تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ
ماڈل: سحرش حمید
ملبوسات: فائزہ امجد اسٹوڈیو، ڈی ایچ اے، لاہور
آرائش: دیوا بیوٹی سیلون
عکّاسی: عرفان نجمی
لے آؤٹ: نوید رشید
قدیم دَور کا انسان، رات کے سیاہ پردے پر جھلملاتے ستارے دیکھ کر کیا سوچتا ہوگا۔ علم و وسائل کی عدم موجودگی کے سبب اس کے ابتدائی تصورات، مذہبی عقائد، جذبات اور پورا فکری عمل شاید ان ہی آسمانی مناظر کے گرد بُنتا چلا گیا ہوگا۔ زمانوں کی تاریخ تو یہی قصّہ سُناتی ہے کہ اپنے اندر جھانک کر اپنے ہونے کے معنی تلاش کرتے ہوئے اس کی نگاہیں بےاختیار آسمان کی طرف اٹھ گئیں اور اس نے سیاہ چادر پر ٹمٹماتی روشنیوں کو راہ و رسم، عقیدہ و عقیدت، قدرت و تقدیر، شگون و بد شگونی، دُعا و عطا غرضیکہ زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی کا منبع مان لیا۔ سادہ لوگ اور سادہ سی کھوج۔ اور پھر اسی سادگی سے آمادگی پر مائل طبیعتیں اُس دَور کے خالص پن کا خاصّہ تھیں۔
رفتہ رفتہ وقت بدلا، وسائل بڑھ گئے اور سوچ کا زاویہ بھی بدل گیا۔ علوم کے عروج پر کھڑے ہو کر ستاروں کو توّہم پرستی اور تقدیر کے فیصلوں کے دائرے سے نکال کر کہکشاؤں، بلیک ہولز اور سائنسی حقائق کی زبان میں سمجھ تو لیا گیا ہے، پر ہائے یہ دل، کیا کیجیے کہ ہنگامہ خیز دنیا سے تھک کر کسی لمحے میں رات کے کھلے آسمان کے نیچے نگاہ اُٹھے تو آج بھی ایک پرانی سی بات سے جُڑ جاتا ہے۔ گویا دھیمے سُروں میں گنگنانا ہوا، ’’تیرا… میرا… رشتہ پرانا…‘‘
شہروں کی گنجانیت، کنکریٹ عمارات نے تو جیسے اُفق کو بھی قید کر لیا ہے۔ نیون سائنز کی چکاچوند آسمان کا قدرتی حُسن ماند کیے دیتی ہے۔ تعمیرات کے جنگل، ڈیجیٹل اسکرینز، ٹریفک کے دھویں میں بسی اس بستی میں ستارے اب وقت بتانے، موسم کا حال سمجھانے کا ذریعہ تو نہیں رہے، لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں اس مصنوعی ہنگامے اور بے پناہ مصروفیات کے باوجود، جب شہر کا کوئی تھکا ہارا انسان طویل دن کے بعد اپنی کار کی کھڑکی سے باہر دیکھتا یا بالکونی میں کھڑے یونہی نگاہ اُٹھاتا ہے، تو وہ نگاہ کچھ دیر تو پلٹنے سے انکاری ہی ہوجاتی ہے۔
دھویں کے بادلوں سے پرے اِکّا دُکّا نظر آتی مدھم روشنیوں میں ایسا سحر ہوتا ہے کہ مشینی انسان کے دل میں بھی لحظہ بھر کی کسک جگا دیتا ہے اور یہ کسک زمان و مکاں کے اصولوں سے پرے، قدامت سے قدم اُٹھا کر سیدھا دل پہ دھرتی ہے۔ بقول پروین شرما شجر ؎ مانا کہ رات تاروں کو گِننا عجیب ہے… لیکن کسی کو نیند نہ آئے تو کیا کرے۔ گاؤں دیہات کا آسمان البتہ اتنا قریب محسوس ہوتاہے کہ لگتا ہے، ہاتھ بڑھا کر چُھولیں گے۔ یہاں کے مکینوں کو نہ کہکشاؤں کی دُوری کی خبر، نہ بلیک ہولز کی پیچیدہ ریاضی سے کوئی واسطہ۔
کچی پکی چھتوں پر رات کو بنائے بستروں پر لیٹ کر انگلی سے ستاروں کی اَور اشارے، اُن کی گفتگو کرتے سمے صدیوں پرانی وہ حیرت زندہ ہو جاتی ہے، جو پتھر کے دَور کے انسان کے دل میں بھی ہوتی تھی۔ وہ عرفان صدیقی کا ایک خُوب صُورت شعر ہے ناں ؎ ہم تو رات کا مطلب سمجھیں خواب، ستارے، چاند، چراغ… آگے کا احوال وہ جانے، جس نے رات گزاری ہو۔ اور تاروں کا خود کچھ ایسا مزاج کہ شبِ انتظارکی طوالت اوردل کے ویرانوں میں پھیلی تاریکی کو زمانوں کی گردش سے بےنیاز ہو کر محض ایک ہی نگاہ میں کچھ یوں اُجال دیں کہ اندھیرے کا سارا استعارہ ہی بدل کر رہ جائے۔
توچلیں، آج ایسی ہی جگمگاتی، ٹمٹماتی روشنیوں سی اِک محفل پہ نگاہ دھرتے ہیں۔ کیا ہی بات ہے، اِس ڈارک پرپل جوڑے کی، جونفاست اور دل کشی میں اپنی مثال آپ ہے۔ قمیص کے گلے اور دامن پر موجود آتشی گلابی اور گہرے نیلے رنگ کی کڑھت کی بہار دیدنی ہے، تو ساتھ شیفون کے ہم رنگ کٹ ورک بارڈرز سے آراستہ دوپٹے کی ہم آمیزی بھی لاجواب ہے۔ پھر کالے اور نارنجی کے دل رُبا کنٹراسٹ کا بھی کیا ہی کہنا۔ پلین سیاہ پہناوے پر نارنجی رنگ کی ڈیزائننگ غضب ہے، تو کَٹ ورک کی پھبن کا بھی جواب نہیں۔
قمیص کے گلے، آستینوں اور دامن پررنگین پھولوں کے موٹِفس تو گویا شعلۂ جوّالا کے مثل ہیں۔ مطلب، آپ اس پہناوے کو بآسانی پارٹی ویئرز کی کیٹیگری میں رکھ سکتی ہیں۔ پلین گلابی رنگ پہناوے پر آف وائٹ تھریڈ ورک کی حسین و نفیس سی لہریں بھی کیا ہی من موہنا انتخاب ہے۔ لانگ شرٹ کے ساتھ کُھلی فرشی شلوار کا سا اندازفیشن سے ہم آہنگ بھی ہے، تو قدرےجداگانہ بھی اور ساتھ شیفون کے ہم رنگ چیک دار دوپٹے کی موزونیت بھی خوب ہے۔
گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں ہلکا آسمانی رنگ آنکھوں کو بےحد طراوت بخشتا ہے، تو اِسی رنگ کی شیفون کی کلیوں والی لانگ فراک کے ساتھ لیس اورگوٹا کناری کی جاذبیت نے ایک سادہ سے لباس کو ہلکی پُھلکی تقریبات کے لیے موزوں ترین بنا دبا ہے۔ اِسی طرح پیل یلورنگ کی میکسی نما ڈھیلی ڈھالی فراک پررنگ برنگ پھولوں کے بلاک پرنٹ کا جادو بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے، جب کہ گلے، دامن اور آستینوں پر شیشہ ورک سے مرصّع لیس کی آراستگی بھی نہایت حسین لُک دے رہی ہے۔
بھیگے بھیگے ساون بھادوں کی مناسبت سے یہ سارے ہی رنگ و انداز گویا روایت و جدّت کا ایک شاہ کار امتزاج ہیں۔ سج سنور لیں، تو آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر یا چاندنی رات میں چھت پہ ٹہلتے، اپنے ہی عکس کو تکتے تکتے یونہی بےاختیار بھی گُنگنا اُٹھیں تو ہرگز کچھ عجب نہیں۔ ؎ ’’تُو آئے تو گلشن کا حسیں چہرہ نکھرجائے… ہرغنچہ مہک جائے، ہر ایک پتّا سنور جائے… کمہلائے سے پھولوں کا بھی کچھ حال سدھر جائے… باقی رہے قسمت میں کوئی خم نہ کوئی بل… اے بادِ صبا، بادِ صبا، بادِ صبا چل۔‘‘