تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ
ماڈل: تانیہ
ملبوسات: فائزہ امجد اسٹوڈیو، ڈی ایچ اے، لاہور
آرائش: دیوا بیوٹی سیلون
عکّاسی: عرفان نجمی
لے آؤٹ: نوید رشید
کچھ خاص کیفیات میں الفاظ کاساتھ نہ دے پانا، ایک عام سی بات ہے کہ بعض اوقات دنیا بھر کی لغات کےالفاظ بھی عمیق جذبات و احساسات کا احاطہ نہیں کر پاتے۔ جیسے جب دل میں محبّت کا سمندر موجزن، شدّت و حدّت اپنےعروج پر ہو، تو الفاظ کا دامن اکثر چھوٹا پڑجاتا ہے۔ یعنی لامحدود جذبات کے لیے زبان محدود ہے۔
انسانی جذبات تو ہر لمحہ گہرائیاں بدلتے سمندر کی مانند وسیع ہیں، سو جب اندر اُٹھتے طوفانوں کو گرامر کے اصولوں تک قید الفاظ میں ڈھالنے کی کوشش کی جائے، تو یہ خالص جذبات کے مقابلے میں بہت ہی سطحی محسوس ہوتے ہیں۔ اظہار کبھی تجربے کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ بظاہر، لفظ ’’محبّت‘‘ کہہ دینا آسان ہے، مگر اِس کے پیچھے کار فرما تیز دھڑکنوں، منتشر خیالات اور احساسِ سکون وطمانیت جیسے تجربات کو الفاظ میں ڈھالنا قریباً ناممکن ہے کہ لفظ ہمیشہ اِن احساسات کو مکمل طور پر بیان کرنے سےقاصر ہی رہے ہیں۔
بقول حنیف اخگر ؎ اظہار پہ بھاری ہےخموشی کا تکلم… حرفوں کی زباں اور ہے، آنکھوں کی زباں اور۔ اِسی طرح کائنات کی وسعتوں کو دیکھنا، پہاڑوں کی بلندی تکتے یا سمندر کے سامنے کھڑے ہو کر اِس کی گہرائیوں کے مقابل خود کو حقیر محسوس کرنا۔ قدیم غار، جس کی زمین کی تہوں میں وقت نے تاریخ لکھی۔ گرہن میں سورج اور چاند کی پرفیکٹ کائناتی الائنمینٹ، یا گاؤں کےکُھلے میدانوں میں جنّاتی سائز بگولے اپنی آنکھوں سے دیکھنا۔
یہاں ’’خُوب صُورت‘‘، ’’بڑا‘‘ یا ’’ڈرائونا‘‘جیسے الفاظ بہت چھوٹے پڑ جاتے ہیں۔ گرامر گونگی ہو جاتی ہے اور کیفیاتِ حیرت میں کچھ بولتے ہیں، تو محض محسوسات اور ان احساسات کو گر اِک بیاں دیتی ہے، تو وہ ہے ’’خاموشی‘‘ اور پھر عقل اور استدلال کی حدود سے ماورا، ایک لامتناہی اور ماورائی تجربہ یعنی ’’وجد‘‘۔ جہاں دیکھنے والا اور دیکھی جانے والی حقیقت ایک ہی دائرے میں سمٹ آتے ہیں۔ ایسے مشاہدات اور قلبی کیفیات کو الفاظ میں ڈھالنا ایسا ہی ہے، جیسے سمندر کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کرنا۔
تحسین اور ستائش کےزاویے سےدیکھنے پر تو جذبات کا سیلاب الفاظ کے محدود کناروں سے باہر امڈ کر، زمانی و مکانی قید سے نکل کے کائناتی پیمانے پر آ جاتا ہے، جب خاموشی ’’رات‘‘ اور مسکراہٹ ’’صُبح‘‘ جیسی لگتی ہے۔ تو ایسے بہاؤ میں عجب کیا، جو آواز رنگ میں، یاد خوشبو اور خوشبو لمس میں بدلتی لگے۔ گویا ؎ تمھارے پاس آتے ہیں، تو سانسیں بھیگ جاتی ہیں… محبت اتنی ملتی ہے کہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں… تبسّم عطر جیسا ہے، ہنسی برسات جیسی ہے… وہ جب بھی بات کرتی ہے، تو باتیں بھیگ جاتی ہیں… تمہاری یاد سے دل میں اُجالا ہونے لگتا ہے… تمہیں جب گنگناتا ہوں تو راتیں بھیگ جاتی ہیں… زمیں کی گود بھرتی ہے، تو قدرت بھی چہکتی ہے… نئے پتوں کی آہٹ سے بھی شاخیں بھیگ جاتی ہیں… ترے احساس کی خوشبو ہمیشہ تازہ رہتی ہے… تری رحمت کی بارش سے مُرادیں بھیگ جاتی ہیں۔
چلیں بھئی، اب استعاروں اور اشاروں کی زبان میں ہم کلام ہوتی آج کی بزمِ آرائش پر بھی نگاہ کیے لیتے ہیں۔ مشرقی فیشن کے وقار اور رنگارنگی کی بہترین عکّاسی کرتے سُرمئی و نارنجی رنگ پہناوے کی قمیص کے گلے اور فرنٹ کے حصّے پر شوخ و شنگ رنگوں (نارنجی، نیلے، سبز) کے ساتھ دیدہ زیب اور روایتی پیٹرنز کی کڑھت اور پرنٹ ہے، تو ساتھ مماثل، اسکن رنگ کی شلوار منتخب کی گئی ہے، جس کے پائنچے پر سادہ مگر نفیس پلیٹس کا کام موجود ہے، جب کہ لباس کی اصل کشش اُس کا قوسِ قزح سا پرنٹڈ دوپٹا ہے، جس کی سُرخ بیس پر بنا پیچیدہ ملٹی کلرڈیزائن اُسے بہت ہی منفرد سا لُک دے رہا ہے۔
ساون بھادوں سے میل کھاتا گہرے زرد، نیلے، سیاہ رنگوں اور جدید پرنٹنگ کا حامل لباس، اِک نئے موسم کی تازہ کاری،خوش گوار احساس کی ترجمانی کر رہا ہے۔ پیلے رنگ کی قمیص پر پھولوں کے رنگین پرنٹس کے ساتھ، دامن پر سیاہ رنگ کا روایتی بارڈر ہے، تو آستینیں سیاہ رنگ پرنٹ ہی سے آراستہ ہیں۔ قمیص کی شوخی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ساتھ سادہ سیاہ رنگ کی کیولاٹ پینٹ کا انتخاب کیا گیا ہے اور اِس پہناوے کا بھی سب سے منفرد، دل کش جزو، اِس کا جیومیٹریکل پرنٹڈ دوپٹا ہے۔
تیسرے اسٹائل میں، اورنج رنگ کُرتی پر گہرے گلابی رنگ کے پینلز کے ساتھ ایک دیدہ زیب کنٹراسٹ تراشا گیا ہے۔ دامن پر موجود سنہری لیس کی باریک ڈیٹیلنگ اِسے تہواروں کے لیے بھی موزوں بنارہی ہے، تو گہرے گلابی رنگ کی شلوار، قمیص کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں ہے، جب کہ دوپٹے میں نارنجی، گلابی اورسبز رنگوں کا ایک بھرپور امتزاج اور کناروں پر لگی سنہری گوٹا لیس نے لباس کی شان کو گویا ہزار چاند لگا دیئے ہیں۔
گہرے زرد اور آسمانی رنگوں کی میکسی کے دامن پر موجود رِفل یا چُنٹ اُسے جدید فیشن کے رجحانات سے ہم آہنگ کررہی ہے۔ خاص طور پر یہ اسٹائل اُن خواتین کے لیے بہترین ہے، جو سادہ لباس میں بھی اسٹائلش اور منفرد نظر آنا چاہتی ہیں۔
اور…رائل بلیو رنگ پہناوے کی قمیص پر بھورے، نارنجی اور سفید رنگ سے روایتی پیسلے موٹفس کی آراستگی ہے۔ گلے کے حصے پرسادہ بٹن اِسے ایک مکمل مشرقی انداز دے رہے ہیں، تو ہم رنگ شلوار پر چھوٹے پھولوں کا باریک پرنٹ بھی بہت ہی خوش نما تاثر چھوڑ رہا ہے، جب کہ ساتھ کنٹراسٹ میں سادہ نارنجی رنگ دوپٹا ہے، جس نےلباس کا حُسن دو آتشہ کر دیاہے۔ یہ پہناوا روزمرّہ ڈریسنگ، گھر، فیملی کی چھوٹی، ہلکی پُھلکی تقاریب کے لیے بہت موزوں رہے گا۔