعدہ اور ترتیب وار عمل ہے، جس کی جڑیں زین بدھ مت اور جاپانی جمالیات میں پیوست ہیں) کے اساتذہ نے منہگے، بےعیب برتنوں کے بجائے ہاتھ سے بنے، ادھورے اور سادہ پیالوں کو ترجیح دینا شروع کردی اور یوں دنیا کو یہ دِکھا دیا کہ چکا چوند سے نظریں پھیر کے بھی فطرت کا ہر منظر ہی ٹھٹکا دینے والا ہے۔
بوسیدہ دیوار اور اس پر پڑی ہلکی سی دراڑ، چائے کا ٹوٹا ہوا مگ، زنگ آلود موٹی میخوں والے قلعے کا دروازہ، کھنڈرات کی محراب، مٹی کا پرانا دفینہ، ریلوے اسٹیشن کا سال خوردہ سائن بورڈ، دھیمی جلتی ہوئی لالٹین اور سب کچھ ایسا ہی بکھرا بکھرا سا… کہ اصل سُکون تو مصروفیت سے بریک لے کر، فطرت کے قریب ہوکر، زندگی کے سفر کو نقائص اور نامکمل پن کے ساتھ مدہم رفتار سے گزارنے ہی میں ہے۔ جیسے ’’کچھ شامیں لوگوں کی محفل بھی نہیں مانگتیں، بس ایک اچھی کتاب، گرم چائے کے کپ، اور اپنی ذات کا ساتھ ہی کافی ہوتا ہے کہ کبھی کبھی تنہائی ہی رُوح کی سب سے خُوب صُورت ہم نشین بن جاتی ہے۔‘‘
اب آپ ہماری آج کی کلیکشن ہی دیکھ لیں کہ کیسے عام سی ہو کر بھی اس قدر متنوّع و ممتاز سی لگ رہی ہے، جیسے ست رنگی دھنک کے بکھرے بکھرے رنگ۔ ذرا یہ آف وائٹ کے ساتھ کالا جیومیٹرکل ڈیزائن دیکھیں، جو اپنی جگہ گویا ایک شاہ کار ہے کہ حسین جیومیٹرکل پرنٹ کے کوآرڈ سیٹ کے ساتھ، ملٹی شیڈڈ دوپٹے کی پھبن کا تو کوئی مول ہی نہیں۔ دوپٹے پر سبز، نارنجی اور بلیو رنگوں کی لہریں (اسٹرائپس) جیسے بارش کے بعد قوسِ قزح کا سامنظر پیش کررہی ہیں۔
اِسی طرح سیاہ، زرد اور سُرمئی رنگوں کی آمیزش میں گتھواں سے پرنٹ کے کوآرڈ سیٹ کے ساتھ لہرئیےدار پرنٹڈ دوپٹے کی موزونیت کا بھی جواب نہیں۔ سادہ سی لانگ شرٹ اور ڈھیلے ڈھالے پلازو نے ماڈل کے انداز کو ایک شاہانہ وقار سا بخش دیا ہے۔ سو، یہ پہناوا کسی بھی گھریلو گیدرنگ کے لیے ایک عُمدہ انتخاب ثابت ہوگا۔ ہلکے کریم رنگ کی زمین پر، گلابی رنگ گُل بوٹوں کی آراستگی لیے پہناوے پر تو پریوں کے سے پہناوے کا گمان ہو رہا ہے۔
یوں بھی لائٹ کلرز کے چھوٹے پھولوں کے پرنٹس آنکھوں کو خوب طراوت بخشتے ہیں، پھر ساتھ ہم آمیز پرنٹڈ شیفون دوپٹا دیکھ کے لگ رہا ہے، جیسے یہ لباس باغ سے نکل کر سیدھا الماری میں آ گیا ہو۔ ایسی کسی بھی دعوت کے لیے، جہاں آپ بہت تروتازہ، کھلی کھلی اور خُوب صُورت نظر آنا چاہتی ہوں، یہ پہناوا ایک پرفیکٹ انتخاب ثابت ہوگا۔ اور نیلے رنگ کے لباس کا پرنٹ تو بالکل نیلم کی طرح چمک رہا ہے، لیس بھی کمال کی ہے، جو اس نیلے رنگ کے ساتھ بہت ہی جچ رہی ہے۔
بلاشبہ، اس پہناوے کی سادگی ہی اس کی اصل خُوب صُورتی ہے۔ اور …سُرخ انارکلی اسٹائل روایتی پہناوا تو جیسےحُسن و دل کشی کا ایک بہترین نمونہ ہے، جب کہ ساتھ ہلکے سرخ رنگ، پرنٹڈ شیفون دوپٹے کی موزونیت و ہم آہنگی بھی کمال ہی ہے۔ اب اِس بزم کو دیکھ کے تو لبوں سے بےاختیار ہی نکلے گا ناں ؎ منظر میں گھل گئے ہیں دھنک کے تمام رنگ…