• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ

ماڈل: انعم

ملبوسات: مینا کار بائے منزہ

آرائش: دیوا بیوٹی سیلون

عکّاسی: عرفان نجمی

کوارڈی نیشن: جرار رضوی

لے آؤٹ: نوید رشید

بظاہر ’’پناہ گاہ‘‘ سے مُراد ایسا مقام ہے، جو موسم و مصائب سے تحفّظ فراہم کرے، جب کہ اردو شاعری و نثر عموماً ’’پناہ گاہ‘‘ کا استعارہ،طوفانِ حیات میں کسی سہارے کی تلاش کے لمحوں کو بیان کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ صوفیانہ روایات میں پناہ گاہ کا تصور چار دیواری سے نکل کر قلب کے اطمینان کی حدوں سے جا ملتا ہے۔ یوں ہر شعبۂ حیات میں پناہ گاہ کا لازمی تصور اپنے اپنے طرز کے ساتھ ہمیشہ سے موجود ہے۔ اور یونہی ایک پناہ گاہ وہ ہے، جو ہر انسان کا مستقل کمفرٹ زون، ایک پکا اور اپنا ٹھکانہ یعنی اپنے اندر کی پناہ گاہ ہے۔

جہاں سے بےدخلی کا کوئی خوف، بےزمینی کی ذلت اٹھانے کی کوئی فکر نہیں۔ دنیا کے شور، انتشار، مایوسیوں سے ذات کا یوں تہہ و بالا ہونا کہ تلافیوں کی امید بھی ختم ہوجائے، تب نفسِ انسانی کی ایک انتہائی گہری کیفیت ’’خُود میں پناہ کی تلاش‘‘ جنم لیتی ہے۔ بقول افتخارعارف ؎ ’’گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں… شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے‘‘۔

ہمارا معاشرہ تو ہمیشہ ظاہری رویے دیکھ کر ہی فیصلے کرتا ہے، جیسا کہ اگر کبھی دماغ جسم کو کسی شدید صدمے سے بچانے کےلیےکوئی ذرا مختلف ردِعمل دے دے، تو وہ معاشرے کے لیے بہت حد تک عجیب اور قابلِ اعتراض ہوتا ہے، مگر ’’مبتلا‘‘ کے لیے وہی ردِعمل اُس وقت گھر کا کام دے جاتا ہے۔ مثلاً : انسان کا کسی صدمے کی کیفیت میں یوں پتھر ہو جانا کہ اُسے سنگ دل سمجھا جائے۔حقیقت کو اتنی شدت سے جھٹلانا کہ اُسے جھوٹا ہی مان لیا جائے۔ ایسے اچانک بے طرح ہنسنا کہ احمق لگنے لگے یا حالات سے بالکل کٹ جانا ، یہاں تک کہ بے حسِ کہلائے۔ مگر یہی عجیب وغریب رویے، شکستگی کے مقابل ڈھال کا کام دیتے ہیں۔

زندگی اندرونی کائنات و بیرونی دنیا پر مشتمل دو متوازی رُخوں کا مجموعہ ہے۔ پہلے رُخ میں ہر شخص باہر کی تپش سے تپ کر سُکون کی تلاش میں رُوح کا رُخ کرتا ہے۔ معاشرتی جبر، معاشی تنگی، ناکامیاں اور اپنوں کی بے رُخی مل کر زندگی کو صحارا کا صحرا بنا دیں، تب ماضی کی کوئی حسین یاد، خلوص سے بھرپور پرانے رشتے کی گرم جوشی، یا بچپن کے محفوظ لمحوں کی یادیں چھتنار پیڑ کی ٹھنڈی چھایا کی مانند چھلنی بدن پر چھا جاتی ہیں۔

دوسرا دل خراش رُخ وہ لوگ ہیں، جو دنیا کے سامنے تو پُرآسائش و پُرسکون ماحول میں تمام ترسہولتیں، عزتیں، کام یابیاں سمیٹے مُسکراتے نظر آتے ہیں، مگر اندر ہی اندر ماضی کے کسی شدید صدمے، دھوکے، پچھتاوے، مَن کی تنہائی نے مستقلاً ایک بھانبھڑ جلا رکھا ہوتا ہے اور یہ اندرونی آگ اور اضطراب، خاموش عذاب کی مانند مسلط ہی رہتا ہے۔ وہ منیر نیازی نے کہا تھا ناں کہ ؎ ’’اِک اور گھر بھی تھا مِرا… جس میں میں رہتا تھا کبھی… اِک اور کنبہ تھا مِرا… بچّوں، بڑوں کے درمیاں… اِک اور ہستی تھی مِری… کچھ رنج تھے، کچھ خواب تھے… موجود ہیں جو آج بھی… وہ گھر جو تھی بستی مِری… یہ گھر جو ہے بستی مِری… اُس میں بھی تھی ہستی مِری…اِس میں بھی ہے ہستی مِری… اور مَیں ہوں جیسے کوئی شے… دو بستیوں میں اجنبی۔‘‘

سو، اِسے المیہ کہیے یا کچھ بھی کہ کبھی انسان باہر کے طوفانوں سے بچنے کے لیے اندر کے سُکون میں پناہ لیتا ہے، تو کبھی باہر کے پُرسکون ماحول کے باوجود اندر کی تپش کا قیدی بن جاتا ہے۔ گویا ان لفظوں کی عملی صورت۔ وہ کیا ہے کہ ؎ ’’ایک رخشِ سنگ تھا آتش کدے کے سامنے… ایک نیلی موم بتی دستِ آہن گر میں تھی… بیچ میں سوئی ہوئی تھی آتش آیندگاں… ایک پیراہن کی ٹھنڈک دھوپ کی چادر میں تھی‘‘۔

تو چلیں، اب ملاحظہ کیے لیتے ہیں، دھوپ چھاؤں سے مزاج جیسی آج کی بزمِ ملبوسات۔ گلابی زمین پرعنّابی پھولوں والے میکسی اسٹائل فراک کا لائٹ جارجٹ فیبرک اِس قدر ہلکا پھلکا، نرم و ملائم ہے کہ دیکھنے ہی میں ہی دل کش و دل نشیں سا تاثر دے رہا ہے۔

گہرے گلابی اورعنّابی گلابوں کا پرنٹ، پف بازواور اسٹائل کٹ… اندازہ ہوتا ہے، کمال کا فیشن سینس ہے۔ اسی طرح ڈارک گولڈن رنگ لانگ فراک کے گلے، آستینوں پر انتہائی نفاست سے گوٹا کناری لیس کی آراستگی ہے۔

یوں تو سادہ سا اندازِ بناوٹ ہے، مگر فیملی دعوت یا کسی روایتی تہوار کے لیے اس لباس کا انتخاب محفل کی جان بنا سکتا ہے۔ لان کے سیاہ رنگ کوارڈ سیٹ پر کِھلے کِھلے رنگ برنگے پھولوں کا دل کش پرنٹ، گلے پہ روایتی نفیس کڑھت کی پٹی اور ساتھ میں کُھلا اسٹائلش ٹراؤزر بھی گویا ایک زبردست کامبی نیشن ہے، تو کالے ہی رنگ میں ریشمی سلک فیبرک کے تھری پیس پرنٹڈ لباس کی گریس کے بھی کیا ہی کہنے۔ اور پھر موسم کی مناسبت سے کاٹن لان فیبرک پر عنّابی رنگ کے روایتی پھول دار پہناوے کا انتخاب بھی خوب ہے کہ گھر کے چھوٹے موٹے فنکشنز، میلاد کی محافل یا دن بھر کے روایتی کاموں کے لیے یہ ڈریس انتہائی باوقار انتخاب ثابت ہوگا۔

سنڈے میگزین سے مزید
جنگ فیشن سے مزید