• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سکندر پورہ میںدو ماہ قبل کروڑوں کی ڈکیتی میں ملوث بین الصوبائی گینگ بے نقاب

پشاور(کرائمرپورٹر)تھانہ ہشتنگری کے علاقے سکندر پورہ میں دوماہ قبل کروڑوں کی ڈکیتی واردات میں ملوث بین الصوبائی گینگ کو بے نقاب کرلیا گیاجن سے 24تولے سونا، 12لاکھ روپے ودیگر قیمتی اشیاءبرآدم کرلی گئی۔ گینگ کا سرغنہ اور ماسٹرمائنڈ حسن 50سے زائد مقدمات میں مطلوب ہے جبکہ گینگ کے 2کارندے پہلے ہی پولیس مقابلے میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ گزشتہ روز ایس پی سٹی شاہد عدنان نے ڈی ایس پی ہشتنگری وارث خان اورایس ایچ او سلیم خلیل کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران بتایاکہ 19 اگست کو سکندر پورہ میں گھر میں 3مسلح افرادنے گھس کر اسلحہ کے زور پر اہلخانہ کو یرغمال بنایااوروہاں سے لاکھوں مالیت کا سونا،لاکھوں ملکی وغیرملکی کرنسی، 6قیمتی گھڑیاں، کیمرے ، موبائل فونزودیگر سامان لے گئے تھے ۔ملزمان تقریبا ایک گھنٹے تک لوٹ مارکرتے رہے۔ پولیس نے میاں فاروق بشیر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جبکہ سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید کی ہدایات پر تفتیشی ٹیمیں تشکیل دی گئیں جنہوں نے سیف سٹی کیمروں کے ذریعے ڈکیت گینگ تک رسائی حاصل کی۔ایس پی نے بتایاکہ ڈکیتی واردات میں حسن ساکن اوکاڑہ پنجاب، واجد الرحمان ساکن کرک، عدنان اور ابوذر ساکنان دیرکالونی شامل ہیں۔ عدنان اور ابوذر سول کوارٹرسنیچنگ میں بھی ملوث تھے جو واردات کی غرض سے موقع پر موجود تھے اس دوران کراس فائرنگ کے دوران وہ ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔ایس پی نے بتایاکہ ملزم حسن کے والد نے خود مقامی عدالت میں دفعہ164کے تحت اپنے بیٹے کےخلاف بیان دیاکہ وہ اس واردات میں ملوث ہے اور اس نے 24 تولے طلائی زیورات، 6 قیمتی گھڑیاں ، 12 لاکھ روپے ، کیمرے اور دیگر سامان بھی حوالے کیا ۔پولیس کاکہناہے کہ ملزم حسن کیخلاف پنجاب میں تقریبا48،خیبرپختونخوا میں 7اور پشاور میں3 مقدمات درج ہیں جو روپوش ہے ۔ متاثرہ افراد کے مطابق ملزموں نے خود کو حساس ادارے کے اہلکار ظاہر کرکے انہیں یرغمال بنایا۔ واردات کے بعد ملزمان دوالگ الگ موٹرسائیکلوں پربیٹھ کر فرار ہوگئے جبکہ مرکزی ملزم حسن موٹرسائیکل سے اتر کرپیدل فرار ہوگیا۔ پولیس کاکہناہے کہ دوفرارملزموں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں جنہیں جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔
پشاور سے مزید