تحریر: افشاں نوید
مہمان: عروہ راج
عبایا، اسکارفس اور اہتمام: قواریر فیشن / مومنات / میرمن
آرائش: دیوا بیوٹی سیلون
عکاسی: عرفان نجمی
لےآؤٹ: نوید رشید
تیزی سے تبدیل ہوتے وقت و حالات کے ساتھ رہن سہن، پہننے اوڑھنے، بننے سنورنے کے رنگ وانداز تو بہت حد تک بدل سکتے ہیں، مگر ایک چیز برقرار رہتی ہے، اور وہ ہے، ’’حیا‘‘۔ وہ کیا ہے کہ ؎ خمیرمیرا اُٹھا وفا سے…وجود میرا فقط حیا سے۔ تب ہی آج’’حجاب‘‘ صرف سر ڈھانپنے کے لیے استعمال ہونے والا ایک گز، ڈیڑھ گز کا کپڑا نہیں، بہت سی خواتین کے لیے یہ ایک انتخاب، ایک احساس اور اپنی شناخت کے ساتھ جینے کا اطمینان بھی ہے اور شاید اِسی سبب آج حجاب کی دنیا ایک ہی انداز تک محدود نہیں رہ گئی۔
اِس میں رنگوں کی پوری کائنات سموئی ہے، تومختلف اسلوب وانداز بھی ہیں اور ہر عورت اِسے اپنی سوچ اور مزاج کے مطابق اپنا رہی ہے، جب کہ حجاب کی اصل خُوب صُورتی یہ ہے کہ یہ عورت کی شخصیت کو مٹاتا نہیں، منفرد بناتا، اُسے آگے اور آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔ آج کی نوجوان لڑکی اِسے اپنی زندگی اور اپنے ’’اسٹائل اسٹیٹمینٹ‘‘ کے ساتھ جوڑ رہی ہے۔
کوئی کالج، یونی ورسٹی کی طالبہ ہو، ملازمت پیشہ خاتون، محض گھر سے باہر نکلنے کی صُورت اِسےاپنانے والی عام گھریلو خاتون یا تقریبات وغیرہ میں شرکت کے لیے حجاب کرنے والی لڑکیاں، خواتین… مواقع، شخصیات کے ساتھ حجاب کے رنگ وانداز بھی بدلتے دکھائی دیتے ہیں۔ اور یہ تبدیلی اِس بات کی علامت ہے کہ حجاب اور انتخاب ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ حیا کے ساتھ نفاست، سادگی کے ساتھ elegance اور مقصد کے ساتھ تبدیلی بھی ممکن ہے۔
البتہ یہاں ایک فرق سمجھنا ضروری ہے، فیشن کی دنیا میں متعارف کروایا جانے والا ہر حجاب، اسلامی حجاب کے مکمل تصوّر کی نمائندگی نہیں کرتا، کیوں کہ دینِ اسلام میں حجاب صرف سر ڈھانپنے کا نام نہیں بلکہ لباس، نگاہ، گفتگو، چال چلن اور مجموعی حیا سے متعلق ایک وسیع تصور ہے۔ اس لیے کسی انداز کو اپنانے کے ساتھ اس بنیادی مقصد کو بھی نگاہ میں رکھنا ضروری ہے، جس کے لیے حجاب اختیار کیا گیا ہے اور یہی حجاب کی اصل خُوب صُورتی ہے کہ بہرحال پیشِ نظر ’’حیا‘‘ ہی رہے۔ سچ ہے کہ ؎ حُسن بھی حُسن ہے، ملبوسِ حیا ہے جب تک … پُر کشش اور نظر آئے حجابات مجھے۔
چار ستمبر،’’عالمی یومِ حجاب‘‘ ہمیں اس پہلو کی طرف بھی متوجّہ کرتا ہے کہ دنیا کے مختلف حصّوں میں خواتین نے محض حجاب اختیار کرنے کی وجہ سے تعصب اور مخالفت کا سامنا کیا ہے۔ مروہ الشربینی کی الم ناک موت کا واقعہ اسی تعصب کی ایک دردناک مثال ہے۔ یہاں تک کہ حجاب سے متعلق بحث مباحثہ آج بھی دنیا کے مختلف معاشروں میں جاری و ساری ہے، جب کہ عمومی طور پر اِسے عورت کی آزادی کے برخلاف پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن… کیا آزادی کا مطلب صرف ایک طرح کا انتخاب ہی ہے۔
اگر ایک عورت مختصر لباس کے ذریعے اپنی شخصیت اور آزادی کا اظہار کرسکتی ہے، تو دوسری عورت اپنے جسم کو ڈھانپ کر، حجاب اختیار کر کے ایسا کیوں نہیں کر سکتی؟ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ ’’اُس عورت نےحجاب کیوں پہن رکھا ہے؟‘‘ بلکہ پوچھنا یہ چاہیے کہ ’’وہ خُود کو حجاب میں کیسا محسوس کرتی ہے؟‘‘ اگر جواب ہے، پُراعتماد، باوقار اور مطمئن۔ تو اس کے انتخاب کا احترام بھی اُسی آزادی کا حصّہ ہونا چاہیے، جس کا مطالبہ ہر عورت کے لیے کیا جاتا ہے۔ اسلام نے عورت کو حجاب کا حُکم دیا تو اُس کے ساتھ اُسے علم، عزت، ملکیت، معاشی حقوق اور معاشرتی ذمّے داریوں کا حق بھی دیا۔
اسلامی تاریخ میں خواتین معلمات رہیں، محدثین بھی اور تجارت و معاشرت میں فعال کردار ادا کرنے والی بھی۔ حجاب اُن کے علم اور صلاحیتوں کی راہ میں کبھی دیوار نہیں بنا اور آج بھی باحجاب مسلمان عورت زندگی کے مختلف میدانوں میں موجود ہے۔ وہ ڈاکٹر، معلمہ، انجینئر، صحافی، وکیل، سائنس دان ہے، تو کاروبار بھی کرتی ہے اور اپنی بہترین صلاحیتوں کے ذریعے اپنی پہچان بنارہی ہے۔ نیز، اس سب کے ساتھ حجاب بھی اُس کی شناخت کا حصّہ ہو سکتا ہے۔
بقول ڈاکٹر عزیزہ انجم ؎ سر پہ رکھا ہوا پیارا آنچل…رحمتِ رب کا اشارہ آنچل…رشک ِمہتاب و ستارہ آنچل…موجِ ہستی میں کنارا آنچل…میری پہچان، علامت میری…میری تہذیب، روایت میری…میری توقیر، شجاعت میری …میرا ایمان،عبادت میری…میرے شانوں سے یہ لپٹا آنچل… نورونکہت سامہکتا آنچل…میرا زیور، میرا گہنا آنچل… بوئے گل، بادِ صبا سا آنچل…میرا آنچل ہے، حیا کا پرچم…رسمِ تسلیم و رضا کا پرچم…مہروالفت کا، وفا کا پرچم…صنفِ نازک کی بقا کا پرچم…اونچا اڑتا ہے،حیا کا پرچم…ہے یہ ماؤں کی دُعا کا پرچم…بنتِ مریمؑ کی انا کا پرچم…رب کی تعریف وثناء کا پرچم۔
آج حجاب کے رنگ و انداز، اسکارف لینے کے طور طریقے بدل رہے ہیں، لیکن خُوب صُورتی کا اصل معیار شاید اب بھی وہی ہے، جو کسی بھی فیشن کو معنی دیتا ہے، ’’شخصیت‘‘۔ حجاب عورت کے لیے قید نہیں۔ وہ ہنستی بولتی، پڑھتی لکھتی، سفر کرتی، کام پہ جاتی، خواب دیکھتی، فیصلے کرتی اور اپنی زندگی کے مختلف کردار بھی بحسن و خُوبی نبھاتی ہے۔
حجاب اُس کی شخصیت کی امتیازی شناخت ہے اور یہی بات، ہماری آج کی اس بزمِ خاص سے بھی عیاں ہے۔ رنگ الگ، انداز الگ، مگرایک بنیادی احساس ِمشترک حیا اور وقار۔ حجاب، انداز بھی، انتخاب بھی، اور وقار بھی ہے۔ اگر یہ بزم ایک عورت کو حجاب سے متعلق سوچنے، اُسے قبول کرنے یا اُس کے ساتھ خُود کو پُراعتماد محسوس کرنے کی طرف لے جاتی ہے، تو یہ بھی ایک مثبت قدم ہے، کیوں کہ تبدیلی کا سفر ایک دن میں مکمل نہیں ہوتا۔ کبھی آغاز ایک دوپٹے سے ہوتا ہے، کبھی سر پر لیے ہوئے اسکارف سے، کبھی کسی سہیلی کا حجاب دیکھ کر، اور کبھی صرف اس سوال سے کہ ’’کیا مَیں بھی اسے اختیار کر سکتی ہوں؟‘‘