• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ، KP بار کونسل نے 19 اکتوبر کو صوبہ بھر میں ہڑتال کا اعلان کردیا

پشاور (نیوزرپورٹر) خیبرپختونخوا بار کونسل نے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدام قرار دیتے ہوئے 19 اکتوبر کو صوبہ بھر میں ہڑتال کا اعلان کردیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کو عدالت میں پیش کرنے یا رہا کرنے اور لاپتہ وکیل امیر اعجاز کو 24 اکتوبر تک عدالت میں پیش نہ کرنے کی صورت میں سخت اقدامات کی وارننگ بھی دی ہے۔یہ اعلان خیبرپختونخوا بار کونسل کے وائس چیئرمین اسفندیار خان اور چیئرمین ایگزیکٹو ملک عماد اعظم ایڈووکیٹ نے جنرل باڈی اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اسفندیار خان نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اس غیر قانونی اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔ بار کونسل اس اقدام کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور سپیکر صوبائی اسمبلی نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، بصورت دیگر انہیں رہا کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ وکیل امیر اعجاز کو 24 اکتوبر تک عدالت میں پیش کیا جائے، بصورت دیگر بار کونسل انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوگی۔اسفندیار خان نے بتایا کہ وکلاء کو ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو گورنر اور انسپکٹر جنرل پولیس سے ملاقات کرے گی تاکہ کسی وکیل کو غیر قانونی طور پر ہراساں نہ کیا جائے۔ اس موقع پر چیئرمین ایگزیکٹو ملک عماد اعظم ایڈووکیٹ نے کہا کہ صوبے میں غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدام کیا گیا ہے۔ بار کونسل کے اجلاس میں تمام وکلاء تنظیموں کے نمائندے شریک تھے اور ارکان کے جذبات شدید تھے، تاہم بار کونسل تمام معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بار کونسل ایک ذمہ دار ادارہ ہے اور وہ ایسے فیصلے کرے گی جن کے دور رس اثرات ہوں گے۔ اس سلسلے میں 24 اکتوبر کو صوبے کی تمام بار ایسوسی ایشنز کے صدور کو اجلاس میں طلب کیا گیا ہے، جہاں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ملک عماد اعظم نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ہوش کے ناخن لے، کیونکہ خیبرپختونخوا ہم سب کا صوبہ ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے گرفتار رہنماؤں اور وکلاء کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔
پشاور سے مزید