• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ

ماڈل: عربش کشمیری

ملبوسات، زیورات: QDS Collection

آرائش: دیوا بیوٹی سیلون

عکّاسی: عرفان نجمی

لے آؤٹ: نوید رشید

رومی کہتے ہیں، ’’زخم وہ مقام ہے، جہاں سے روشنی تمہارے اندر داخل ہوتی ہے۔‘‘ ویسے یہ بھی اِک عجب ہی تماشا ہے کہ ہم جس دُکھ کو دوسروں سے چُھپانا چاہتے ہیں، وہ ہمیں ایک شان دار اداکار بنا جاتا ہے۔ اندر کا اضطراب پوشیدہ رکھنے کے لیے خوشی کے لبادے میں لپٹا مصنوعی مسکراہٹوں کا میک اَپ، درحقیقت ہمارے اپنے ہی زخموں پر رکھا مرہم ہوتا ہے۔ زندگی کےاِس الجھے ہوئےدھاگے میں کچھ مصرعے ایسے بھی ہیں، جو بظاہر بے وزن لگتے ہیں۔

کچھ ایسے جملے ہیں، جو مکمل لیکن اَن کہے سے ہیں، مگر ہم اُنہیں بھی مُسکرا کر سُنتے ہیں۔ جیسے ایک ہنستا کھیلتا، لطیفے سُناتا، محفل کی جان بنا شخص، مگر اُس کا دل اندر ہی اندر پرانے زخم کے کریدنے سے خون کے آنسو رو رہا ہو یا کسی بلاوجہ قہقہے لگاتے، ایکسٹروورٹ نظر آنے والے کی اپنی رُوح میں دُور تک ویرانی کا راج ہو۔ اور پھر،جب الفاظ کرب کے بیان کے لیے ناکافی معلوم ہوں، منّت سماجت، صفائیاں، دلیلیں بےمعنی محسوس ہوں، تب خاموشی ہی بطور ہتھیارکام آتی ہے، جو کم زوری کی علامت تو ہرگز نہیں، البتہ معاشرے کے شور میں دبی ایک ان کہی گفتگو ضرور ہے۔

بہ زبانِ افتخار بخاری ؎ دن لڑکھڑاتا ہے… دنیا اپنے سکوت میں ڈگمگاتی ہے… ہر شے قابلِ دید… مگر گریزاں ہے… سب کچھ نزدیک ہے… مگر ناممکن… کتاب، آئینہ، کپڑے… پنجرہ اور پرندہ… اپنے ناموں کے سائے میں بے حرکت… وقت دھڑکتا ہے… میرے سینے میں… لہو کی نہ بدلنے والی… آزردہ تال پر… دھوپ،‌ چھاؤں سے بےنیاز دیوار… مبنی بر وہم تصویروں کے تمثال گھر میں بدل جاتی ہے… مَیں خُود کو اپنی ذات پر پہرہ دیتی… آنکھ کے مرکز میں چُھپاتا ہوں… مَیں سمٹتا ہوں… مَیں بکھرتا ہوں… مَیں فقط ایک وقفہ ہوں… رُکنے اور چلنے کے درمیان… جینے اور مرنے کے درمیان… مَیں ایک آہٹ ہوں… ناقابلِ شنید…مہین پل کے لیے… رات بظاہر بے کنار ہے… پھر بھی مَیں سر کو اُٹھاتا ہوں… آسمان پر ستاروں کی مخفی تحریر… اچانک مجھ پر مُسکراتی ہے… اور اَن جانے میں… مَیں جان جاتا ہوں… کہ مجھے لکھا گیا… مِٹنے کے لیے۔

اپنی بکھری رُوح سمیٹ کر اِس ادھوری زندگی کے ناز اُٹھانے کی خاطر ’’لاسٹ ریزورٹ‘‘ کے طور پر اپنی ذات کو اتنے ٹکڑوں میں بانٹ لینا کہ بسا اوقات ہم خُود بھی بھول جاتے ہیں کہ ہمارا اصل چہرہ کون سا ہے۔ کبھی کسی کی خاطر جلتے تو کبھی دنیا کی خاطر مُسکراتے ہم ہر لمحے ایک نیا ’’پرسونا‘‘ چُنتے ہیں۔ مشہور اطالوی مصنف لوئیگی پیرانڈیلو نے اپنے ڈرامے ’’سکس کریکٹرز ان سرچ آف این آتھر‘‘ میں کہا تھا۔ ’’ہم سب ایک نقاب پہن کرجیتے ہیں، اور وقت کا سب سے بڑا ستم یہ ہے کہ ہم خُود بھی بھول جاتے ہیں کہ اس نقاب کے پیچھے ہم کون ہیں۔‘‘

یہ سارا تضاد اس حقیقت کا عکّاس ہے کہ ہم نے اپنی رُوح کی حفاظت کے لیے ایک ایسا ’’کردار‘‘ تخلیق کر لیا ہے، جو ہر موسم میں مُسکرا سکتا ہے، خواہ اصلی ذات کے موسم اکثر برفانی سردی یا شدید تنہائی ہی کی زد میں کیوں نہ رہتے رہیں۔ بقول امجد اسلام امجد ؎ عجب اصول ہیں اِس کاروبارِ دنیا کے… کسی کا قرض کسی اور نے اُتارا ہے۔

ضروری نہیں، یہ جسم و رُوح، ظاہر و باطن کا فلسفہ آپ بھی ہماری ہی طرح اتنی عمیق گہرائی سےسمجھیں، خُود پرطاری کر لیں۔ آپ ساون بھادوں سےخُوب انجوائے کرتےہوئے بلاجھجک ہماری آج کی بزمِ آرائش و زیبائش سے کہ جس میں ہر لباس اپنی مثال آپ اور ہر انداز حُسن و لطافت کا حسین امتزاج ہے، بھرپور حظ بھی اُٹھا سکتے ہیں۔ تو چلیں، سب سے پہلے دیکھیں، ہلکے زرد رنگ کا ایک شاہ کار، جس پرایمبوزڈ اسٹائل آف وائٹ مشینی کڑھت کا جلوہ ایک سحرانگیز تاثر چھوڑ رہا ہے، جب کہ کام دار شرٹ کے ساتھ کام دار دوپٹے اور اسٹریٹ ٹرائوزر کے انتخاب کے بھی کیا ہی کہنے۔

یوں کہیے، روایت پسندی اور دیدہ زیبی کی یک جائی جوبن پر ہے۔ لائم گرین رنگ میں کوارڈ سیٹ کی ہم رنگ لیس سے مزین فلورل پرنٹڈ شرٹ کے ساتھ بھی اسٹریٹ ٹراؤزر ہی کا انتخاب کیا گیا ہے، جب کہ شیفون کا ہم آہنگ پرنٹ سے آراستہ دوپٹا، پہناوے کی شان ہی نہیں بڑھا رہا، اسے خاصاجدید لُک بھی دے رہا ہے۔ پھرسُرخ و سیاہ کا طلسماتی سنگم بھی کمال ہے، جس میں سفید کڑھت کے نقوش ایک دل فریب تضاد پیدا کر رہے ہیں، تو جدید اندازِ بناوٹ اور نیٹ کے دوپٹے نے بھی پہناوے کا حُسن دو آتشہ کر دیا ہے۔

مسٹرڈ ٹون میں ایک اور دل کش انتخاب دیکھیے، جس کا کٹ ورک اور نفاست سے آراستہ ڈیزائن اِسے جاذبِ نظر بنا رہا ہے،تو سفید ٹراؤزر کے ساتھ توازن سادگی بھری شان و شوکت کاعکّاس ہے۔ اور،سدابہارسیاہ پہناوے کے حسین ترین جلوے کی تو بات ہی الگ ہے۔ شرٹ پر سُرخ و سفید تھریڈ ورک کسی فن پارے سے کم نہیں۔ ٹرائوزر پلین ہے، تو نیٹ کا دوپٹا ایمبرائڈرڈ پیچز کے ساتھ بہت بھلا معلوم ہو رہا ہے۔

ان پہناووں میں سے کوئی سا بھی منتخب کردیکھیں، ستائش کے لیے ایسے کئی اشعار آپ ہی آپ ہوجائیں گے؎ بتاؤں کیا تجھے اے ہم نشیں کس سے محبت ہے… مَیں جس دنیا میں رہتا ہوں، وہ اس دنیا کی عورت ہے… سراپا رنگ و بُو ہے، پیکر حُسن و لطافت ہے… بہشت گوش ہوتی ہیں گہر افشانیاں اس کی… وہ میرے آسماں پر اخترِ صُبحِ قیامت ہے… ثریا بخت ہے، زہرہ جبیں ہے، ماہِ طلعت ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید
جنگ فیشن سے مزید