لاہور(خبرنگار) پنجاب ٹیچرز یونین پنجاب کے جنرل سیکرٹری رانا لیاقت علی نے کہا ہےکہ انرولمنٹ ٹارگٹ مقرر کرنے سے قبل ہر تعلیمی ادارے کے ہیڈ سے اس کے وسائل کے مطابق انرولمنٹ ٹارگٹ مقرر کروایا جائے ہر تعلیمی ادارے کے لئے 10 فیصد انرولمنٹ ٹارگٹ پورا کرنا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ سکولوں میں اساتذہ، درجہ چہارم کی کمی اور بنیادی سہولیات کا فقدان ہے جس میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ہر پرائمری سکول سے پانچویں، مڈل سے آٹھویں اور ہائی سکول سے دسویں کے طلباء کا امتحان کے بعد اخراج کے مطابق داخلے کے ٹارگٹ کو بھی پورا کرنا ہیڈز و اساتذہ کی ذمہ داری ہے اور جہاں اساتذہ اور درجہ چہارم موجود نہ ہوں وہاں مزید 10 فیصد انرولمنٹ ٹارگٹ مقرر کرنا اور اس کو پورا کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا، چھٹی کے بعد ہیڈز و اساتذہ کو دفاتر میں طلب کر کے بطور سزا گھنٹوں باہر بیٹھانا ، ملازمت سے برخاستگی کی دھمکیاں دینا دراصل بوگس انرولمنٹ کروانا ہے پہلے کہا گیا کہ بوگس انرولمنٹ فوری ختم کرو لیکن اب پھر غیر حقیقی انرولمنٹ ٹارگٹ مقرر کر کے حکام بالا کو گمراہ کیا جا رہا ہے