• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ

ماڈل: حرا وارث

ملبوسات: پریٹی آن لائن کلیکشن بائے میر بابر

آرائش: دیوا بیوٹی سیلون

عکّاسی: عرفان نجمی

لے آؤٹ: نوید رشید

زندگی کا اصل حُسن اور شاید سب سے بڑا المیہ بھی ’’تغیّر و تبدّل‘‘ میں پوشیدہ ہے۔ چیزوں، انسانوں یا جذباتی کیفیات کو ہمیشہ کے لیے ساکت کر کے محفوظ کر لینا، کسی شخص، مقام، یا عہد سے جُڑ کر اُسے اپنا مستقل حصّہ سمجھنا گرچہ خوشی کی وجہ معلوم ہوتی ہو، درحقیقت زندگی کا بہاؤ رُک جانے کا اصل نام موت ہے۔ تعلق کے اختتام پرمحسوس ہونے والی کیفیت کو محض غم کہہ دینا کافی نہیں۔ اُس سمے ایک شخص اپنی ایک پہچان کو کھو دینےکےصدمے سے دوچار ہوتا ہے۔

ویسے توالگ ہوجانے کا خوف عُمربھر ساتھ رہتا ہے۔ ایساسفر، جس کی ابتدا تو خوابوں کی رنگینی، خوشبوؤں کے حصار میں ہوئی، مگر اختتام دشتِ ہجراں کی ویرانیوں پر ہوجائے، تو یہ نقصان ایک فرد کے بچھڑنے کی بجائے زندگی کے اُن تمام تر ارتقائی مراحل کی رائیگانی کا ہے، جن سےگزرتے ہوئے کسی نے اپنی انا، شناخت اور اپنے اندر بسنے والی دنیاؤں کو بدلتا دیکھا تھا۔

بقول محمد افسر ساجد ؎ ہم جو اِک جاں کےسفر پر ہیں رواں برسوں سے… ہم کو معلوم نہیں کب اور کہاں ختم ہو یہ… ہم تو بس تشنہ دہن لب بہ دُعا کشتۂ غم… اپنے ہونے ہی میں گم پڑھ نہ سکے ہیں اب تک… وقت کے بابِ ندامت میں نہاں تحریریں… ان کو پڑھ لیتے تو شاید نہ یوں حیراں ہوتے… اِک تماشے کی طرح وقت پہ عریاں ہوتے… اپنی خواہش کو سرِ بزم نہ رسوا کرتے… اپنے لمحوں کو کسی طور نہ زنداں کرتے۔

بات یہ ہے کہ خُوب صُورت لمحات کو ’’دائمی‘‘ مان لینا بھی ایک خُوب صُورت فریب سے کم نہیں۔ ’’اُس کا لہجہ کتاب جیسا ہے‘‘ جیسے الفاظ پر مشتمل کتابی تعریف یا ’’اور وہ خُود گلاب جیسا ہے‘‘ کی مانند گلابی مدح سرائی زندگی کے حسین رُخ کو ساکت تصویر کی طرح تھام کر رکھنے کی خواہش کا لاشعوری اظہار ہے۔ پر، وقت کے تغیّر سے وہ ’’کتاب‘‘ بند ہو جاتی ہے، تو وہ ’’گلاب‘‘ مرجھا جاتا ہے۔ مستقل تو کچھ بھی نہیں، نہ موسم، نہ جذبات، اور نہ ہی وہ ہستیاں، جن پر زندگی نےخیمے تانے ہوتے ہیں۔

پھر کچھ کو آئینے میں اپنا عکس بھی اجنبی لگنے لگتا ہے، تو کچھ دشتِ تنہائی کے بے راہ راہی ہو جاتے ہیں، حالاں کہ تنہائی وہ واحد مقام ہے، جہاں انسان اپنے آپ سے ملاقات کرتا، اپنے اندر اُٹھنے والے طوفانوں کا سامنا کرنے پر مجبور ہوجاتاہے۔ وہ کیا ہے کہ جب باہرکا جہان خالی ہوتا ہے، تو اندرکی دنیا کے رنگ وجود کےکینوس پر اُترآتے ہیں۔

بلاشبہ، زندگی ایک بہتا دریا ہے اور جو اِس دریا کے ساتھ بہنا سیکھ گئے، وہ منزلوں تک پہنچ گئے۔ بقول فیض احمد فیض ؎ دل ناامید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے… لمبی ہے غم کی شام، مگر شام ہی تو ہے۔ اگرآج ماہِ نا تمام ہے، تو کل نئے سورج کی سحر بھی ہوگی، بشرطیکہ اپنے اندر کے کھنڈر کو پھر سے آباد کرنے کی ہمّت رکھیں۔ نئےگھر کی چھت پرستاروں کا بسیرا اوراس کی دیواروں پر اُمید کی روشنیاں ہوں، تو مکین کو اندھیری راتوں سے بھی ڈر نہیں لگتا۔

’’تغیر و تبدّل‘‘ ہی کی ایک انتہائی حسین صُورت، ہماری ہر ہفتے سجنے والی یہ بزمِ رنگ و انداز بھی ہے۔ تو چلیں، ذرا آج کی محفل پرایک نگاہِ التفات ڈالے لیتے ہیں۔ نارنجی مائل رسٹ کلر کے ساتھ سبز اور زرد کام کی ہم آہنگی نے تو جیسے لباس کے حُسن کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ تب ہی یہ امتزاج روایت و جدّت کا ایک حسین سنگم معلوم ہو رہا ہے۔ کریم رنگ کی پرنٹڈ لانگ شرٹ اور ٹراؤزر پر نیلے اور خاکستری پھولوں کا پرنٹ اپنی سادگی میں بھی ایک خاص وقار لیے ہوئے ہے۔

موسم سے عین ہم آہنگ یہ پہناوا ہلکی پُھلکی تقریبات میں پہننے کے لیے انتہائی موزوں رہے گا، تو لائٹ پنک لیس ورک سے آراستہ لباس اپنی سادہ کڑھت اور دامن، بازوؤں پر لیس کی آرائش کی بدولت خاصا جاذبِ نظر لگ رہا ہے۔ نازک جیولری اورلائٹ میک اَپ کے ساتھ یہ پہناوا دن کی کسی بھی گیدرنگ کے لیے بآسانی منتخب کیاجاسکتا ہے۔

شوخ سُرخ رنگ کے ڈریس کی قمیص کے پورے سامنے کے حصّے پر سنہری رنگ ایمبرائڈری کا جلوہ ہے، تو دوپٹا حسین بلاک پرنٹ سے مزیّن ہونے کے سبب بہت بھلا معلوم ہورہا ہے، جب کہ ساتھ ہم رنگ اسٹریٹ ٹراؤزر کی موزونیت بھی ہے، تو شام کی کسی بھی گیٹ ٹو گیدر کے لیے اِس سے اچھا انتخاب تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔

سدا بہار سیاہ رنگ کی بیس کے ساتھ سفید کڑھت اور گلابی پھولوں کے پرنٹ کی ہم آہنگی میں لانگ شرٹ بھی ایک کلاسک ساانتخاب ہے، جو سیاہ ہی رنگ کے ٹراؤزر کے ساتھ پہن کربہت جدید اوراسٹائلش لُک فراہم کرے گی، جس تقریب کے لیے چاہیں، منتخب کر لیں۔

سچ کہیں، تو یہ تمام ملبوسات اپنی تراش خراش اور رنگوں کے چناؤ میں ایک مکمل اور منفرد مجموعہ پیش کر رہے ہیں، جو کسی بھی عام سے موقعے کو خاص، یادگار بنانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ پہن، اوڑھ کرامجد صاحب کا وہ مصرعہ ؎ ’’گزریں جو میرے گھر سے تو رُک جائیں ستارے…‘‘یاد آجائے، تو سوفی صد justified ہے۔