لاہور ( جنرل رپورٹر ) گلاب دیوی ٹیچنگ ہسپتال کے امیر الدین وارڈ میں مریض کے خواتین لواحقین کی جانب سے لیڈی ڈاکٹر پر تشدد کے واقعے پر پولیس نے دو خواتین کو حراست میں لے کر انسدادی کارروائی کے بعد عدالت میں پیش کر دیا۔ دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ کے مطابق پھیپھڑوں اور سانس کی بیماری میں مبتلا 38 سالہ مریض ذوالفقار علی دوران علاج دم توڑ گیا، تاہم مریض کے علاج معالجے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی گئی ۔ ترجمان گلاب دیوی ٹیچنگ ہسپتال کے مطابق ذوالفقار علی سات روز سے ڈاکٹر امیر الدین وارڈ میں زیر علاج تھا۔جبکہ ایم ایس گلاب دیوی ہسپتال پروفیسر حامد حسن کے مطابق مریض کو وینٹی لیٹر کی ضرورت پیش آنے پر آئی سی یو کو کال لیٹر بھی بھجوا دیا گیا تھا۔ اسی دوران لیڈی ڈاکٹر زہرہ نے علاج میں دشواری سے بچنے کے لیے خواتین لواحقین کو وارڈ سے باہر جانے کا کہا، جس پر تلخ کلامی شروع ہوگئی۔ ان کے مطابق لیڈی ڈاکٹر کے منع کرنے کے باوجود تین سے چار خواتین نے مل کر ان پر تشدد کیا، جس کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔ذرائع کے مطابق لیڈی ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے بعد ہسپتال کے تمام ڈاکٹرز نے کام چھوڑ دیا تھا جس پر مریضوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اتوار کے روز بھی وارڈز میں روسٹر پر موجود ڈاکٹروں نے احتجاجا کام نہیں کیا ۔علاوہ ازیں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں گلاب دیوی ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر کو دوران ڈیوٹی لواحقین کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنانے کی شدید مزمت کرتے ہوئے اسے پڑھے لکھے معاشرہ کا جاہلانہ فعل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنانا اور انہیں مورد الزام ٹھرانا ایک جاہلانہ سوچ کی عکاسی ہے انہوں نے دھمکی دے ہے کہ اگر منتخب افراد کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا گیا تو وے ڈی اے پنجاب گلاب دیوی ہسپتال میں احتجاج کی کال دے گی دوسری جانب نصیر آباد پولیس نے واقعے میں ملوث دو خواتین کو حراست میں لے کر ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعات 107/151 کے تحت انسدادی کارروائی کی اور انہیں عدالت میں پیش کر دیا