لاہور ( جنرل رپورٹر ) کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (سی پی ایس پی) کے 59ویں کانووکیشن کے تیسرے مرحلے میں 220 اسپیشلسٹس کو اسناد تفویض کر دی گئیں، جن میں 203 فیلوز (FCPS) اور 17 ممبرز (MCPS) شامل ہیں۔ تقریب ہلٹن کلب، خیبر روڈ پشاور میں منعقد ہوئی، جس کے مہمان خصوصی گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی تھے، جبکہ پروفیسر محمد داؤد خان، پروفیسر ریاض انور خان اور پروفیسر اعجاز حسن خان نے بطور مہمانان اعزاز شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ حکومت سی پی ایس پی کے اشتراک سے ضلعی اور تحصیل سطح پر اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کے لیے نئی آسامیاں پیدا کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ نوجوان ڈاکٹرز کو ملک میں روزگار کے بہتر مواقع ملیں اور برین ڈرین کی روک تھام ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ماہر ڈاکٹروں کی خدمات پشاور تک محدود نہیں رہنی چاہئیں بلکہ ڈیرہ اسماعیل خان، چترال، سوات، بنوں اور دیگر اضلاع کے عوام کو بھی معیاری طبی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ صدر سی پی ایس پی پروفیسر محمد شعیب شفیع نے کہا کہ ادارے کے پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کو برطانیہ، آئرلینڈ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے مختلف ممالک میں تسلیم کیا جا چکا ہے۔ سی پی ایس پی کا مقصد پاکستان میں اعلیٰ طبی تعلیم کو فروغ دینے کے ساتھ اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی خدمات عوام کی دہلیز تک پہنچانا ہے۔ تقریب میں چاروں صوبوں سے سی پی ایس پی کے عہدیداران، کونسل ممبران، سینئر فیلوز اور طبی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اختتام پر صدر سی پی ایس پی پروفیسر محمد شعیب شفیع اور کونسل ممبران نے فیلوز اور ممبرز میں اسناد تقسیم کیں، جبکہ مہمانان خصوصی اور اعزاز کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔